دہشتگرد مقامی سیاسی و انتظامی کمزوریوں سے فائدہ اٹھارہے

دہشتگرد مقامی سیاسی و انتظامی کمزوریوں سے فائدہ اٹھارہے

جنگ میں کامیابی کیلئے سیاسی استحکام، قومی اتفاقِ رائے ،مؤثر داخلی نظام ناگزیر

(تجزیہ:سلمان غنی)

سکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشتگردی کے خلاف جاری کارروائیوں کے جواب میں دہشت گردوں کی حالیہ وارداتیں اس امر کی غمازی کرتی ہیں کہ دشمن محض چند منتشر گروہوں پر مشتمل نہیں بلکہ ایک منظم نیٹ ورک کی صورت میں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے اپنے مذموم ایجنڈے پر عمل پیرا ہے ۔ اس کی تازہ مثال  ٹانک میں فوج اور پولیس کی مشترکہ چیک پوسٹ پر حملہ ہے ، جہاں دہشت گردوں نے پہلے حصار توڑنے کی کوشش کی اور ناکامی پر بارود سے بھری گاڑی چیک پوسٹ کی بیرونی دیوار سے ٹکرا دی۔ شدید دھماکے کے نتیجے میں 12 فوجی جوان، 2 پولیس اہلکار اور محکمہ جنگلات کا ایک افسر شہید ہوگیا، جبکہ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 12 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے ۔یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ دہشت گردوں کا نیٹ ورک پاکستان کے خلاف مسلسل سرگرم ہے اور اس کی جڑیں افغان سرزمین تک پھیلی ہوئی ہیں۔

پاکستان متعدد بار شواہد کے ساتھ عالمی برادری کو آگاہ کر چکا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان پہلے ہی داخلی، علاقائی اور عالمی سطح پر بھاری قیمت ادا کر چکا ہے ، مگر آج بھی اسے اسی خطرے کا سامنا ہے ۔ اس صورتحال کی بڑی وجہ بھارت اور افغانستان کا گٹھ جوڑ قرار دیا جا رہا ہے ، جو پاکستان کی داخلی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے ۔ مسلسل یقین دہانیوں کے باوجود نہ بھارت اور نہ ہی افغان انتظامیہ پاکستان کے تحفظات دور کرنے میں سنجیدہ نظر آتی ہے ۔پاکستان نے ترکیہ، قطر، سعودی عرب، چین اور دیگر دوست ممالک سے بھی افغان سرزمین سے دہشت گردی کے سدباب کیلئے کردار ادا کرنے کی اپیل کی، مگر مختلف سفارتی کوششوں کے باوجود کوئی نمایاں پیش رفت نہ ہو سکی۔ اس کے برعکس، پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بڑھتی ہوئی دوری اور بداعتمادی پر خود چین، روس، قطر، ترکیہ اور سعودی عرب بھی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ پاکستان ہمیشہ افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں رہا ہے ، لیکن افغان انتظامیہ نے اس خواہش کا عملی طور پر مثبت جواب نہیں دیا۔

افغان حکومت بارہا یقین دہانی کراتی رہی ہے کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ پاکستان نے متعدد مرتبہ دہشت گردوں کی موجودگی کے شواہد افغان حکام کے ساتھ شیئر کیے ، لیکن ان کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ نتیجتاً دہشت گرد آزادانہ نقل و حرکت کر رہے ہیں اور پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔افغان امور کے ماہرین کے مطابق افغان انتظامیہ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی اس خوف سے نہیں کرتی کہ ایسا کرنے سے اس کی اپنی بقا خطرے میں پڑ سکتی ہے ۔ دوسری جانب، پاکستان کو جب بھی علاقائی سطح پر سفارتی یا سکیورٹی برتری حاصل ہوتی ہے تو دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے ، خصوصاً وہ علاقے زیادہ متاثر ہوتے ہیں جو افغان سرحد سے متصل ہیں۔ اس تاثر کو بھی تقویت ملتی ہے کہ بھارت کی مالی اور دیگر معاونت دہشت گرد تنظیموں کو فعال رکھنے میں استعمال ہو رہی ہے تاکہ پاکستان کی علاقائی اور عالمی حیثیت کو نقصان پہنچایا جا سکے ۔

دہشتگردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے داخلی سطح پر مؤثر اور مربوط حکمت عملی ناگزیر ہے ۔ سیاسی قیادت، ریاستی اداروں اور تمام قومی قوتوں کو وسیع تر قومی مفاد میں اختلافات سے بالاتر ہو کر دہشت گردی کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔ سیاسی استحکام، قومی اتفاقِ رائے اور مؤثر داخلی نظام کے بغیر اس جنگ میں کامیابی ممکن نہیں۔بلوچستان اور خیبر پختونخوا دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں، جہاں دہشت گرد مقامی سیاسی اور انتظامی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر ریاستی رٹ کو چیلنج کرتے ہیں۔ دہشت گردی کا مقابلہ صرف طاقت یا جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ مضبوط سیاسی، معاشی اور سکیورٹی نظام کے ذریعے کیا جا سکتا ہے ۔ اگر اس خطرے پر قابو نہ پایا گیا تو نہ صرف معاشی ترقی بلکہ سیاسی استحکام بھی متاثر ہوگا۔ موجودہ حالات میں پاکستان کے پاس سرحد پار دہشت گردوں کے مراکز کے بارے میں شواہد، معلومات اور کارروائی کی صلاحیت موجود ہے ۔ پاکستان عالمی برادری کو مسلسل آگاہ کر رہا ہے کہ اس کے خلاف افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے ، اور اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو پاکستان اپنے دفاع اور جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...