منشیات کے ملزمان کا ٹرائل جلد مکمل، شواہد کی بنیاد پر سزائیں دلوائیں : تاخیر پر سپریم کورٹ کا اظہار تشویش
تین سے چار گواہیاں سالوں مکمل نہیں ہوتیں،265گرام چرس کاکیا کریں؟ٹرائل کیوں مکمل نہیں ہوا؟جسٹس نعیم اختر گاڑی خریداری کیلئے رقم منتقل کرنا کیسے جرم ؟ بینک افسر کو کیا معلوم یہ دھماکے میں استعمال ہو گی؟دونوں مقدمات نمٹادیئے
اسلام آباد (کورٹ رپورٹر) سپریم کورٹ نے 265 گرام چرس برآمدگی کے ملزم ندیم عرف چینو کی ضمانت منسوخی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے منشیات کے مقدمات کے ٹرائل میں غیر ضروری تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے دو رکنی بینچ کی سربراہی کی اور استفسار کیا کہ صرف 265 گرام چرس ہے ، کیا کریں؟ اب تک ٹرائل مکمل کیوں نہیں ہوا؟ ریمارکس دیتے ہوئے کہا اے این ایف کے مقدمات میں عموماً تین سے چار گواہ ہوتے ہیں مگر تین سے چار گواہیاں بھی سالوں مکمل نہیں ہوتیں۔ ٹرائل جلد مکمل کرا کے شواہد کی بنیاد پر ملزمان کو سزائیں دلوائی جائیں۔
اگر الزام نسبتاً معمولی ہو اور ٹرائل بروقت مکمل نہ ہو تو عدالتیں قانون کے مطابق ملزمان کو ضمانت دینے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی سے مبینہ تعلق کے مقدمہ میں گرفتار ملزم بلال کی ضمانت منسوخی کی درخواست مسترد کر دی اور استغاثہ سے ملزم اور کالعدم تنظیم کے درمیان تعلق کے شواہد پر سوالات اٹھائے ۔ جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔سرکاری وکیل نے مزید دستاویزات جمع کرانے کیلئے مہلت طلب کی۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیئے کہ آپ نے ملزم کا بی ایل اے سے رابطہ کیسے جوڑ دیا؟ ملزم بینک منیجر ہے صرف گاڑی کی خریداری کیلئے رقم منتقل کرنا کیسے جرم بن سکتا ہے ، بینک افسر کو کیا معلوم گاڑی کسی دھماکے میں استعمال ہو گی، قابل اعتماد شواہد پیش کیے جائیں۔ عدالت نے دونوں مقدمات نمٹا دیئے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments