بھارت:پرچے لیک کرنیوالوں کو10 سال قید، بل منظور
خصوصی عدالتیں، مقررہ مدت میں تحقیقات ، فوری اپیل کا نظام متعارف طلبا احتجاج کے باعث مودی کی مضبوط سیاسی شبیہ کو بڑا دھچکا لگا:تجزیہ کار کاکروچ جنتا پارٹی کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد بی جے پی سے بڑھ گئی
نئی دہلی(اے ایف پی) بھارت کی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں لوک سبھا نے امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف سخت سزاؤں کا بل منظور کر لیا۔ قانون کے تحت پرچہ لیک یا امتحانی دھوکا دہی میں ملوث افراد کو زیادہ سے زیادہ 10سال قید اور ایک کروڑ ڈالر سے زائد جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔ بل حالیہ طلبا احتجاج کے بعد پیش کیا گیا، جس کے نتیجے میں وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہو گئے تھے ۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نئے قانون کے تحت خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتیں، مقررہ مدت میں تحقیقات اور فوری اپیل کا نظام متعارف کرایا جائے گا تاکہ امتحانی نظام میں شفافیت اور طلبہ کا اعتماد بحال کیا جا سکے ۔دوسری جانب طلبا احتجاج کے باعث مودی کی مضبوط سیاسی شبیہ کو بڑا دھچکا لگا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق نوجوانوں کے احتجاج کے بعد حکومت کو کئی مطالبات تسلیم کرنا پڑے ، جو مودی حکومت کے لیے ایک غیر معمولی پسپائی ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 2014 سے اقتدار میں موجود مودی کی مضبوط قیادت کے تاثر کو متاثر کیا ہے ۔تجزیہ کاروں کے مطابق امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج نے بھارتی وزیراعظم اور بی جے پی کی آن لائن برتری کو بھی متاثر کیا ۔ مئی میں شروع ہونے والی کاکروچ جنتا پارٹی تحریک کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد بی جے پی سے بڑھ گئی ہے ۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سوشل میڈیا اب بھارت میں اختلاف رائے کے اظہار کا اہم پلیٹ فارم بن چکا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments