حشد الشعبی کا قیام داعش سے لڑ نے کیلئے عمل میں آیا
آیت اللہ علی السستانی کے فتوے پر بنیا د رکھی گئی ،جنرل قاسم سلیمانی نگر ان تھے
بغداد ( اے ایف پی )امریکا اور سعودی عرب نے بدھ کو عراق میں حشد الشعبی کے ٹھکانوں پر مشترکہ فضائی حملے کیے ۔ یہ شیعہ اکثریتی مسلح گروہوں کا ایک نیٹ ورک ہے جو 2014 میں داعش کے خلاف لڑنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ اس کی تشکیل آیت اللہ علی السستانی (عراق میں شیعہ اسلام کی اعلیٰ ترین مذہبی شخصیت) کے فتوے کے بعد عمل میں آئی تھی۔ ان فورسز کی تربیت بنیادی طور پر ایرانیوں اور تہران کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں نے کی، جنہوں نے 2003 کے امریکی حملے کے بعد امریکی افواج سے جنگ لڑی تھی۔ اس نیٹ ورک کی نگرانی ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سابق سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کرتے تھے ، جو 2020 میں بغداد میں امریکی ڈرون حملے میں جاں بحق ہوئے تھے ۔ 2016 میں ایک قانون کے تحت حشد الشعبی کو عراقی سکیورٹی فورسز میں ضم کر دیا گیا تھا۔ حشد الشعبی میں درجنوں گروپس شامل ہیں، جن میں سے کئی کو امریکا نے بلیک لسٹ اور دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا ہوا ہے ۔ ان تنظیموں کا اثر و رسوخ بڑھ چکا ہے اور ان کے کچھ نمائندے عراقی پارلیمنٹ میں بھی موجود ہیں۔ یہ گروپس زیادہ تر بارود سے لیس ڈرونز، راکٹس اور مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل استعمال کرتے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments