امریکا، ایران کو دوبارہ اسلام آباد معاہدے کی طرف لانے کی کوشش کررہے : پاکستان
چند روزہ سکون کے باوجود سکیورٹی صورتحال تشویشناک،فریقین زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں بات چیت اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد قابلِ عمل راستہ:ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی
اسلام آباد (وقائع نگار)ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا امریکا اور ایران کے درمیان صورت حال کو معمول پر لانے کے لیے مذاکرات جاری ہیں اور پاکستان بھرپور کوشش کر رہا ہے کہ فریقین کو دوبارہ اسلام آباد معاہدے کی طرف لایا جا سکے ۔ پاکستان جنگ بندی برقرار رکھنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے ۔ ہفتہ وار پریس بریفنگ میں انہوں نے کہا پاکستان خلیجی خطے کی موجودہ صورتحال، ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی، فلسطین، شنگھائی تعاون تنظیم اور علاقائی سفارت کاری سمیت متعدد اہم امور پر سرگرم کردار ادا کر رہا ہے ۔ اگرچہ گزشتہ چند روز کے دوران نسبتاً سکون دیکھنے میں آیا، تاہم خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی تشویشناک ہے ۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ تمام تنازعات کا واحد قابلِ عمل حل مذاکرات اور سفارت کاری ہے۔
پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی برقرار رکھنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے اور اس سلسلے میں اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔انہوں نے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں صورتحال کو معمول پر لانے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ پاکستان دونوں فریقوں کو "اسلام آباد مفاہمتی یادداشت " کے تحت دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے تاکہ تمام اختلافات کو اس معاہدے کی روح کے مطابق حل کیا جا سکے ۔ پاکستان نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور 21 جون کے پاکستان۔قطر مشترکہ اعلامیے کے مطابق تکنیکی سطح کے مذاکرات دوبارہ شروع کریں۔
ترجمان نے بتایا کہ 23 جولائی کو وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے بحیرہ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں امن، سلامتی، استحکام اور قانونی بحری تجارت کے بلا تعطل تسلسل کیلئے قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔اس کے بعد 25 جولائی کو نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ صورتحال، پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات اور علاقائی امن کے لیے سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔28 جولائی کو نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے اردن کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ ایمن الصفدی سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں فلسطین کی بگڑتی ہوئی صورتحال، اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت اور مشترکہ سفارتی کوششوں پر اتفاق کیا گیا۔
ترجمان نے کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح کے حالیہ دورۂ اسلام آباد کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، آئی ٹی، زراعت، تعلیم اور صحت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ فلسطین کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ 24 جولائی کو آٹھ عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں بیت المقدس، خصوصاً مسجد اقصیٰ کے حوالے سے اسرائیلی اقدامات کی شدید مذمت کی اور عالمی برادری سے فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ اور بین الاقوامی قانون پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کو مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی کا بھی ٹیلیفون موصول ہوا، جس میں فلسطین کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے فوری جنگ بندی، بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی اور بین الاقوامی قانون کے احترام پر زور دیا۔ترجمان کے مطابق پاکستان اور مصر کے درمیان 21 جولائی کو دسویں سالانہ دوطرفہ مشاورتی اجلاس ورچوئل انداز میں منعقد ہوا، جس میں تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، ثقافت، سائنس اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے اور علاقائی و عالمی امور پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔سائنس ڈپلومیسی کے حوالے سے ترجمان نے بتایا کہ وزارت خارجہ نے کامسٹیک کے اشتراک سے 24 جولائی کو جرنل آف سائنس کمیونیکیشن اینڈ ڈپلومیسی 2026 کا پہلا شمارہ جاری کیا، جو اس اشاعت کا دوسرا سال ہے ۔ جرنل میں سائنس، ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی تعلقات کے موضوعات پر 11 تحقیقی مضامین شامل ہیں، جن میں وزارت خارجہ کے حکام کے سات مضامین بھی شامل ہیں، جبکہ سیکر ٹر ی خارجہ سفیر آمنہ بلوچ کا مضمون بھی اس اشاعت کا حصہ ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments