سپریم کورٹ : 2025 تک سزائے موت، ضمانت مقدمات کا فیصلہ
نئی پالیسی کے تحت 8062کیسز ، 2025تک کی دائر تمام جیل پٹیشنز مقرر فیملی و کرایہ داری 2024، سروس و ٹیکس کے 2018تک کیسز نمٹائے گئے : بریفنگ
اسلام آباد (اے پی پی)سپریم کورٹ میں 21 اپریل 2026 سے نافذ نئی فکسیشن پالیسی کے تحت 29 جولائی تک مجموعی طور پر 8 ہزار 62 مقدمات سماعت کیلئے مقرر کیے گئے جن میں سے 6 ہزار 216 مقدمات نمٹا دیئے گئے ، سزائے موت، بعد از گرفتاری اور قبل از گرفتاری ضمانت کی کیٹگریز میں 2025 تک کے تمام مقدمات کا فیصلہ کر دیا گیا۔ رجسٹرار سپریم کورٹ سہیل لغاری نے بریفنگ میں بتایا کہ یہ پیش رفت تمام زیر التوا مقدمات کی مکمل ڈیجیٹل کیٹگریائزیشن، نئی فکسیشن پالیسی اور عدالتی اصلاحات کے باعث ممکن ہوئی۔سپریم کورٹ اس سے قبل 44 ہزار 995 زیر التوا مقدمات مکمل ڈیجیٹلائز کر چکی ہے جن میں سے 11 ہزار 999 مقدمات نمٹائے گئے۔
کیٹگریائزیشن مکمل ہونے کے بعد نئی فکسیشن پالیسی نافذ کی گئی جس کے تحت سزائے موت، ضمانت، فیملی، کرایہ داری، سروس، ٹیکس، جیل پٹیشنز، ریمانڈ، توہین عدالت اور دیگر ہنگامی نوعیت کے مقدمات ترجیحی بنیاد پر سماعت کیلئے مقرر کیے جا رہے ۔ سزائے موت کے 116 مقدمات نمٹائے گئے اب اس کیٹگری میں 2025 تک کا کوئی مقدمہ زیر التوا نہیں۔ 2024تک فیملی اور کرایہ داری کے تمام مقدمات کا فیصلہ ہو چکا ہے ۔ سروس کے 1 ہزار 407 اور ٹیکس کے 438 مقدمات کا فیصلہ کیا گیا اور دونوں کیٹگریز میں عدالت نے 2018 تک تمام زیر التوا مقدمات نمٹا دیئے ۔ 31 دسمبر 2025 تک دائر تقریباً تمام جیل پٹیشنز مقرر کی جا چکی ہیں او 2026 میں دائر درخواستوں پر سماعت ہو رہی ہے ۔ سپریم کورٹ میں آٹو فکسیشن سسٹم متعارف کرایا جا رہا، مقدمات پالیسی کے مطابق خودکار انداز میں مقرر ہوں گے اور انسانی مداخلت کم سے کم رہ جائے گی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments