ٹرمپ کاحماس کو غیر مسلح کرنے پر معاہدے کا اعلان ،غزہ جنگ بندی پر عملدرآمد کا روڈ میپ جاری

ٹرمپ کاحماس کو غیر مسلح کرنے پر معاہدے کا اعلان ،غزہ جنگ بندی پر عملدرآمد کا روڈ میپ جاری

جیسے جیسے غیر مسلح کرنیکا عمل مکمل ہوتا جائیگا، اسرائیلی افواج غزہ سے انخلا کرینگی، امریکی صدر، 14روز میں ٹائم فریم تیار پھر قومی کمیشن انتظام سنبھالے گا پہلے اسرائیل قتل و غارت بندکرے، حماس،غیرمسلح ہونے تک یلو لائن سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، اسرائیل،2حملوں میں ایک فلسطینی جاں بحق ،کئی زخمی

قاہرہ، واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ قاہرہ میں ثالثوں اور حماس کی قیادت کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں غزہ میں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کو مرحلہ وار غیر مسلح کرنے پر ایک معاہدہ طے پا گیا ہے ۔ تاہم حماس نے اسے محض ایک "ابتدائی مسودہ" قرار دیا ہے ، حماس کے ایک سینئر رہنما نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ میں امن کے لیے اعلان کردہ معاہدے پر عمل درآمد اسی صورت ممکن ہوگا جب اسرائیل پہلے گزشتہ سال طے پانے والے معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے ۔ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا بورڈ آف پیس نے غزہ میں حماس اور دیگر تمام مسلح گروہوں کے مکمل غیر مسلح ہونے کیلئے ایک تاریخی معاہدہ طے کیا ہے ،اس معاہدے پر مرحلہ وار عمل درآمد ہوگا،یہ پائیدار امن اور سلامتی کے قیام کی جانب ایک غیرمعمولی پیش رفت ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے پر عمل درآمد میں ایک اہم سنگِ میل ہے ،اس پر نہایت منظم اور مرحلہ وار انداز میں عمل کیا جائے گا۔

جیسے جیسے غیر مسلح کرنے کا عمل مکمل ہوتا جائے گا، اسرائیلی افواج غزہ سے انخلا کریں گی، جبکہ بین الاقوامی استحکام فورس نئی فلسطینی پولیس کے ساتھ مل کر غزہ میں امن و امان برقرار رکھنے اور اس بات کو یقینی بنانے کی ذمہ داری سنبھالے گی کہ غزہ اپنے شہریوں اور اپنے پڑوسیوں، دونوں کیلئے محفوظ ہو۔یہ معاہدہ اس جانب ایک فیصلہ کن پیش رفت ہے کہ بالآخر غزہ پر ایک نئی فلسطینی حکومت حکمرانی کرے ، جو بورڈ آف پیس کے ساتھ مل کر فلسطینی عوام کی خدمت کرے گی۔ان کا کہنا تھا، اس کے ساتھ اسرائیل کو بھی وہ سکیورٹی حاصل ہوگی جس کا وہ مستحق ہے اور غزہ کو دوبارہ دہشت گرد حملوں کیلئے استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔حماس نے جمعہ کو جاری بیان میں کہا کہ کسی بھی معاہدے کی پہلی شرط یہ ہے کہ اسرائیل قتل و غارت بند کرنے اور غزہ پر اپنے حملے مکمل طور پر روکنے کا پابند ہو۔دوسری جانب ایک اسرائیلی عہدیدار نے کہا کہ اسرائیل کا مؤقف بدستور یہی ہے کہ جب تک حماس حقیقی معنوں میں غیر مسلح نہیں ہوتی، اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) موجودہ ییلو لائن سے کسی بھی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گی۔ ییلو لائن جنگ بندی کے تحت طے کی گئی فوجی حد بندی ہے ۔

ادھر اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کی جماعت جیوش پاور کے سربراہ اور پولیس کے وزیر ایتامار بن گویر نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر معاہدے کے مسودے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ حماس کے رہنماؤں کو ہدف بنا کر قتل کرنے کی اسرائیلی پالیسی جاری رہنی چاہیے ۔امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیل نے 20 نکاتی منصوبے کے تحت غزہ سے اپنی فوج نہیں نکالی تو صدر ٹرمپ ‘بہت مایوس’ ہوں گے ۔ٹرمپ کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی غزہ کے طبی حکام نے بتایا کہ کم از کم دو اسرائیلی فضائی حملوں اور فائرنگ کے واقعات میں ایک فلسطینی جاں بحق جبکہ کئی دیگر زخمی ہوگئے ۔مذاکرات میں شریک حماس کے رہنما غازی حمد نے کہا کہ ان کی تنظیم ایک ایسے معاہدے کو قبول کرنے کیلئے تیار ہے جسے انہوں نے مشکل اور تکلیف دہ قرار دیا۔تاہم انہوں نے غیر مسلح ہونے کی اصطلاح استعمال کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ یہ ایک جامع فریم ورک ہے ، جس پر عمل درآمد کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اسرائیل پہلے شرم الشیخ معاہدے کے پہلے مرحلے پر مکمل عمل کرے ۔ان کے مطابق اس معاہدے کے تحت اسرائیل غزہ پر حملے بند کرنے ، اپنی افواج کو اکتوبر میں طے شدہ پوزیشنوں تک واپس لے جانے اور غزہ میں اشیائے ضروریہ اور امدادی سامان کی فراہمی میں نمایاں اضافہ کرنے کا پابند ہے ۔

غازی حمد نے کہا کہ اس کے بعد ہی حماس اپنے ہتھیار غزہ کے انتظام کیلئے قائم کی گئی فلسطینی ٹیکنوکریٹک باڈی نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ (این سی اے جی) کے حوالے کرے گی، جہاں انہیں صرف محفوظ رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا، ہم نے ثالثوں پر زور دیا ہے کہ اسرائیل کو معاہدے کی مکمل پابندی کرنا ہوگی۔ٹرمپ کے بورڈ آف پیس نے 15 نکاتی روڈ میپ بھی جاری کیا ہے ، جس میں اسرائیل، حماس اور دیگر فلسطینی دھڑوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ شرم الشیخ معاہدے پر مکمل عمل کریں، خصوصاً غزہ میں فوجی کارروائیوں کا خاتمہ یقینی بنائیں۔دستاویز میں غزہ کے سول انتظام کی ذمہ داری این سی اے جی کو منتقل کرنے کے مراحل بیان کیے گئے ہیں۔ اس کے مطابق کمیٹی بھاری ہتھیاروں، اسلحہ سازی کی تنصیبات، اسلحہ کے ذخائر اور سرنگوں کو غیر فعال کرکے محفوظ رکھنے کے عمل کی نگرانی کرے گی۔دستاویز میں کہا گیا ہے کہ یہ عمل غزہ میں اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں سے مرحلہ وار انخلا کے ساتھ منسلک ہوگا، جبکہ کوئی بھی ہتھیار اسرائیل یا کسی غیر فلسطینی فریق کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔

روڈ میپ کے مطابق 14 روز میں ٹائم فریم تیار ہونے کے بعد ایک قومی کمیشن غزہ کے انتظامی اور شہری امور سنبھالے گا۔این سی اے جی نے روڈ میپ سے متعلق گزشتہ روز ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے تیار ہے ۔یورپی یونین، جرمنی اور برطانیہ، جو مستقبل میں غزہ کی تعمیر نو کے ممکنہ مالی معاونین ہو سکتے ہیں، نے بھی اس اعلان کا خیرمقدم کیا۔دوسری جانب مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں تل کے رہائشیوں نے بتایا ہے کہ جمعہ کو اسرائیلی فوج نے کم از کم ایک فلسطینی کو گولی مار کر زخمی کر دیا، کم از کم تین افراد کو گرفتار کر لیا اور گاؤں کے تمام داخلی راستے بند کر دئیے ، جبکہ 100 سے زائد اسرائیلی آبادکار گاؤں کی جانب مارچ کرتے ہوئے پہنچ گئے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...