مراکش سے 60ہزار تارکین وطن سپین میں داخل ،34جاں بحق

مراکش سے 60ہزار تارکین وطن سپین میں داخل ،34جاں بحق

سیوٹا میں جو کچھ ہوا وہ علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی ،غیر قانونی تارکین کی واپسی کا عمل تیز کیا جارہا:ہسپانوی وزیراعظم غیرقانونی تارکین وطن کی آمدپر اٹلی نے سپین کے ساتھ شینجن معاہدہ معطل کردیا،سفرکیلئے پاسپورٹ دکھانا لازمی قرار

سیوٹا(مانیٹرنگ ڈیسک)مراکش سے تقریباً 60 ہزار غیر قانونی تارکین وطن سرحد عبور کرکے سپین میں داخل ہوگئے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز مراکش سے غیر قانونی تارکین وطن نے سپین کے شہر سیوٹا میں غیرقانونی داخلے کی کوشش کی اور تقریباً  60 ہزا ر افراد سمندر اور زمینی راستے سے سیوٹا میں داخل ہوئے ۔رپورٹ کے مطابق ہسپانوی حکام کا بتانا ہے کہ تارکین وطن کے سیوٹا میں غیرقانونی داخلے کی کوشش کے دوران واقعات میں اب تک 34 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔ اس حوالے سے ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے کہا ہے کہ گزشتہ روز سیوٹا میں جو کچھ ہوا وہ سپین کی علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی تھا، انسانی سمگلنگ کے گروہ سپین کی سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کرکے غیرقانونی ہجرت کو فروغ دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیوٹا میں غیرقانونی طور پر داخل ہونے والے تارکین وطن کی وطن واپسی کا عمل تیز کیا جا رہا ہے اوراس سلسلے میں تعاون پر مراکشی حکام کے شکر گزار ہیں۔

واضح رہے سپین کے شہر سیوٹا اور میلیلا افریقہ اور یورپی یونین کے درمیان واحد زمینی سرحدی علاقے ہیں، جہاں تارکینِ وطن کی جانب سے یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ادھرغیرقانونی تارکین وطن کی آمدپر اٹلی نے سپین کے ساتھ شینجن معاہدہ عارضی طور پر معطل کردیا۔اٹلی کی وزارتِ داخلہ کے مطابق اس فیصلے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فضائی یا بحری سفر کرنے والے افراد کو اب اٹلی میں داخلے کے لیے پاسپورٹ دکھانا ہوگا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...