نئے انتظامی یونٹس ناگزیر، صوبوں کی تقسیم کو غداری قرار دینا قبول نہیں : خالد مقبول
بنیادی اصلاحاتی اقدامات کا وقت آ گیا ،نئے صوبوں سے متعلق ایم کیو ایم کا بل اسٹینڈنگ کمیٹی میں بھیجا جا چکا پاکستان کو منڈی بنانیوالوں کا احتساب ضروری، نئے انتظامی یونٹس کیلئے ریفرنڈم، کل جماعتی کانفرنس کا مطالبہ
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان ہم سب کا ہے اور چاروں صوبے اس کا حصہ ہیں، جبکہ تمام صوبوں میں رہنے والے شہری برابر کے حقوق رکھتے ہیں۔کراچی میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا ایم کیو ایم پاکستان نے ہمیشہ عوام کے حقوق کی بات کی ہے اور ملکی وقار پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا، عوامی مسائل کے حل کے لیے ملک میں نئے انتظامی یونٹس بننے چاہئیں، ایم کیو ایم نے سب سے پہلے نئے صوبوں کے قیام کے لیے آواز بلند کی، جبکہ صوبوں کی تقسیم کا تقاضا آئین پاکستان کرتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا نئے صوبوں سے متعلق ایم کیو ایم کا بل اسٹینڈنگ کمیٹی میں بھیجا جا چکا ہے اور انتظامی ضرورت کے مطابق نئے صوبے بنائے جائیں۔ انہوں نے کہا ایسی جمہوریت کا کوئی فائدہ نہیں جس کے ثمرات عام آدمی تک نہ پہنچیں۔
انہوں نے ملک میں کرپشن کو معیشت کا بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب بڑے اور بنیادی اصلاحاتی اقدامات کا وقت آ گیا ہے ۔انہوں نے مزید کہا پاکستان کو خطے اور دنیا میں اہم مقام حاصل ہو رہا ہے اور علاقائی امن کے قیام میں اس کی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ، پوری مسلم دنیا کی نظریں پاکستان پر ہیں، ایسے میں ملک کو مضبوط اور مؤثر انتظامی نظام کی ضرورت ہے ۔اب آگے بڑھنے کا وقت ہے ۔ پاکستان کو بچانے اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا موقع موجود ہے ۔انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے پاکستان کو منڈی بنایا ان کا احتساب ضروری ہے ، صوبوں کی تقسیم کو غداری کہنے والا سب سے بڑا غدار ہے ، اگر کوئی صوبے کی تقسیم کو غداری سمجھتا ہے تو اس کے ذہن میں کچھ اور چل رہا ہے مگر ہم پاکستان کو بچائیں گے ۔
انہوں نے نئے انتظامی یونٹس کیلئے عوامی ریفرنڈم اور کل جماعتی کانفرنس کے انعقاد کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ صوبوں کی تقسیم کو غداری قرار دینے والا خود قومی مفاد کے خلاف بات کر رہا ہے ، پاکستان ناقابل تقسیم وطن ہے جبکہ آبادی کے تناسب سے نئے انتظامی یونٹس کا قیام آئینی و انتظامی ضرورت بن چکا ہے ، ایم کیو ایم پاکستان نے ہمیشہ انتظامی بنیادوں پر نئے یونٹس کے قیام کی بات کی ہے ، نہ کہ لسانی یا نسلی تقسیم کی، پاکستان دھرتی ماں ہے اور چاروں صوبے اس کا حصہ ہیں، کسی کو بھی سندھو دیش بنانے کی اجازت نہیں دیں گے ، ہم پاکستان کو مضبوط اور مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں، ملک بھر کی تاجر برادری بھی آج انہی نکات کی تائید کر رہی ہے جنہیں ایم کیو ایم برسوں سے اٹھاتی آ رہی ہے ۔
ون یونٹ کے خاتمے کے بعد صوبائی ڈھانچہ مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکا، اس لیے بڑھتی آبادی اور انتظامی ضروریات کے مطابق نئے انتظامی یونٹس قائم کیے جانے چاہئیں۔موجودہ آئینی طریقہ کار میں اصلاحات کی ضرورت ہے ، اسی مقصد کے لیے ایم کیو ایم قومی اسمبلی میں آئینی ترمیم بھی پیش کر چکی ہے ۔ پاکستان میں موجودہ صوبے لسانی بنیادوں پر قائم ہیں جبکہ وقت کا تقاضا ہے کہ انتظامی سہولت اور عوامی خدمت کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے انتظامی یونٹس تشکیل دیے جائیں۔چیئرمین ایم کیو ایم نے کہا ماہ آزادی کے موقع پر بھرپور انداز میں تقریبات کا انعقاد کرینگے ۔ انہوں نے کہا ایم کیو ایم پاکستان کو حکومت یا ایوانوں کی ضرورت نہیں بلکہ حکومتوں کو ایم کیو ایم کی ضرورت ہوتی ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا پاکستان میں آبادی کے تناسب سے انتظامی یونٹس قائم کیے جائیں تاکہ عوام کو بہتر طرز حکمرانی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے ۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ملک میں نئے انتظامی یونٹس بننے اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جانے چاہئیں تاکہ عوام کے بنیادی مسائل حل کیے جا سکیں، عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے ، مضبوط اور بہتر انتظامی ڈھانچے کے ذریعے عوام کو سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان کے نئے انتظامی ڈھانچے کا خاکہ پیش کیا، جسے زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے سراہا ہے ۔ ایم کیو ایم پاکستان بھی چیمبر آف کامرس کی معاشی سمٹ کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کا خیرمقدم کرتی ہے ۔ ان کا کہنا تھا ملکی معاشی بہتری اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مثبت تجاویز پر عملدرآمد ضروری ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments