بارشوں،سیلاب سے تباہی،مختلف واقعات میں11افراد جاں بحق،بیسیوں زخمی

بارشوں،سیلاب  سے  تباہی،مختلف  واقعات  میں11افراد  جاں  بحق،بیسیوں  زخمی

پنڈ دادنخان 2نوجوان، بلتستان میں 2 طالبعلم، سندھ میں 7افراد نے دم توڑا، مانسہرہ میں لڑکی طغیانی کی نذر مانجھوٹی کینال میں شگاف، درجنوں دیہات زیرآب، دیر بالا میں پل اور گاڑی بہہ گئی، سیاح اور مسافر پھنس گئے

اسلام آباد ، کھیوڑہ، اوگی، کراچی، لاہور (نمائندگان دنیا، دنیا نیوز،نیوز ایجنسیاں)ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں، پنجاب، گلگت بلتستان اور سندھ کے مختلف اضلاع میں بارشوں کے دوران مختلف واقعات میں 11افراد جاں بحق جبکہ بیسیوں زخمی ہو گئے ۔ حیدرآباد میں حیسکو کے 285 فیڈرز بند ہونے سے بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی، بلوچستان میں درجنوں گیارہ ہزار کے وی کے بجلی کے کھمبے زمین بوس ہوگئے ، پنجاب سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں آج ہلکی بارش کا امکان ہے ۔تفصیلات کے مطابق مختلف شہروں میں بارش اور سیلاب سے تباہی مچ گئی، پنڈ دادنخان کے علاقہ ٹوبہ میں ڈھوک فتح آباد کے قریب بند ٹوٹنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 18 سالہ محسن اور 13 سالہ اخلاق گڑھے میں جمع برساتی پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے ۔ادھر گلگت بلتستان میں شاہراہ سکردو پر چھومک پل کے قریب یونیورسٹی کے 2 طالبعلم دریائے سندھ میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے ۔ مانسہرہ کی تحصیل اوگی کے نواحی گاؤں بھٹو بانڈی میں شدید بارش کے دوران 18 سالہ لڑکی برساتی نالے میں بہہ گئی۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق اقراء پانی بھرنے گئی تھی ،اس کی تلاش کا آپریشن شروع کر دیا گیا۔ علاوہ ازیں سندھ کے علاقہ تھرپارکر میں آسمانی بجلی گرنے کے مختلف واقعات میں 3 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک شخص پانی میں ڈوبنے سے جاں بحق ہوا،2 افراد بارش کے باعث بننے والے گڑھوں میں گرنے کے نتیجے میں جاں بحق ہوئے ۔ ضلع عمرکوٹ میں بھی بارشوں کے دوران پانی میں ڈوب کر ایک شخص جاں بحق ہوگیا ، مختلف واقعات میں 2 افراد زخمی بھی ہو گئے ۔

ادھر بلوچستان میں ڈیرہ مراد جمالی بختیارآباد، نوتال، لانڈھی ،جھل مگسی ،بھاگ ،سبی، لہڑی، چھتر، فلیجی، تمبو، میرحسن ،مانجھوٹی ،ڈیرہ بگٹی، سوئی، پیر کوہ اور دیگر علاقوں میں اتوار کو علی الصبح تیز آندھی کے ساتھ موسلادھار بارشوں نے تباہی مچادی ،درجنوں گیارہ ہزار کے وی کے بجلی کے کھمبے زمین بوس ہوگئے جس سے سینکڑوں علاقے تاریکی میں ڈوب گئے ، مکانات کی چھتیں دیواریں گرنے سے 22 سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے جبکہ مانجھوٹی کینال کو شگاف پڑنے سے درجنوں دیہات زیرآب آگئے اور کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں ، سینکڑوں افراد بے گھر ہو گئے ۔ دریں اثناء پختونخواکے علاقہ دیر بالا میں طوفانی بارشوں کے باعث ندی نالوں میں سیلابی ریلے ،مین شاہراہ ہر قسم کی ٹریفک کیلئے مکمل بند کر دی گئی،مسافر اور سیاح مختلف مقامات پر پھنس گئے ، ایک گاڑی بھی سیلابی ریلے میں بہہ گئی۔ وادی کالام کے علاقے لال گلیشیئر چوکی مٹلتان کی حدود میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مہوڈنڈ روڈ ہر قسم کی آمدورفت کیلئے عارضی طور پر بند ہوگئی۔ علاوہ ازیں محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب کے شمال مشرقی اور وسطی اضلاع میں ہلکی بارش کا امکان ہے جبکہ دیگرعلاقوں میں موسم گرم و مرطوب رہے گا،گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران لاہور سمیت مختلف شہروں میں مطلع ابرآلود اور موسم گرم مرطوب رہا تا ہم بعض مقامات پر بارش ریکارڈ کی گئی۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کا چوتھا سلسلہ 5 اگست تک جاری رہنے کا امکان ہے ۔دوسری طرف نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے آج سے 4 اگست کے دوران ملک کے بڑے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ کا امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیرآباد کے مقام پر نالہ پلکھو میں درمیانے درجے ، سندھ میں نچلے ، چناب میں مرالہ پر اونچے ، خانکی اور قادرآباد پر نچلے ،دریائے جہلم، راوی، کابل اور معاون دریاؤں میں بھی نچلے اورملحقہ ندی نالوں میں درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کا امکان ہے ۔ این ڈی ایم اے نے نشیبی شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ اور بارش کا پانی جمع ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...