پنشن مستقل حق،برطرف ملازمین کی سابقہ سروس کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا:سپریم کورٹ
خیبر پختونخوا سیکڈ ایمپلائز ایکٹ 2012کے تحت بحال ملازمین سینیارٹی، ترقی اور بیک بینیفٹس کے حقدار نہیں:تفصیلی فیصلہ نان و نفقہ کے تعین میں بچے کی ضروریات، والد کی مالی استطاعت کو مدنظر رکھا جائیگا:عدالت، سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار
اسلام آباد (اے پی پی)سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ پنشن ایک مستقل قانونی اور آئینی حق ہے اسے بیک بینیفٹس کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا جا سکتا، برطرف ملازمین کی سابقہ سروس کو پنشن کیلئے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے خیبر پختونخوا حکومت اور برطرف تھیالوجی اساتذہ کی دائر سول پٹیشنز پر تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ خیبر پختونخوا سیکڈ ایمپلائز (اپائنٹمنٹ) ایکٹ 2012 کے تحت بحال ملازمین سینیارٹی، ترقی اور بیک بینیفٹس کے حقدار نہیں تاہم قانون میں سابقہ سروس کو پنشن کیلئے شمار کرنے پر کوئی واضح پابندی موجود نہیں۔ بیک بینیفٹس سے مراد برطرفی کے دوران تنخواہوں، الاؤنسز اور دیگر مالی واجبات ہیں جبکہ پنشن ایک الگ قانونی حق ہے جو ریٹائرمنٹ پر حاصل ہوتا ہے ، دونوں کو ایک زمرے میں نہیں رکھا جا سکتا۔ پنشن بڑھاپے میں مالی تحفظ فراہم کرنے کا ذریعہ ہے اور حکومت یا کوئی محکمہ واضح قانونی اختیار کے بغیر کسی ملازم کو پنشن یا پنشنری مراعات سے محروم نہیں کر سکتا۔ 2012 کا قانون برطرف ملازمین کے ساتھ ناانصافی کے ازالے کیلئے بنایا گیا تھا۔
علاوہ ازیں جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کے نان و نفقہ کا تعین کرتے وقت بچے کی معقول ضروریات، والد کی مالی استطاعت، آمدن اور سماجی حیثیت کو مدنظر رکھا جائے گا جبکہ نچلی عدالتوں کے مقررہ نان و نفقہ کی رقم میں مداخلت صرف اسی صورت میں کی جا سکتی ہے جب فیصلہ واضح طور پر من مانی، غیر معقول یا قانون کے خلاف ہو۔ عدالت نے شاہین نواز کی اپیل کی اجازت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپیلیٹ کورٹ اور ہائیکورٹ نے والد کی آمدن، مالی وسائل، کفالت کی دیگر ذمہ داریوں اور بچے کی ضروریات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد نان و نفقہ مقرر کیا۔
درخواست گزار نچلی عدالتوں کے فیصلوں میں قانونی خامی، شواہد کا غلط جائزہ یا اختیارات کا ناجائز استعمال ثابت نہیں کر سکیں۔ مزید برآں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ عدالت میں وکیل کی جانب سے دی گئی رضامندی اور بیان سے موکل پابند ہوتا ہے اور بعد ازاں محض یہ موقف اختیار کرنا کہ وکیل نے اجازت کے بغیر رضامندی دی عدالتی حکم ختم کرانے کیلئے کافی نہیں۔ ضابطہ دیوانی کی دفعہ 12(2) کے تحت کسی عدالتی حکم کو صرف اسی صورت میں کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے جب فراڈ یا غلط بیانی کے واضح، ٹھوس اور قابلِ اعتماد شواہد موجود ہوں محض عمومی الزامات قانونی طور پر ناقابل قبول۔ جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے تفصیلی فیصلہ میں محمد اشرف کی درخواستِ اجازتِ اپیل مسترد کر دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار نے ہائیکورٹ کی مہلت سے مکمل فائدہ اٹھایا، سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے میں کوئی قانونی یا دائرہ اختیار سے متعلق خرابی نہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments