آئی ایم ایف سستی بجلی کی اجازت نہیں دے رہا:وزیر توانائی
سولر پیداوار 38 ہزار میگاواٹ ،گرڈ کے استحکام کیلئے بیٹری انرجی سٹوریج ناگزیر ہے :اویس لغاری قومی بیٹری انرجی سٹوریج سٹیئرنگ کمیٹی قائم ، بیٹریوں کی مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینگے :خطاب
اسلام آباد(نامہ نگار،ا ے پی پی، مانیٹرنگ ڈیسک )وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے کہا کہ آئی ایم ایف ہمیں مخصوص اوقات میں سستی بجلی فراہمی کی اجازت نہیں دے رہا، ملک میں سولر پاور کی استعداد 38 ہزار میگاواٹ کے قریب پہنچ چکی ۔ پاکستان کو آج بجلی پیدا کرنے کا مسئلہ درپیش نہیں، ہمارے پاس بجلی کی اضافی پیداوار موجود ہوتی ہے ، اصل مسئلہ اس اضافی سولر توانائی کو محفوظ کر کے شام کے اوقات میں استعمال کے قابل بنانا ہے ، یہی وہ فلیکسیبلٹی ہے جس کی آج ہمیں سب سے زیادہ ضرور ت ہے ۔ بیٹری انرجی سٹوریج سسٹمز بجلی کی ترسیل اور گرڈ کے استحکام کے لیے ناگزیر ہیں۔ درآمدی ایندھن پر انحصار پاکستان کی معیشت اور توانائی سلامتی کے لیے خطرہ ہے ۔ قومی بیٹری انرجی سٹوریج سٹیئرنگ کمیٹی قائم کر دی ہے ، پاکستان میں بیٹریوں کی درآمد نہیں بلکہ مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دیا جائے گا۔
پاکستان کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت عائد بعض پابندیاں حکومت کو بجلی کے نرخوں کا ایسا لچکدار اورمارکیٹ پر مبنی نظام متعارف کرانے سے روک رہی ہیں جس کے ذریعے بجلی کی لاگت میں کمی، بیٹری سٹوریج کے فروغ اور ملک میں صاف توانائی کی جانب منتقلی کے عمل کو تیز کیا جا سکتا ہے ۔سولر، سٹوریج اور فلیکسیبلٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ پاکستان توانائی کے شعبے میں تاریخی تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے ۔ ملک میں سولر پاور کی استعداد 38 ہزار میگاواٹ کے قریب پہنچ چکی ہے ۔ پاکستان میں اب بجلی کی پیداوار نہیں بلکہ بجلی کے مؤثر استعمال اور ذخیرہ کرنے کا چیلنج درپیش ہے ۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ مقامی ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی کا ہر یونٹ پاکستان کی توانائی خودمختاری کو مضبوط کرتا ہے ، سورج اور ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی وہ اثاثے ہیں جنہیں نہ کوئی عالمی تنازع متاثر کر سکتا ہے اور نہ ہی کسی بیرونی منڈی کا اتار چڑھاؤ، تاہم بیٹری انرجی سٹوریج ان ذرائع کو حقیقی معنوں میں قابلِ اعتماد بناتا ہے ۔
بیٹری انرجی سٹوریج سسٹمز صرف گرڈ کے توازن کا ذریعہ نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی اور توانائی سلامتی کا اہم ستون ہیں۔ پاکستان کی بجلی کا تقریباً 55 فی حصہ پہلے ہی پن بجلی، نیوکلیئر، ہوا اور شمسی توانائی سمیت صاف ذرائع سے حاصل ہو رہا ہے ، حکومت کا واضح ہدف ہے کہ2035 تک اس تناسب کو 90 فیصد تک پہنچایا جائے ، صرف قابلِ تجدید توانائی کی استعداد بڑھانے سے یہ ہدف حاصل نہیں ہوگا، اگر بیٹری سٹوریج اور گرڈ فلیکسیبلٹی میں متوازی سرمایہ کاری نہ کی گئی تو ہر نئی سولر یا ونڈ صلاحیت گرڈ کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گی، اس لیے بیٹری سٹوریج اس پورے سفر کا بنیادی ستون ہے جو ہمارے اہداف کو قابلِ عمل، قابلِ اعتماد اور سرمایہ کاری کے لیے پرکشش بناتا ہے ، صاف توانائی میں سولر کے بعد اگلا باب حکومت، ریگولیٹرز، صنعت، سرمایہ کاروں اور ترقیاتی شراکت داروں کو مل کر بیٹری سٹوریج اور فلیکسیبلٹی کے ذریعے رقم کرنا ہوگا۔ وزارتِ صنعت و پیداوار بیٹری انرجی سٹوریج سسٹمز کی مقامی مینوفیکچرنگ پالیسی کو حتمی شکل دے رہی ہے جس کے ذریعے مقامی سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ حکومت نے اس شعبے میں مؤثر پیش رفت کے لیے قومی بیٹری انرجی سٹوریج سٹیئرنگ کمیٹی قائم کر دی ہے جس کی سربراہی مجھے سونپی گئی ہے ، اس کے ساتھ ٹیکنیکل اور ریگولیٹری ورکنگ گروپس بھی تشکیل دئے گئے ہیں تاکہ بیٹری سٹوریج کے لیے واضح مارکیٹ، مؤثر ضوابط اور سرمایہ کاری دوست فریم ورک تیار کیا جا سکے ،اسی سلسلے میں ڈسکوز میں بیٹری سٹوریج کے پائلٹ منصوبوں کی منظوری بھی دی جا چکی ہے تاکہ عملی تجربات کی بنیاد پر مستقبل کی پالیسی اور ریگولیشن تشکیل دی جا سکے ۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ساتھ ہی حکومت ایک جامع قومی بیٹری انرجی سٹوریج فریم ورک پر بھی کام کر رہی ہے جس میں حفاظتی معیارات، گرڈ کنکشن، تکنیکی تقاضوں اور سرمایہ کاروں کے لیے واضح قواعد و ضوابط شامل ہوں گے ،اس کے لیے ہمیں اپنے ترقیاتی شراکت داروں کی تکنیکی معاونت، سرمایہ کاروں کے اعتماد، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں کے تجربے اور پاکستانی انجینئرز و صنعتکاروں کی صلاحیتوں کی ضرورت ہے ۔ وزیرتوانائی نے عا لمی سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کی سفارشات براہِ راست حکومتی پالیسی سازی کا حصہ بنیں گی، نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس ملک میں بجلی ہوگی وہی ترقی کرے گا، غیر علانیہ لوڈ شیڈنگ سے طلبہ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، غریب گھرانے سستی اور قابلِ استطاعت توانائی سے محروم ہیں، سولر درآمدات سے سٹوریج میں اضافہ ہوگا، نیٹ میٹرنگ سے لوگ گرڈ کو بجلی بیچ سکیں گے ، سولر کی وجہ سے اب تک 12 ارب ڈالر کی بچت ہوئی ہے ، رواں سال مزید 6.3 ارب ڈالر بچنے کی امید ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments