گورننس مضبوط،اختیارات نچلی سطح تک منتقل ،عوامی نمائند وں کو بااختیار بنانا ہوگا:گول میز کانفرنس
بہتر طرزِ زندگی میسر نہ ہو تو جمہوری نظام پر اعتماد متاثر ہوتا:ملک احمد ،کامیاب ماڈلز سے رہنمائی لی جاسکتی:عمران اسماعیل صوبوں کی تقسیم مسائل کا مستقل حل نہیں:لیاقت بلوچ،کراچی مسلسل مسائل کا شکار،لاہور ترقی کی نئی مثال:وسیم اختر اتفاقِ رائے کی سیاست کو فروغ دیں:احسن بھون، محسن نقوی ٹھیک تھے ، سسٹم فیل ہوگیا،ماحول میں گھٹن ہے :محمد زبیر
لاہور(خبر نگار،سیاسی نمائندہ)سیاستدانوں، ماہرین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے "لیکن نظام کیا؟" کے عنوان سے گول میز کانفرنس میں گورننس، آئینی نظام، بلدیاتی اداروں اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا وقت کی ضرورت ہے کہ گورننس کو مضبوط کریں، اختیارات نچلی سطح تک منتقل کئے جائیں اور عوامی نمائندوں کو بااختیار بنایا جائے ۔ یونیورسٹی آف لاہور کے زیر اہتمام گول میز کانفرنس میں قائم مقام گورنر ملک احمد خان اور سابق وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ نے بطور مہمانان خصوصی شرکت کی۔ قائم مقام گورنر پنجاب ملک محمد احمد خان نے کہا کہ آئین کے مطابق ایگزیکٹو اختیارات منتخب نمائندوں کے پاس ہونے چاہئیں، مگر کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود آئین کی روح پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ مضبوط جمہوریت کے لیے منتخب نمائندوں اور مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانا ناگزیر ہے ۔
انہوں نے کہا کہ اگر عوام کو بنیادی سہولیات اور بہتر طرزِ زندگی میسر نہ ہو تو جمہوری نظام پر اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے ۔ ان کے مطابق صحت، صفائی اور بلدیاتی خدمات جیسے شعبوں میں بہتری وقت کی اہم ضرورت ہے ۔سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ ماضی میں فوجی ادوار میں بلدیاتی نظام پر زیادہ توجہ دی گئی، جبکہ جمہوری حکومتیں آتے ہی مقامی حکومتیں غیر مؤثر ہو جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نظام میں تبدیلی اگر کرنی ہے تو وہ وسیع مشاورت اور جامع بحث کے بعد ہونی چاہیے ، نئے تجربات کے بجائے دنیا کے کامیاب ماڈلز سے رہنمائی لی جا سکتی ہے ۔نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا کہ مسائل کا حل آئین پر مکمل عملدرآمد، بااختیار پارلیمنٹ، آزاد عدلیہ اور مضبوط مقامی حکومتوں میں ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کی تقسیم مسائل کا مستقل حل نہیں بلکہ اختیارات کی مؤثر منتقلی ضروری ہے ۔سابق میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ بلدیاتی نظام کئی دہائیوں سے کمزور ہے اور سیاسی جماعتیں اسے مؤثر انداز میں چلنے نہیں دیتیں۔ ان کے مطابق کراچی مسلسل مسائل کا شکار ہے جبکہ لاہور ترقی کی نئی مثال بن چکا ہے ۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے احسن بھون نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو قومی مفاد میں برداشت اور اتفاقِ رائے کی سیاست کو فروغ دینا چاہیے ۔ انہوں نے تعلیم کے شعبے میں پاکستان کو درپیش چیلنجز کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اہم قومی معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا وقت کی ضرورت ہے ۔سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا محسن نقوی نے بالکل صحیح کہا، اگر آج ہم سسٹم کیسا ہونے کی بات کر رہے ہیں تو محسن نقوی ٹھیک تھے ،میرا بھی یہی ماننا ہے کہ سسٹم فیل ہوچکا ہے ۔میری ارباب اختیار سے درخواست ہے کہ میں اسٹیبلشمنٹ کی گائیڈ لائنز کے بغیر بات ہی نہیں کرسکتا۔بلوچستان میں جوان شہید ہورہے ہیں لیکن ہم بات نہیں کر رہے ۔ملک کی اکانومی کہا ں پہنچ چکی ہے کبھی سوچا؟12 کروڑ لوگ خط غربت سے نیچے ہیں، سندھ میں کسی نے کہا سکیورٹی ہمارا ایشو نہیں ہمارا مسئلہ دو وقت کی روٹی ہے ۔ہم ارادتاً ہر سال بجٹ میں تعلیم کا بجٹ کم کرکے مزید لوگوں کو بنیادی تعلیم و سہولیات سے محروم کررہے ہیں۔ہم خوف اور ڈر میں رہتے ہیں یا پھر ہمیں مکمل پاور چاہیے ، رات کے اندھیرے میں ٹھپے لگتے رہے ۔2019 میں باجوہ کی ایکسٹینشن کے موقع پر ہر پارٹی نے ووٹ کیا وجہ سب میں ڈر کی موجودگی تھا۔ماضی میں ہم ایوب خان کے پیچھے چلتے رہے اور اسی طرح دیگر ڈکٹیٹرز کے پیچھے چلتے رہے ۔کیا یہ صحیح ہے کہ پورا نظام صرف ایک بندے کے پیچھے چلتا رہے ؟ماضی میں کھل کر ڈائیلاگ ہوتا تھا، مشرف کے دور میں بھی بحث ہوتی تھی آج آپ بالکل بات نہیں کرسکتے ماحول میں گھٹن ہے ۔
طریقہ ایک ہی ہے جو قائد اعظم نے بتا دیا، صاف شفاف الیکشن ہونا چاہیے ، سروے کروا لیں 98 فیصد لوگ الیکشن کے بارے میں اور عدالتی نظام کے بارے کیا رائے رکھتے ہیں؟آخر کیا وجہ ہے ہم پورے ریجن میں سب سے پیچھے ہیں، میری نظر میں جو سسٹم کو روک رہے ہیں وہ اصل ذمہ دار ہیں۔آج کوئی سسٹم کی ناکامی قبول کرنے کی ذمہ داری قبول نہیں کررہا تو پھر سسٹم کس نے تباہ کردیا ؟کانفرنس میں سابق وزرا اسد عمر، فواد چودھری، خورشید قصوری، سینیٹر علی ظفر، جسٹس (ر)انوارالحق پنوں، جسٹس (ر) شاہد جمیل،سینئر صحافی مجیب الرحمٰن شامی، سہیل وڑائچ ،حفیظ اللہ نیازی، سلمان غنی،اجمل جامی و دیگر نے بھی شرکت کی۔گول میز کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ شرکا اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ نظامِ حکمرانی کو بہتر بنانے کیلئے مختلف آئینی اور انتظامی ماڈلز تجویز کیے گئے ہیں، جن میں نئے صوبوں کا قیام، آئینی طور پر بااختیار مقامی حکومتوں کا قیام، اور ڈویژنل انتظامیہ کو مضبوط بنانا شامل ہے ۔ کانفرنس اس مرحلے پر کسی ایک ماڈل کی حمایت نہیں کرتی، تاہم سفارش کرتی ہے کہ ہر تجویز کا اس کی آئینی، انتظامی، مالیاتی اور سیاسی بنیادوں پر غیرجانبدارانہ جائزہ لیا جائے ۔کانفرنس نے مزید اس بات پر زور دیا کہ دیرپا اصلاحات صرف سیاسی استحکام کے ماحول میں ہی ممکن ہیں۔ اسی مقصد کے تحت کانفرنس نے تمام سیاسی جماعتوں، بشمول تحریکِ انصاف اور اس کے بانی عمران خان، کے درمیان جلد از جلد ایک جامع قومی مکالمے کے آغاز کا مطالبہ کیا تاکہ نظامِ حکمرانی میں اصلاحات کے مستقبل کے حوالے سے قومی اتفاقِ رائے پیدا کیا جا سکے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments