سوشل میڈیا پر سابق اہلیہ کی بدنامی، ملزم کو ساری زندگی جیل میں ہونا چاہیے: سپریم کورٹ

سوشل میڈیا پر سابق اہلیہ کی  بدنامی، ملزم کو ساری زندگی جیل  میں ہونا چاہیے: سپریم کورٹ

اسلام آباد (کورٹ رپورٹر) سپریم کورٹ نے سابق اہلیہ کی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے کے گرفتار ملزم صفدر عرفان کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران سخت ریمارکس دیتے ہوئے قرار دیا کہ ایسے ملزم کو ضمانت نہیں دی جا سکتی جس کے بعد ملزم کے وکیل نے درخواست واپس لے لی۔

 تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیئے کہ کیا لوگوں میں ایف آئی آر پڑھنے کی ہمت ہے ؟ ملزم نے خاتون کو ملک میں رہنے کے قابل نہیں چھوڑا، خاتون کی شائستگی ہی اس کا پردہ ہوتی ہے ، ایک مقدس رشتے کو پامال کیا۔ جسٹس شکیل احمد نے کہا ملزم نے طلاق لینے پر سابقہ بیوی کے خلاف یہ سب کچھ کیا۔ ملزم کے وکیل نے کہا خاتون دبئی میں مقیم اور ملزم چھ ماہ سے جیل میں ہے ۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیئے کہ ملزم کو تو ساری زندگی اندر رہنا چاہیے ، کون سا اچھا کام کیا ہے ۔ عدالت نے قرار دیا کہ ملزم کے قبضے سے موبائل فون برآمد ہوا، ایسے ملزم کو ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ علاوہ ازیں جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں بینچ نے ساہیوال سی ٹی ڈی کی جانب سے ایک خاندان کو قتل کرنے کے مقدمے میں درخواست گزار کے وکیل ذوالفقار بھٹہ کو مزید تیاری اور متعلقہ دستاویزات جمع کرانے کیلئے مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے استفسار کیا کہ کیا مقتولین کے ورثا میں سے کوئی عدالت میں موجود ہے ؟ وکیل نے کہا موجودہ حالات میں متاثرہ خاندان کیلئے سامنے آنا مشکل ہے ۔ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیئے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد کیا سپریم کورٹ کے پاس ایسا اختیار ہے ؟ وکیل نے کہا عدالت آئین کے آرٹیکل 187 کے تحت فیصلہ دے سکتی ہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...