صدر زرداری کا اسلام آباد سے غائب ہونا الارمنگ
سندھ میں طویل موجودگی سے ناراضی ظاہر، کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
(تجزیہ:سلمان غنی)
آزاد کشمیر کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں ن لیگ کی جیت کے بعد سے بلاول بھٹو زرداری ن لیگ کو ٹارگٹ کرتے نظر آ رہے ہیں۔ دوسرے مرحلے کے نتائج سے وہ اور بھی سیخ پا ہو گئے اور انہوں نے ن لیگ کے خلاف کھلا اعلانِ جنگ کر دیا اور الٹی گنتی کے ساتھ احتجاجی تحریک کی دھمکی بھی دے ڈالی۔ ابھی تیسرے مرحلے میں پونچھ ڈویژن کا انتخاب ہونا ہے ، جس کی اہمیت زیادہ نہیں رہی۔جہاں تک دھاندلی کے الزام کا تعلق ہے تو ہمارا سیاسی المیہ یہ ہے کہ کوئی بھی جماعت انتخابات میں شکست کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ کشمیر کے انتخابی عمل کا جائزہ لیا جائے تو یہ گلگت بلتستان سے زیادہ مختلف نہ تھا، اور وہ پیپلز پارٹی کو اس لیے قابلِ قبول رہا کہ یہاں اکثریتی جماعت وہ رہی۔کشمیر کے انتخابات سے پہلے ہی عام تاثر یہی تھا کہ کشمیر کا انتخابی معرکہ مسلم لیگ (ن) جیتے گی۔ بلاول بھٹو زرداری کشمیر کے انتخابی نتائج پر اتنے سیخ پا کیوں ہیں؟ اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ شاید یہ سمجھتے تھے کہ وفاقی حکومت کو دباؤ میں رکھتے ہوئے گلگت بلتستان والا تجربہ دہرائیں گے اور یہاں بھی پیپلز پارٹی کا پرچم لہرائیں گے ، لیکن الٹا ہوا۔البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ دونوں بڑی اتحادی جماعتوں کے ذمہ داران کے ایک دوسرے کے خلاف بیانات نے درجۂ حرارت بہت بڑھا دیا۔ جہاں تک اب بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کی الٹی گنتی کا سوال ہے تو اس کا کھلا اور واضح جواب یہی ہے کہ دونوں اس وقت حکومتی کشتی پر سوار ہیں۔ اگر ن لیگ کی الٹی گنتی شروع ہے تو ان کی الٹی گنتی بھی ہوگی، کیونکہ دونوں ایک ہی بندوبست کے تحت مسندِ اقتدار پر موجود ہیں۔ویسے بھی اگر پیپلز پارٹی کی سیاست اور فیصلہ سازی کے عمل کا جائزہ لیا جائے تو یہاں فیصلہ سازی میں حتمی اختیار صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے پاس ہے اور وہ فیصلے سوچ سمجھ کر حالات کے مطابق کرتے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ چونکہ پارٹی کے چیئرمین ہیں، لہٰذا اپنی پارٹی کے مفادات اور خصوصاً اپنی جماعت اور کارکنوں کی حوصلہ افزائی کے لیے وہ جذباتی انداز اختیار کرتے نظر آتے ہیں۔ ماضی میں بھی انہوں نے انتخابات سے قبل ن لیگ کی قیادت کو براہِ راست ٹارگٹ کرنا شروع کیا اور اپنی وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار ہونے کے سگنل دئیے تو یہ آصف علی زرداری تھے جنہوں نے کہا تھا کہ انہیں نہیں معلوم کہ انہوں نے جس ٹکٹ پر انتخاب لڑنا ہے ، اس پر میرے دستخط ہوں گے ۔غالباً آصف علی زرداری کو معلوم تھا کہ نئے بندوبست میں وہ صدرِ مملکت ہوں گے اور شہباز شریف وزیراعظم ہوں گے ۔ اب بھی جب بلاول بھٹو زرداری ن لیگ پر برستے نظر آ رہے ہیں تو ن لیگ کی قیادت ان کے اس طرزِ عمل سے صرفِ نظر برتتے ہوئے اپنی جماعت کے ذمہ داران کو یہ پیغام دے چکی ہے کہ صبر اور حوصلے سے کام لینا ہے اور کسی سیاسی محاذ آرائی میں الجھنا نہیں۔دونوں بڑی جماعتیں اپنی سیاسی ترجیحات پر قائم رہتے ہوئے بعض معاملات پر اکٹھی ہیں۔ یہ نہیں ہوگا کہ وزیراعظم شہباز شریف گھر جائیں اور پیپلز پارٹی مسندِ اقتدار پر رہے ۔ کوئی بھی ایک دوسرے کو گرانے یا بنانے کی غلطی نہیں کرے گا اور نہ ہی ایسی فیصلہ سازی چاہے گا جس سے حکومتی بندوبست کو نقصان پہنچے ۔البتہ اس وقت صدر زرداری کا 5 جولائی کے بعد سے اب تک سندھ میں موجود ہونا الارمنگ ہے ۔ صدرِ مملکت کا اتنے طویل عرصے سے اسلام آباد سے غائب رہنا ظاہر کرتا ہے کہ وہ کسی بات پر ناراض ہیں۔ اگر ایسا ہے تو کس سے ناراض ہیں اور کیوں؟ اس حوالے سے خود حکومت کو ضرور دیکھنا ہوگا، اس لیے کہ اس سسٹم کے اصل ضامن وہی ہیں۔ مطلب یہ کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments