پی ٹی آئی لانگ مارچ ، حکومت معاملات طے کرنے کی خواہاں

پی ٹی آئی لانگ مارچ ، حکومت معاملات طے کرنے کی خواہاں

حکومت اسلام آباد میں داخل نہیں ہونے دیگی ، پی ٹی آئی مارچ کی تیاریوں میں مصروف جے یو آئی ،پی ٹی آئی کیساتھ بیانات کی حد تک کھڑی ، مارچ میں شرکت کا امکان کم

(تجزیہ: سلمان غنی )

 پی ٹی آئی 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے حوالے سے پرعزم نظر آ رہی ہے جبکہ وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ سے قبل پی ٹی آئی کی قیادت سے رابطہ کیا جائے گا، تاہم مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا جبکہ دوسری جانب پی ٹی آئی بھی لانگ مارچ کی بھرپور تیاریوں میں مصروف ہے ۔ اطلاعات کے مطابق حکومت مخالف تحفظات رکھنے والے مولانا فضل الرحمن  سے بھی پی ٹی آئی کے رابطے جاری ہیں اور ان سے تعاون طلب کیا جا رہا ہے ۔پی ٹی آئی کی لانگ مارچ کے حوالے سے سنجیدگی اس لیے بھی نظر آ رہی ہے کہ اس کی اب تک کی حکمت عملی سے بانی پی ٹی آئی کو کوئی بڑا سیاسی فائدہ حاصل ہوا اور نہ ہی رہائی کی کوئی صورت پیدا ہوئی۔ اب حکومت پر دباؤ سے زیادہ خود وزیراعلیٰ پختونخوا سہیل آفریدی پر جماعتی دباؤ ہے ، جس مقصد کے تحت علی امین گنڈا پور کو ہٹا کر سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ بنایا گیا تھا، وہ تاحال پورا نہیں ہوا۔

ابتدا میں سہیل آفریدی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے بھرپور مزاحمت کرتے دکھائی دئیے ، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ وہ حالات سے سمجھوتا کرتے نظر آئے ۔ جماعت کے اندرونی بحران اور بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کے احتجاجی کردار نے بھی ان کے لیے مشکلات بڑھا دیں۔اسی صورت حال میں سہیل آفریدی اب عملی طور پر کچھ کر دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ پختونخوا حکومت 20 لاکھ افراد کو ہدف بنا کر اسلام آباد لانے کی تیاری کر رہی ہے ۔ صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان بھی بڑے دعوؤں اور بیانات کے ذریعے سیاسی ماحول گرم کیے ہوئے ہیں۔ تاہم یہ دعوے عملی شکل اختیار کرتے ہیں یا نہیں، اس کا اندازہ ستمبر کے آغاز میں ہی ہو سکے گا۔حکومت فی الحال لانگ مارچ کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لے رہی اور اسے پی ٹی آئی کی سیاسی بقا کی کوشش قرار دیتی ہے ، لیکن اگر پی ٹی آئی احتجاجی ماحول پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئی تو حکومت کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ اسلام آباد میں مظاہرین کے داخلے کے حوالے سے ریاستی ادارے واضح کر چکے ہیں کہ دارالحکومت میں امن و امان خراب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ تاہم تجربہ یہ بھی بتاتا ہے کہ مظاہرین کی تعداد ایک خاص حد سے بڑھ جائے تو انتظامی اقدامات کے ذریعے صورت حال کو قابو میں رکھنا مشکل ہو سکتا ہے ۔

اسی لیے امکان ہے کہ حکومت لانگ مارچ سے قبل ہی سیاسی معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرے ۔ بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ کی ان سے ملاقات اور بعض دیگر ریلیف اقدامات کے ذریعے دباؤ کم کیا جا سکتا ہے ۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بھی وفاقی ذمہ داران سے رابطوں کا اعتراف کر چکے ہیں، اس لیے مذاکرات کے ذریعے کسی درمیانی راستے کی گنجائش موجود ہے ۔جہاں تک پنجاب اور سندھ کا تعلق ہے تو فی الحال وہاں پی ٹی آئی کی جانب سے کوئی بڑی سرگرمی دکھائی نہیں دے رہی۔ وزیراعلیٰ پختونخوا نے پنجاب میں رابطہ عوام مہم چلانے کا اعلان کیا ہے ، لیکن پنجاب حکومت کی انتظامی حکمت عملی اور پی ٹی آئی کی کمزور تنظیمی موجودگی کے باعث اس پر عمل درآمد آسان نہیں ہوگا۔مولانا فضل الرحمن کے ساتھ اتحاد کے امکانات بھی محدود دکھائی دیتے ہیں۔ وہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے نالاں ضرور ہیں، لیکن اپنی سیاسی قوت کو ایسی تحریک کا حصہ بنانے سے گریز کریں گے جس میں نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہو۔ اس لیے پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے درمیان بیانات کی حد تک قربت ممکن ہے ، مگر لانگ مارچ میں عملی شرکت مشکل نظر آتی ہے ۔حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا امکان بہرحال موجود ہے ، تاہم اس کے لیے حکومت کو پہل کرنا ہوگی۔ فی الحال لانگ مارچ کی حتمی سمت کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے ، تاہم آنے والے چند ہفتے ملک کی سیاسی صورت حال کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...