مکہ دفاعی معاہدہ : ڈار کا ایرانی ، سعودی وزرائے خارجہ سے رابطہ ، ہمیں پریشان ہونیکی ضرورت نہیں سکیورٹی پر خطے کے ممالک کی امریکا کے بارے میں سوچ بدل گئی : ایرانی وزارت خارجہ

 مکہ دفاعی معاہدہ : ڈار کا ایرانی ، سعودی وزرائے خارجہ سے رابطہ ، ہمیں پریشان ہونیکی ضرورت نہیں سکیورٹی پر خطے کے ممالک کی امریکا کے بارے میں سوچ بدل گئی : ایرانی وزارت خارجہ

نائب وزیراعظم نے عباس عراقچی کو معاہدے کے اہم خدوخال سے آگاہ کیا، فیصل بن فرحان کا قریبی تعاون جاری رکھنے کا عزم،کویتی وزیرخارجہ کی مبارکباد ایرانی شطرنج کے ماہر کھلاڑی ثابت:بقائی،خارگ سے تیل کی ترسیل رک گئی:امریکی میڈیا، ایران سے جنگی نقصانات کا معاوضہ طلب کرینگے :ٹرمپ،تیل مہنگا

اسلام آباد(وقائع نگار)نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایران،سعودی عرب اور کویت کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے مکہ دفاعی معاہدے ،خطے کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔اسحاق ڈار نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے گفتگو کرتے ہوئے انہیں پاکستان، سعودی عرباور ترکیہ کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے اہم خدوخال سے آگاہ کیا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان سٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط بنانا اور علاقائی امن و سلامتی کے فروغ میں کردار ادا کرنا ہے ۔دونوں وزرائے خارجہ نے بالخصوص خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور امن و استحکام کے فروغ کیلئے جاری کوششوں پر تفصیلی بات چیت کی۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے معاہدے کے اہم پہلوؤں سے آگاہ کرنے پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا شکریہ ادا کیا۔دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر گفتگوکی، اس دوران باہمی دلچسپی کے امور، کثیرالجہتی تعاون اور علاقائی صورتحال سمیت مختلف اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ دونوں وزرائے خارجہ نے دوطرفہ سطح کے ساتھ ساتھ کثیرالجہتی فورمز پر بھی مسلسل قریبی رابطے ، باہمی تعاون اور ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیا۔دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے معاملات پر قریبی تعاون اور رابطے کو مزید جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔اسحاق ڈار نے کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے بھی ٹیلیفون پر گفتگو کی ۔ کویتی وزیر خارجہ شیخ جراح نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو مبارکباد دی۔دونوں وزرائے خارجہ نے علاقائی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا، جس میں مقبوضہ مشرقی یروشلم کی صورتحال بھی شامل تھی۔ گفتگو کے دوران پاکستان اور کویت کے دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے کویتی وزیر خارجہ کے حالیہ دورئہ پاکستان کے بعد ہونے والی پیشرفت اور اہم شعبوں میں باہمی تعاون و سرمایہ کاری کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔دونوں جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ باہمی رابطے اور قریبی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

اسحاق ڈار نے جمہوریہ کانگو کے صدر فیلکس انطوان تشیسکیدی تشیلومبو اور گنی بساؤ کے سابق صدر جنرل عمرو سیسوکو ایمبالو سے مشترکہ طور پر ٹیلیفونک گفتگو کی۔گفتگو کے دوران نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے خدوخال اور اس کی اہمیت سے دونوں رہنماؤں کو آگاہ کیا۔اسحاق ڈار نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔نائب وزیراعظم اور صدر فیلکس تشیسکیدی نے پاکستان اور جمہوری جمہوریہ کانگو کے باہمی تعلقات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی اہمیت پر اتفاق کیا، جس میں اعلیٰ سطح وفود کے تبادلے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا شامل ہے ۔اسحاق ڈار نے صدر فیلکس تشیسکیدی اور کانگو کے عوام کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔دریں اثنا اسحاق ڈار سے پاکستان میں آذربائیجان کے سفیر خضر فرہادوف نے الوداعی ملاقات کی۔نائب وزیراعظم نے پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کیلئے سفیر خضر فرہادوف کی خدمات اور کردار کو سراہا۔ملاقات میں پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان قریبی اور برادرانہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔علاوہ ازیں اسحاق ڈار نے قوم کے نام اپنے پیغام میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا مکہ دفاعی معاہدہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں،یہ دفاعی نوعیت کا معاہدہ ہے ،تاریخی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان برادرانہ تعلقات، مشترکہ اقدار اور امن، سلامتی و استحکام کیلئے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدہ سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ تزویراتی تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل ہے ۔ یہ معاہدہ خطے کو درپیش بدلتے ہوئے امن و سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے تینوں ممالک کے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا مظہر ہے ۔ اس کا مقصد بیرونی جارحیت کے خلاف اجتماعی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور عوام کے دفاع کی صلاحیت کو مزید مستحکم کرنا ہے ۔اسحاق ڈار نے کہا معاہدے میں یہ اصول طے کیا گیا ہے کہ تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تمام ممالک پر حملہ تصور ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اصول اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت انفرادی اور اجتماعی حقِ دفاع کے عین مطابق ہے ۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان تنازعات کے پرامن حل، خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کے احترام جبکہ علاقائی امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کیلئے بدستور پرعزم ہے ۔انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدہ محاذ آرائی کا ذریعہ نہیں بلکہ طاقت، یکجہتی اور باہمی احترام کے ذریعے امن کے اجتماعی عزم کا اظہار ہے ۔اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور دفتر خارجہ پاکستان نے تاریخی مکہ معاہدے کو عملی شکل دینے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

تہران ،واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)ایران کی وزارت خارجہ نے پیر کو کہا ہے کہ حال ہی میں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان طے پانے والا دفاعی معاہدہ تہران کیلئے خطرہ نہیں ، یہ خطے کے ممالک کے امریکا کے بارے میں نقطہ نظر میں تبدیلی کی علامت ہے ،روشنی ہو یا اندھیرا، ایرانیوں نے ثابت  کر دیا ہے کہ وہ ماہر شطرنج کے کھلاڑی ہیں۔ ایرانی وزارت کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس کانفرنس میں کہا خطے کے ممالک یہ سمجھ چکے ہیں کہ سکیورٹی کوئی ایسی چیز نہیں جو جھوٹے بروکرز سے خریدی جا سکے ۔انہوں نے مزید کہا خطے کے ممالک اب ماضی کی طرح امریکا کی فراہم کردہ سکیورٹی کے دعووں پر انحصار نہیں کر سکتے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کو اس بات پر تشویش نہیں کہ یہ معاہدہ تہران کے خلاف ہو سکتا ہے کیونکہ ان کے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے ساتھ گہرے مذہبی، تاریخی اور تہذیبی تعلقات ہیں۔اسماعیل بقائی نے کہا اس بات کی کوئی وجہ نہیں کہ اس معاہدے کو ایران کے خلاف سمجھا جائے ۔انہوں نے کہا جب تک بحری ناکہ بندی اور مفاہمتی معاہدے کی دیگر شقوں کی خلاف ورزیاں جاری رہیں گی،آبنائے ہرمز کے ایک محفوظ آبی راستے میں تبدیل ہونے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔انہوں نے کہا عباس عراقچی اور باقر قالیباف کے دورۂ پاکستان کیلئے دعوت نامہ موصول ہوا ہے اور مناسب وقت پر یہ دورہ انجام پائے گا۔

ایران فی الحال آبنائے ہرمز میں راستے کے تعین کے حوالے سے عمان کے ساتھ مذاکرات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے ،انہوں نے کہا ہم امریکا کے ساتھ مذاکرات نہیں کر رہے ۔ پیغامات کا تبادلہ ایک فطری امر ہے اور یہ روزمرہ معاملات کے بارے میں ثالثوں کے ذریعے ہوتا رہتا ہے ۔انہوں نے بحری جہازوں سے فیس وصولی سے متعلق سوال پر کہا ان مذاکرات میں ماحولیاتی امور اور بحری خدمات کی فراہمی کے حوالے سے طریقۂ کار زیر بحث آئے ہیں اور یہ فطری بات ہے کہ جب آپ بحری خدمات فراہم کرتے ہیں تو اس کے عوض معاوضہ وصول کریں گے ۔اسماعیل بقائی نے کہا مشرق وسطٰی کو بیرونی طاقتوں کی ضرورت نہیں اور امریکا خطے میں عدم تحفظ کی ایک وجہ ہے ۔ایران کسی ملک پر حملہ نہیں کر رہا بلکہ اپنی سرزمین اور مفادات کا دفاع کر رہا ہے ۔ایران کی جانب سے خطے میں امریکی اڈوں اور حملے کیلئے استعمال ہونے والے مقامات کو نشانہ بنانا اپنے دفاع کے دائرے میں ہے ۔خطے کے ممالک مستقل ہمسایوں کی حیثیت سے باہمی اعتماد اور تعمیری تعاون کے ذریعے اپنی سلامتی کیلئے مشترکہ طریقہ کار تشکیل دے سکتے ہیں۔ہمیں مل کر ایسا نظام تشکیل دینا چاہیے جو خطے کے تمام ممالک کی سلامتی کو یقینی بنائے ۔انہوں نے کہا میں بار بار کہہ چکا ہوں کہ ہمیں خطے کے کسی بھی ملک سے دشمنی یا عناد نہیں۔ ہم خطے کے ممالک کی علاقائی سالمیت اور قومی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں۔خطے کے ممالک کو بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔انہوں نے کویت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کسی ملک کو اپنے علاقے کو دوسرے ملک پر حملے کیلئے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

ایرانی ترجمان نے کہا کہ امریکا کو ایران کے خلاف حملے کی تیاری کیلئے خطے کے ممالک کی سرزمین اور تنصیبات استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے ۔ایران کو امید ہے کہ گزشتہ پانچ ماہ کے تجربے نے خطے کے تمام ممالک کو یہ سکھا دیا ہوگا کہ ان ممالک میں امریکی فوجی موجودگی کا تسلسل خطے میں صرف عدم تحفظ، تقسیم اور اختلافات کو جنم دے گا اور اس سے کوئی مثبت نتیجہ حاصل نہیں ہوگا۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ حالیہ ملاقات میں انہوں نے تقریباً سات گھنٹے تک ملک کے موجودہ امور پر گفتگو کی۔انہوں نے کہا عوام کی معاشی صورتحال، روزگار، رہائش، پابندیاں، حکومت اور عوام کی جانب سے استقامت کا طریقۂ کار، اور اتحاد و یکجہتی کا تحفظ اس ملاقات کے اہم ترین موضوعات تھے ۔پزشکیان نے یہ بھی کہا کہ اس ملاقات میں رہبرِ اعلیٰ نے اتحاد اور یکجہتی کے تحفظ پر زور دیا اور خبردار کیا کہ دشمن کا پورا منصوبہ اختلافات اور تفرقہ پیدا کرنے پر مرکوز ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ جسمانی لحاظ سے مکمل صحت مند تھے ۔ادھر امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث ایرانی جزیرے خارگ سے تیل کی ترسیل مکمل طور پر رک گئی ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق جزیرہ خارگ ایرانی خام تیل کی ترسیل کا سب سے بڑا مرکز ہے ،وہاں تینوں آئل ٹرمینلز مکمل خالی ہو چکے ہیں اور 31 جولائی سے خارگ سے کوئی جہاز یا آئل ٹینکر روانہ نہیں ہوا، خارگ سے زیادہ تر تیل چین کو سپلائی کیا جاتا ہے ، تاہم گزشتہ دو ہفتوں سے جزیرے سے کوئی تیل برآمد نہیں کیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا کہ وہ مستقبل میں ہونے والے کسی بھی امن مذاکرات کے دوران ایران سے جنگی نقصانات کا معاوضہ طلب کریں گے ۔ انہوں نے اس کیلئے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ایران کی مبینہ حمایت یا براہِ راست کارروائیوں کے نتیجے میں ہونے والے حملوں اور مظالم کا حوالہ دیا۔ٹرمپ نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہاکہ ایران گزشتہ پانچ ماہ کے فوجی تنازع کے دوران اسے پہنچنے والے نقصانات کا معاوضہ مانگ رہا ہے ،میں بھی ایران سے ان تمام لوگوں کیلئے معاوضے کا مطالبہ کر رہا ہوں جنہیں انہوں نے سڑک کنارے نصب بموں اور متعدد تنازعات کے ذریعے ہلاک یا شدید زخمی کیا۔امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اور آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق غیریقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگیا۔

عالمی منڈی میں برطانوی خام تیل کی قیمت میں 2اعشاریہ 57 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد برینٹ خام تیل 85اعشاریہ 70 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔امریکی خام تیل کی قیمت میں بھی 2اعشاریہ 52 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد امریکی خام تیل کی نئی قیمت 80اعشاریہ 15 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کو فوجی دباؤ سے زیادہ امریکی اقتصادی پابندیوں کی فکر ہے ۔ ایران کو وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ سے وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کی نسبت زیادہ خوف ہے ، سکاٹ بیسنٹ کی قیادت میں آپریشن اکنامک فیوری ایرانی معیشت کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے ۔ ایرانی مذاکرات کی میز پر بار بار نقد رقم اور منجمد اثاثوں تک رسائی کا مطالبہ کر رہے ہیں، ایران میں کرنسی کی قدر میں کمی اور مہنگائی نے معاشی دباؤ مزید بڑھا دیا ہے ، پاسداران انقلاب ایران کی معیشت کے ایک بڑے حصے پر کنٹرول رکھتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایران میں کرپٹ اور مذہبی انتہا پسند نظام قائم ہے ، ایرانی نظام نے عوام کو دہائیوں سے مشکلات میں مبتلا کر رکھا ہے ، اقتصادی دباؤ کے ساتھ بحری ناکہ بندی بھی ایران پر دباؤ بڑھا رہی ہے ، واشنگٹن کا یہی دباؤ بالآخر ایران کو مؤقف میں تبدیلی پر مجبور کر سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...