میڈیکل کالجز میں داخلہ کیلئے پاسنگ مارکس کم کرنیکی تجویز مسترد
مارکس60فیصد سے کم کرنے پر طلبہ کا تعلیمی معیار متاثرہو گا،قائمہ کمیٹی صحت خالی رہ جانیوالی نشستیں مسئلہ ،کوئی کالج مرضی سے فیس نہیں بڑھا سکتا :وزیر صحت
اسلام آباد (نیوز رپورٹر) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی قومی صحت نے میڈیکل کالجز میں داخلے کے لیے پاسنگ مارکس 60فیصد سے کم کرنے کی تجویز پر کہا ہے اس سے طلبہ کا تعلیمی معیار متاثر ہو گا ، اجلاس میں ارکان نے انٹری ٹیسٹ میں مشکل سوالات کی شرح کم کرنے اور میرٹ میں نرمی کے باوجود خالی رہ جانے والی نشستوں کا معاملہ بھی اٹھایا۔ قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین مہیش کمار کی صدارت میں گزشتہ روز منعقد ہوا جس میں میڈیکل کالجز میں داخلوں، فیسوں اور نشستوں سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں چیئرمین کمیٹی نے سوال کیا کہ میڈیکل کالجز میں داخلے کے لیے پاسنگ مارکس 60 فیصد سے کم مقرر کر دئیے جائیں تو کیا اس سے طلبہ کا تعلیمی معیار متاثر نہیں ہو گا۔ ارکان کی جانب سے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے انٹری ٹیسٹ میں مشکل سوالات کی شرح کم کرنے کی تجویز بھی دی گئی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ بعض میڈیکل کالجز میں میرٹ کم کرنے کے باوجود نشستیں خالی رہ گئی ہیں۔
وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا کہ میڈیکل کالجز میں نشستوں کا خالی رہ جانا حکومت کے لیے بھی مسئلہ ہے ، جن میڈیکل کالجز میں فیس 35 لاکھ روپے تک ہے ، وہاں کوئی نشست خالی نہیں، اس لیے اگر نشستیں خالی رہنے کی وجہ زیادہ فیس ہوتی تو زیادہ فیس لینے والے کالجز میں بھی نشستیں خالی ہوتیں ۔ وزیر صحت نے بتایا کہ 61 کالجز نے فیس میں اضافے کے لیے درخواستیں دی تھیں، تاہم ان میں سے صرف 35 کالجز مقررہ شرائط پوری کر سکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی میڈیکل کالج اپنی مرضی سے فیس میں اضافہ نہیں کر سکتا اور جو کالجز فیس میں اضافے کے لیے مقررہ شرائط پوری نہیں کرتے وہ فیس نہیں بڑھا سکتے ۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بعض میڈیکل کالجز کی جانب سے مقررہ حد سے زیادہ فیس وصول کرنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں اور ایسے کالجز کی تفصیلات کمیٹی کے ساتھ شیئر کی جائیں۔صدر پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے بتایا کہ جن میڈیکل کالجز کے خلاف زیادہ فیس وصول کرنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں، انہیں نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔
چیئرمین کمیٹی نے سرکاری کالجز کی نشستوں میں اضافے پر زور دیا، جس پر صدر پی ایم اینڈ ڈی سی نے بتایا کہ پنجاب کے سرکاری میڈیکل کالجز کی 468 نشستیں بڑھائی گئی ہیں جبکہ فاٹا کے لیے 315 نشستوں کا اضافہ کیا گیا ہے ۔سندھ کی نشستوں میں اضافے سے متعلق سوال پر صدر پی ایم اینڈ ڈی سی نے بتایا کہ سندھ کی نشستوں میں اضافہ نہیں کیا گیا کیونکہ صوبے کی جانب سے اس مقصد کے لیے درخواست نہیں دی گئی تھی۔ قائمہ کمیٹی نے کہا میڈیکل کالجوں میں خالی نشستوں، فیسوں کے فرق اور ریگولیٹری خامیوں کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا ۔ قائمہ کمیٹی نے وزارت صحت اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو فوری اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔ کمیٹی نے ایم ڈی کیٹ 2026 کے لیے پی ایم ڈی سی کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایم ڈی کیٹ 2026 کی تاریخ کو تبدیل کر کے ، 20 ستمبر 2026 مقرر کر دیا گیا ہے ۔ پی ایم ڈی سی کو ہدایت کی گئی کہ وہ ان پرائیویٹ کالجوں کا معائنہ کرے جہاں نشستیں خالی ہیں اور نشستیں خالی رہنے کی وجوہات پر مبنی رپورٹ پیش کی جا ئے ۔ چیئرمین نے کہا کہ جو ادارے معیار برقرار رکھنے میں ناکام رہتے ہیں یا جہاں بڑی تعداد میں نشستیں خالی رہتی ہیں، ان کے خلاف ریگولیٹری کارروائی ہونی چاہیے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments