وفاقی کابینہ نے پاکستان انفارمیشن سکیورٹی فریم ورک کی منظوری دیدی

وفاقی کابینہ نے پاکستان انفارمیشن سکیورٹی فریم ورک کی منظوری دیدی

وزارتوں، محکموں ، قومی تنصیبات کے ڈیجیٹل ڈیٹا کے تحفظ کیلئے یکساں سکیورٹی معیار فریم ورک 13شعبوں ،قواعد و ضوابط پر مشتمل، چار مراحل میں نافذ کیا جائے گا

 اسلام آباد (ایس ایم زمان) وفاقی کابینہ نے وزارتوں، ڈویژنون اور محکموں میں حساس قومی تنصیبات کے ڈیجیٹل ڈیٹا کو سائبر حملوں اور سکیورٹی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لئے \'پاکستا ن انفارمیشن سکیورٹی فریم ورک 2026\' کی منظوری دے دی ، جس کے تحت ملک بھر میں معلومات کے تحفظ کے لازمی معیارات کو یکساں نافذ کرنا ہے ،نیشنل سائبر سکیورٹی پالیسی 2021 اور سرٹ رولز 2023 کے تحت نیشنل ٹیلی کام اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی سکیورٹی بورڈ اور نیشنل سرٹ کی ہدایات کے مطابق تیار کئے گئے اس فریم ورک کا دائرہ کار تمام وفاقی اور صوبائی وزارتوں، ڈویژنز، سرکاری محکموں، خودمختار اداروں، کارپوریشنز، سرٹس اور قومی انفراسٹرکچر کے اداروں پر محیط ہوگا، تاہم اس کے نفاذ کے دائرہ کار اور طریقہ کار طے کیا جائے گا۔ دستاویز کے مطابق تمام اداروں کے لئے اجتماعی طور پر \'آرگنائزیشن\' کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے ، کابینہ کے منظور کردہ فریم ورک بنیادی طور پر 13شعبوں اور قواعد و ضوابط پر مشتمل ہے جن میں گورننس کنٹرولز، اثاثہ جات اور خطرات کا انتظام، سکیورٹی ٹریننگ، سسٹم و کمیونیکیشن پروٹیکشن، شناخت اور رسائی کا انتظام (آئیڈنٹٹی اینڈ ایکسیس مینجمنٹ)، ڈیٹا پروٹیکشن و پرائیویسی، انسیڈنٹ رسپانس، فزیکل سکیورٹی، ڈیٹا سینٹر و ویب ہوسٹنگ سروسز، سیکیور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ لائف سائیکل، سپلائی چین مینجمنٹ، آڈٹ کنٹرولز اور قومی انفراسٹرکچر کا تحفظ شامل ہیں، جن کے کنٹرولز الگ جاری کئے جائیں گے ،فریم ورک کو نافذ کرنے کے لئے چار مراحل پر مشتمل روڈ میپ کی منظوری دی گئی۔

جس کے پہلے مرحلے میں سکیورٹی پالیسیوں، ضوابط، ذمہ داریوں اور نگرانی کے بنیادی نظام کو حتمی شکل دی جائے گی، دوسرے مرحلے میں اداروں کے اہم اثاثوں اور خطرات کی باقاعدہ جانچ کے بعد سکیورٹی کنٹرولز وضع کئے جائیں گے ، تیسرے مرحلے میں ڈیٹا کے تحفظ، شناخت و رسائی، سسٹمز کی حفاظت، فزیکل سکیورٹی، سپلائی چین اور نگرانی کا بنیادی ڈھانچہ فعال کیا جائے گا جبکہ چوتھے مرحلے میں باقاعدہ سکیورٹی آڈٹ کے ذریعے سکیورٹی کے موثر ہونے کی جانچ کی جائے گی تاکہ نظام میں بہتری لائی جا سکے ۔ پالیسی کے تحت ہر مرحلے میں ملازمین کی جامع سکیورٹی تربیت کو لازمی قرار دیا گیا تاکہ عملہ حفاظتی کنٹرولز کو برقرار رکھنے کے قابل رہے ، جبکہ ڈیٹا سینٹرز اور ہوسٹنگ سروسز چلانے والے اداروں، سافٹ ویئر ڈیزائن و ڈویلپمنٹ کرنے والے شعبوں اور حساس قومی انفراسٹرکچر کے طور پر نامزد اداروں کے لئے متعلقہ خصوصی سکیورٹی طریقہ کار کی پابندی لازمی ہوگی،اداروں کی سکیورٹی کارکردگی اور شفافیت کو جانچنے کے لیے دو جدول (Tables) پر مشتمل طریقہ کار منظور کیا گیا ہے ؛ پہلے جدول کے تحت یہ طے کیا جائے گا کہ کوئی سکیورٹی کنٹرول ادارے کے انفارمیشن سکیورٹی مینجمنٹ سسٹم کی حدود میں لاگو ہوتا ہے (In Scope) یا اس کے دائرہ کار سے باہر ہے (Out of Scope)، جبکہ دوسرے جدول کے تحت کنٹرولز پر عملدرآمد کی پختگی کو چار درجوں میں پرکھا جائے گا جن میں اقدامات نہ ہونے کو نان کمپلائنٹ، ابتدائی دستاویزات و کام کو پارشلی کمپلائنٹ، معمولی خامیوں کے ساتھ نافذ نظام کو موسٹلی کمپلائنٹ اور مکمل دستاویزات و باقاعدہ جائزے کے حامل پختہ نظام کو فُلی کمپلائنٹ قرار دیا جائے گا تاکہ ملک کے ڈیجیٹل اثاثوں کا کڑا اور مسلسل احتساب یقینی بنایا جا سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...