تیل سپلائی کا عالمی بحران، صرف 6 ماہ کے ذخائر

تیل سپلائی کا عالمی بحران، صرف 6 ماہ کے ذخائر

امریکا ایران کشیدگی کے باعث عالمی طلب و رسد میں یومیہ 50لاکھ بیرل کا فرق مشرق وسطیٰ،روس میں ریفائنری نقصانات، ڈیزل و جیٹ فیول کی قلت کاخطرہ

 واشنگٹن (رائٹرز )امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی فراہمی کو شدید دباؤ کا سامنا ہے ۔ سعودی آرامکو کے مطابق 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد یہ تیل کی فراہمی کا سب سے بڑا تاریخی بحران بن چکا ہے ۔ اگرچہ خلیجی خطے سے روزانہ 1 کروڑ 10 لاکھ بیرل کی فراہمی متاثر ہوئی ہے ، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ مانگ اور رسد کا اصل یومیہ فرق تقریباً 50 لاکھ بیرل ہے ۔بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA)کے قائم کردہ نظام میں حکومتی اور تجارتی ذخائر شامل ہیں، لیکن ایجنسی تجارتی کمپنیوں کو تیل جاری کرنے کا حکم نہیں دے سکتی۔

سرکاری ذخائر محض 90 کروڑ بیرل باقی رہ گئے ہیں، جو موجودہ 50 لاکھ بیرل یومیہ کے شارٹ فال کی صورت میں صرف 180 دن (6 ماہ) تک چل سکتے ہیں۔امریکا میں خام تیل کے سٹریٹجک ذخائر 1983 (صدر رونالڈ ریگن کے دور) کے بعد سے اپنی نچلی ترین سطح پر آ چکے ہیں۔امریکی گورنمنٹ اکاؤنٹابیلٹی آفس (GAO) نے تنبیہ کی ہے کہ بنیادی ڈھانچے کی خرابی کی وجہ سے ذخائر کا چوتھائی حصہ نکالنا ناممکن ہو چکا ہے ۔ماہرین کے مطابق، اگر امریکا کے پاس صرف 20 کروڑ بیرل قابلِ استعمال تیل بچا ہے تو یہ موجودہ بحران میں صرف 40 دن کا احاطہ کر سکتا ہے۔

خام تیل کے علاوہ سب سے بڑا خطرہ تقطیر شدہ ایندھن (ڈیزل اور جیٹ فیول)کی قلت ہے ۔ مشرقِ وسطیٰ اور روس میں ریفائنریوں کو پہنچنے والے نقصان کے باعث عالمی سطح پر ڈیزل اور جیٹ فیول کے ذخائر پچھلے 5 سال کی سب سے نچلی سطح پر آ گئے ہیں۔دیگر ممالک کے برعکس چین کے پاس خام تیل کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ تخمینوں کے مطابق چین کے پاس 1 ارب سے 1.7 ارب بیرل خام تیل موجود ہے ، جس کی بدولت وہ آبنائے ہرمز کے ذریعے ہونے والی اپنی تمام درآمدات کے بغیر بھی تقریباً ایک سال تک توانائی کا بحران برداشت کر سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...