ٹی ٹی پی کیلئے افغان طالبان کی سپورٹ، اقوام متحدہ نے قلعی کھول دی
پاکستان سمیت ہمسایہ ممالک کب تک دہشتگردی کے خطرے سے دوچار رہیں گے
(تجزیہ:سلمان غنی)
اقوام متحدہ نے تازہ رپورٹ میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)کی افغان طالبان کی سپورٹ سے پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات کی قلعی کھول دی اور کہا ہے کہ اسی بنیاد پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان فوجی جھڑپیں ہوتی ہیں ،یہ رپورٹ ایسے وقت میں آئی ہے کہ جب افغانستان میں طالبان انتظامیہ کو برسراقتدار آنے کے پانچ سال مکمل ہو رہے ہیں ۔ اس امرکا تجزیہ ضروری ہے کہ آخر افغان طالبان دہشتگردی کے خاتمہ میں کیونکر سنجیدہ نہیں اور ٹی ٹی پی جیسی دہشتگرد تنظیم کی حمایت کا کیا جواز ہے اور کیا وجہ ہے طالبان انتظامیہ ان کے خلاف کارروائی سے گریزاں ہے اور افغانستان کے ہمسایہ ممالک کب تک اس خطرہ سے دوچار رہیں گے ۔ اقوام متحدہ نے ہی ماضی میں امریکی افواج کے چھوڑے جانے والے اسلحہ کے دہشتگردوں کے ہاتھوں لگنے کی تصدیق کرتے کہا تھا کہ یہ اسلحہ اب دہشتگردی کیلئے استعمال ہو رہا ہے ۔ جہاں تک اس نئی رپورٹ کا سوال ہے تو اس میں ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں اور افغان سرزمین کے استعمال اور طالبان انتظامیہ کی اس ضمن میں معاونت کی تصدیق کی گئی ہے اور طالبان انتظامیہ ہمیشہ اپنی سرزمین کے استعمال کے حوالہ سے کوئی واضح تحریری مؤقف جاری کرنے سے گریزاں نظر آتی ہے ، طالبان براہ راست دہشتگردوں کی معاونت کر رہے ہیں اور یہی وجہ ہے اسلام آباد کیلئے یہ تجویز سامنے آ رہی ہے کہ وہ اس معاملہ کو دوطرفہ تنازع بنانے کی بجائے اسے اقوام متحدہ اورخصوصاً ہمسایہ ممالک سعودی عرب اوردیگر خلیجی ممالک سمیت خطے کے دیگر شراکت داروں کے سامنے اجتماعی مسئلہ بنائیں ، اب عالمی رپورٹس او دہشت گردی بارے شواہد پاکستان کے اس مؤقف کو مضبوط کرتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو محض داخلی سیاسی اختلاف یا افغان پالیسی کے تناظر میں نہیں بلکہ قومی سلامتی اور ریاستی خطرے کے طور پر دیکھنا ہوگا ۔
جہاں تک اس امر کا سوال ہے کہ طالبان ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی سے گریزاں ہیں تو اس کی کئی سیاسی اور نظریاتی وجوہات ہیں، افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذہبی و نظریاتی ہم آہنگی اور قبائلی روابط قائم ہیں اور طالبان کی خود افغانستان پر پوری طرح گرفت موجود نہیں، تاہم پاکستان کیلئے اصل امتحان یہ ہے کہ کابل سے محض یقین دہانیوں کی بجائے قابل تصدیق کارروائی کیسے حاصل کی جائے ۔ افغان سرزمین سے دہشت گردی کے عمل پر چین ، سعودی عرب، قطر و دیگر ممالک نے بھی اپنے طور پر کوششیں کیں ۔ دوست ممالک ضمانت یا مفاہمت کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ طے نہیں ہوتا کہ اگر فریق خلاف ورزی پر ہے تو سزا کیا ہوگی، البتہ اب صورتحال یہاں تک آ پہنچی ہے کہ پاکستان اور شایدصبر سے کام نہ لے مگر ریاست ابھی تک ایک سطح پر آگے نہیں جانا چاہتی ۔ عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اسی پالیسی کافائدہ دہشت گرد اٹھاتے ہیں ،اگر افغان انتظامیہ کی آنکھیں نہ کھلیں توعملاً یہ کام پاکستان کو کرنا پڑے گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments