سیاسی جماعتوں کا مفاد، آئینی پیچیدگیاں نئے صوبے بننے میں رکاوٹ

سیاسی جماعتوں کا مفاد، آئینی پیچیدگیاں نئے صوبے بننے میں رکاوٹ

ترمیم کیلئے موجودہ اسمبلیوں سے دو تہائی اکثریت حاصل کرنا بظاہر ممکن نہیں

(تجزیہ:سلمان غنی)

ملک میں گورننس کے مؤثر نظام کے لیے نئے صوبوں کے قیام کی بحث اب سنجیدہ مرحلے میں داخل ہوچکی ہے ۔ مختلف طبقات کے نمائندے اور بعض پارلیمنٹرینز نئے صوبوں کے قیام کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے اس پر پیش رفت پر زور دے رہے ہیں، تاہم اس راستے میں بنیادی رکاوٹ سیاسی جماعتوں کے مفادات اور آئینی پیچیدگیاں ہیں۔نئے صوبوں کے قیام کے لیے موجودہ اسمبلیوں سے دو تہائی اکثریت حاصل کرنا بظاہر ممکن نظر نہیں آتا۔ مسلم لیگ (ن)فی الحال ‘‘دیکھو اور انتظار کرو’’ کی پالیسی  پر گامزن ہے جبکہ پیپلزپارٹی کے رہنما سندھ کی تقسیم کے معاملے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان سندھ کی تقسیم اور نئے صوبے کے قیام کے حق میں آواز اٹھا رہی ہے ۔متبادل آپشن کے طور پر ریفرنڈم بھی زیر غور ہے ، جس میں ایوان صدر کے کردار کی بات کی جارہی ہے ۔ اسلام آباد میں بھی اس حوالے سے سرگرمیاں جاری ہیں اور ستمبر، اکتوبر کو اہم قرار دیا جارہا ہے ۔ آئین میں 28ویں ترمیم پر بھی غور جاری ہے ۔فیصلہ سازوں کے حوالے سے کہا جارہا ہے کہ وہ اب بھی چاہتے ہیں کہ نئے صوبوں کا معاملہ سیاسی جماعتوں کے ذریعے پارلیمنٹ سے حل ہو۔ دوسری جانب صوبائی حکومتوں کا مؤقف ہے کہ نئے صوبوں کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کیونکہ مقامی حکومتوں کے نظام پر مؤثر انداز میں کام نہیں کیا گیا۔ اطلاعات ہیں کہ پنجاب اس حوالے سے پیش رفت کی تیاری کر رہا ہے ، تاہم یہ واضح نہیں کہ اس کے باعث نئے صوبوں کے قیام کا عمل رک جائے گا یا نہیں۔ سنجیدگی کا اظہار کرنے والے حلقے نئے صوبوں کے قیام پر عملدرآمد کے لیے پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...