عمران خان کے علاج میں کوتاہی ہوئی تو ذمہ دار جیل انتظامیہ ،عدلیہ ہوگی:رانا ثنا اللہ

عمران خان کے علاج میں کوتاہی ہوئی تو ذمہ دار جیل انتظامیہ ،عدلیہ ہوگی:رانا ثنا اللہ

بانی کی صحت رپورٹ تشویشناک، ہسپتال منتقل اور ارکان پارلیمنٹ کو جیل میں جاکر معائنہ کی اجازت دی جائے :راجہ ناصر سینیٹ میں عمران خان کی صحت پر بحث، حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے ،وفاقی وزرا کی پی ٹی آئی کو پھر مذاکرات کی دعوت

 اسلام آباد (وقائع نگار،اے پی پی)سینیٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کے معاملے پر پوائنٹ آف آرڈر کے ذریعے بحث کے دوران حکومت اور اپوزیشن ارکان آمنے سامنے آگئے ۔ قائد حزب اختلاف سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے عمران خان کی صحت سے متعلق رپورٹ کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے انہیں ہسپتال منتقل کرنے اور ارکان پارلیمنٹ کو جیل جا کر ان کی صحت کا جائزہ لینے کی  اجازت دینے کا مطالبہ کیا، جبکہ حکومت نے اپوزیشن کے خدشات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں عمران خان نے خود اپنے علاج پر اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ حکومت نے پی ٹی آئی کو پھر مذاکرات کی دعوت بھی دی ۔سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ سینیٹر سید یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ہوا۔ قائد حزب اختلاف سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے رپورٹ تشویشناک ہے اور انہیں ہسپتال منتقل کیا جانا چاہیے ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ارکان پارلیمنٹ کو جیل جا کر عمران خان کی صحت کا جائزہ لینے کی اجازت دی جائے ۔

وفاقی وزیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے عمران خان کی صحت پر بحث کے لیے آمادگی ظاہر کرتے ہوئے اپوزیشن کے خدشات مسترد کردئیے ۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں عمران خان نے خود اپنے علاج پر اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ عمران خان سے ملاقاتوں کے حوالے سے اپوزیشن کو بھی صورتحال کا علم ہے اور اس معاملے سے متعلق درخواستیں عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔انہوں نے کہا بانی پی ٹی آئی عمران خان کی کسٹڈی جیل انتظامیہ اور عدلیہ کے پاس ہے ، اگر علاج میں کسی قسم کی کوتاہی ہوتی ہے تو اس کے ذمہ دار بھی یہی ادارے ہوں گے ۔پی ٹی آئی رہنما سینیٹر اعظم سواتی نے حکومت سے مذاکرات کا دروازہ کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے علاج معالجے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور قیادت نے مذاکرات کے لیے آمادگی کا اظہار کیا ہے ۔وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ عمران خان کے تمام کیسز عدالتوں میں زیر التوا ہیں جبکہ اپیلوں کی سماعت میں بھی مسائل درپیش ہیں۔

جیل میں ملاقات کے لیے جیل مینوئل موجود ہے اور عمران خان کے علاج کے حوالے سے سپریم کورٹ بھی احکامات جاری کر چکی ہے ۔ انہوں نے اپوزیشن کو مشورہ دیا کہ سیاسی معاملات کے ساتھ عدالتی پیروی بھی تیز کی جائے اور مل بیٹھ کر بات چیت کی جائے ۔وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل نے کہا کہ تمام مسائل کا حل یکسوئی اور مذاکرات میں ہے ۔ وزیراعظم کی مذاکرات کی دعوت آج بھی موجود ہے ، اپوزیشن وقت اور جگہ کا تعین کرے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف اپوزیشن مذاکرات کو سنجیدہ نہیں لیتی اور دوسری جانب نظام کو ڈی ریل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چودھری نے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی مذاکراتی کمیٹی اب بھی موجود ہے ،حکومت کسی سیاسی جماعت کے سیاسی موقف یا احتجاج کے حق سے انکار نہیں کرتی تاہم ملاقاتیں جیل مینول اور عدالتی احکامات کے مطابق ہی ہوں گی۔ عمران خان کی صحت کے حوالے سے اپوزیشن کے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی جان کو خطرے سے متعلق بیانات ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی 84 ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔

سینیٹر ناصر محمود نے کہا کہ پی ٹی آئی جھوٹ بولنا اور دھمکیاں دینا چھوڑ دے ۔ انہوں نے عمران خان کی صحت کے حوالے سے پی ٹی آئی کے دعوؤں کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو عدالت نے سزا سنائی ہے اور عدالتی فیصلے کا احترام ہونا چاہیے ۔ ان کے اظہار خیال پر پی ٹی آئی ارکان نے احتجاج کیا اور ایوان میں ہنگامہ آرائی بھی ہوئی۔بعد ازاں سینیٹ میں کورم کی کمی کے باعث اجلاس آج صبح ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...