سینیٹ:جے یو آئی کی قبائلی اضلاع میں ٹیکسوں کی مخالفت

سینیٹ:جے یو آئی کی قبائلی اضلاع میں ٹیکسوں کی مخالفت

ٹیکس لگا کر مشکلات نہ بڑھائیں: عطاالرحمان، استثنیٰ کا غلط استعمال ہوا:بلال کیانی سول سرونٹس سمیت 3 ترمیمی بلز منظور، کتابچے نہ چھپنے پر وقفہ سوالات مؤخر

اسلام آباد (اپنے رپورٹر سے ، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)سینیٹ اجلاس کے آغاز پر ضم شدہ قبائلی اضلاع میں ٹیکسوں کے نفاذ کے معاملے پر گرما گرم بحث ہوئی۔ سوالات و جوابات کے کتابچے نہ چھپنے کے باعث وقفہ سوالات مؤخر کردیا گیا، جبکہ ایوان نے سول سرونٹس سمیت 3 ترمیمی بلز منظور کرلیے ۔جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) نے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں ٹیکسوں کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی مشکلات میں اضافہ نہ کیا جائے ۔ سینیٹر مولانا عطاالرحمان نے کہا کہ سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے 100 ارب روپے دینےکا وعدہ کیا گیا تھا جو پورا نہیں ہوا، لہٰذا ان علاقوں کے عوام پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے ۔وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ فاٹا اور پاٹا کو حاصل ٹیکس استثنیٰ کا غلط استعمال کیا گیا۔ گزشتہ سال تفصیلی مشاورت کے بعد سیلز ٹیکس عائد کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت قبائلی اضلاع کے مخصوص مسائل اور ضروریات سے آگاہ ہے اور وہاں کے عوام کی فلاح و بہبود اولین ترجیح ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قبائلی عوام اور سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس کے فیصلے سے قبل فاٹا، پاٹا اور خیبرپختونخوا کے نمائندوں، سیاسی رہنماؤں اور ایف بی آر حکام سے تفصیلی مشاورت کی گئی۔ ٹیکس استثنیٰ کا مقصد علاقے کی محرومیوں اور مشکلات کے پیش نظر عوام اور کاروبار کو سہولت دینا تھا، تاہم اس کے غلط استعمال کی شکایات سامنے آتی رہیں۔وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مشاورتی کمیٹی میں فاٹا، پاٹا اور خیبرپختونخوا چیمبر آف کامرس کے نمائندے بھی شامل تھے ۔ مولانا عبدالواسع نے بلوچستان میں ٹیکسوں کے نفاذ پر اعتراض کیا، جبکہ وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے کہا کہ بلوچستان میں روزانہ شہادتیں ہورہی ہیں اور دہشت گردوں کو بھارت وسائل فراہم کررہا ہے ۔ایوان نے **سول سرونٹس (ترمیمی) بل 2026، معیاری وقت (حوالہ جات کی تشریح) (ترمیمی) بل 2026** اور **قومی ادارہ برائے لوک روایتی ورثہ (لوک ورثہ) (ترمیمی) بل 2026 منظور کرلیے ۔ سینیٹر سرمد علی کی جانب سے کورم کی نشاندہی پر اجلاس کل جمعرات تک ملتوی کردیا گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...