منصوبہ بندی نہ ہو تو مقدمہ 302سی کے تحت ہوگا:سپریم کورٹ
استغاثہ وقوعہ کی اصل وجہ بتا نہیں سکا:عدالت، سزائے موت 14سال قید میں تبدیل 13سالہ ٍبچے کے اغوا، تاوان کیس میں عمر قید کا ملزم بارہ سال بعد شک کے فائدہ میں بری
اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)وقوعہ کاحقیقی پس منظر واضح نہ ہونے ، ملزم زخمی ہونے ، مقتول کو صرف ایک وار لگنے اور پیشگی منصوبہ بندی کے شواہد نہ ہونے کی صورت میں مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302سی کے دائرے میں آتا ہے ۔ سپریم کورٹ نے قتل کے مقدمے میں فہیم عرف ببلی کی سزائے موت دفعہ 302 سی کے تحت 14 سال قید بامشقت بدل دی۔جسٹس اشتیاق ابراہیم کے چھ صفحات کے جاری تحریری فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ وقو عہ کی اصل وجہ بتاسکا۔ علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے 13 سالہ بچے کے اغوا اور تاوان طلب کرنے کے مقدمے میں عمر قید پانے والے عبدالرزاق کو بارہ سال بعد شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا اور قرار دیا کہ استغاثہ کا مقدمہ تضادات، کمزوریوں اور مشکوک حالات کے باعث سزا برقرار رکھنے کیلئے محفوظ نہیں۔ جسٹس اشتیاق ابراہیم کے جاری تحریری فیصلے میں عبدالرزاق کی جیل پٹیشن منظور کرتے ہوئے ماتحت عدالتوں کی سزا اور فیصلے کالعدم قرار دے دیئے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments