قومی اسمبلی میں ن لیگ کو پیپلزپارٹی کے بغیر بھی سادہ اکثریت حاصل
ن لیگ کو پیپلزپارٹی کے بغیر 170ارکان کی حمایت، سادہ اکثریت کیلئے 169 ارکان درکار پی پی حکمران اتحاد سے الگ ہوئی تو صدر کے مواخذہ سمیت سینیٹ سربراہی سے محروم ہوسکتی
اسلام آباد(سہیل خان) حکمران جماعت کو قومی اسمبلی میں نمبرز گیم میں برتری حاصل ہوگئی، کسی جماعت کے الگ ہونے سے حکومت کو فرق نہیں پڑے گا۔ اب حکمران جماعت کو بڑی اتحادی جماعت پیپلزپارٹی کی بیساکھیوں کی ضرورت نہیں رہی۔ مسلم لیگ (ن) نے سادہ اکثریت کے ساتھ پیشقدمی برقرار رکھتے ہوئے 170 سے زائد ارکان کی حمایت حاصل کرلی ۔دستاویزات کے مطابق پیپلزپارٹی کے بغیر مسلم لیگ (ن) کو 170 ارکان کی حمایت حاصل ہے ۔ حکمران اتحاد کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی سیاسی جماعت کے الگ ہونے سے حکومت کو فرق نہیں پڑے گا، اسی لیے حکومت سے متعلق بلاول بھٹو زرداری کے بیانات کو کسی سطح پر سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ حکومت نے اپوزیشن میں بھی نئے رابطوں کا سلسلہ شروع کردیا ۔صدر مملکت بھی کسی صورت سخت ردعمل کے پیش نظر موقع آنے کے باوجود وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے نہیں کہیں گے ۔ پی ٹی آئی کی پیپلزپارٹی کے ساتھ ممکنہ حکومت سازی کی افواہوں پر بانی چیئرمین عمران خان نے بھی سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے ۔
بتایا گیا ہے کہ پیپلزپارٹی تنہائی کا شکار ہوگئی ۔قومی اسمبلی کے اراکین کی مجموعی تعداد 336 ہے جبکہ سادہ اکثریت کے لیے 169 ارکان کی حمایت درکار ہے ۔ اس وقت پیپلزپارٹی سمیت حکمران اتحاد میں شامل اراکین کی تعداد 243 ہے جو دو تہائی اکثریت سے بھی زیادہ ہے ۔حکمران اتحاد میں مسلم لیگ (ن) کے 131، پیپلزپارٹی کے 74، ایم کیو ایم کے 22، مسلم لیگ (ق) کے 5، استحکام پاکستان پارٹی کے 4، ضیا لیگ، بلوچستان عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کا ایک، ایک جبکہ 4 آزاد ارکان شامل ہیں۔اگرچہ پیپلزپارٹی کی حکومت سے ممکنہ علیحدگی کا دور دور تک امکان نہیں، تاہم اس کے ساتھ چھوڑنے کی صورت میں حکومتی اتحاد دو تہائی اکثریت سے محروم ہوجائے گا۔ پیپلزپارٹی کے حکمران اتحاد سے الگ ہوکر اپوزیشن اتحاد میں شامل ہونے کی صورت میں حکومتی اتحاد اور اپوزیشن کے ارکان کی تعداد میں فرق صرف 6 ارکان کا رہ جائے گا، جبکہ اپوزیشن اتحاد کے مجموعی ارکان کی تعداد 163 ہوجائے گی۔جمہوری حلقوں کے مطابق پیپلزپارٹی اگر حکمران اتحاد سے علیحدہ ہوئی تو صدر کے مواخذے سمیت سینیٹ چیئرمین اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے عہدوں سے محروم ہوسکتی ہے ۔ بلوچستان حکومت، گورنر پنجاب اور گورنر خیبرپختونخوا کے عہدوں پر بھی خطرہ پیدا ہوسکتا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments