ٹرمپ کا گزشتہ ہفتے سید عاصم منیر کو فون، پاکستان سے اپنا اثرور سوخ استعمال کرتے ہوئے ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی درخواست : برطانوی میڈیا، فیلڈ مارشل کی تہران میں اہم ملاقاتیں
ایرانی صدر مسعود پزشکیان، باقر قالیباف، عباس عراقچی، محسن رضائی اور سکندر مومنی سے تفصیلی بات چیت،محسن نقوی بھی ہمراہ ،گارڈ آف آنر پیش، عمانی وزیر خارجہ آج تہران پہنچیں گے تہران مکمل ٹوٹ رہا:ٹرمپ، ایران نے اماراتی ،سعودی سمیت 45 ٹینکر بلیک لسٹ کردئیے ،2چینی جہاز ایرانی علاقے میں داخل، حوثیوں کا سعودی ٹینکر پرحملے کا دعویٰ، تیل کی قیمتوں میں کمی
اسلام آباد، تہران(خصوصی نیوز رپورٹر،نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سمیت ایرانی قیادت کے ساتھ اہم ملاقاتیں کیں۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو فون کیا تھا، اس دوران انہوں نے پاکستان سے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی درخواست کی ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ ایران کا ایک روزہ اہم سفارتی دورہ مکمل کر لیا۔ یہ دورہ پاکستان کی ان فعال سفارتی کوششوں کا حصہ ہے جو خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امریکا ایران تنازع میں جاری تعطل کو توڑنے کیلئے کی جا رہی ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اس اعلیٰ سطح دورے کا بنیادی مقصد خطے میں پائیدار امن کا قیام، مزید کشیدگی کو روکنا اور عدم استحکام کے مستقل خاتمے کیلئے جامع حکمت عملی پر غور کرنا تھا۔ دورے کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایران کی اعلیٰ ترین سول و عسکری قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں،انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی جس میں علاقائی سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
علاوہ ازیں فیلڈ مارشل نے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں سپریم لیڈر کے نمائندے محسن رضائی، ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف، وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور وزیر داخلہ سکندر مومنی سے بھی علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں خطے میں مزید کشیدگی روکنے کیلئے فوری اور مؤثر اقدامات پر جامع بات چیت کی گئی،اعلیٰ سطح مذاکرات میں عالمی تجارت اور علاقائی معاشی استحکام کی ضامن آبنائے ہرمز کو تمام بحری آمدورفت کیلئے دوبارہ کھولنے اور موجودہ تنازع کے فوری خاتمے کی تجاویز بھی زیر غور آئیں۔ فریقین نے علاقائی امن کے قیام اور تمام تنازعات کو ڈائیلاگ اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ایرانی قیادت نے خطے میں کشیدگی میں کمی، مذاکرات کی بحالی اور تنازعات کے پرامن حل کیلئے پاکستان کی مخلصانہ اور تعمیری کوششوں کی تعریف کی اور سفارتی سطح پر پاکستان کے اس کردار کو سراہا۔ قبل ازیں، تہران پہنچنے پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی اور دیگر اعلیٰ ایرانی سول و عسکری حکام نے پرجوش استقبال کیا اور انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ایرانی چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے کہا ہم مفاہمت کی یادداشت میں طے کی گئی شرائط پر عملدرآمد کیلئے کوشش کر رہے ہیں۔ امریکا ہی کو معاہدے کے تحت اپنے وعدے پورے کرنے چاہئیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق پاکستانی اعلیٰ حکام کا یہ دورہ عمان کے وزیرِ خارجہ بدر البوسعیدی کے منگل کوایرانی ہم منصب عباس عراقچی ودیگر حکام سے آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات کیلئے تہران کے طے شدہ دورے سے پہلے ہو رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرا ن مکمل طور پر تباہی کے قریب ہے ، ٹرمپ نے سوشل نیٹ ورک ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ایران مکمل طور پر ٹوٹ رہا ہے ۔ ایک نئی پوسٹ میں انہوں نے کہا امریکا ایران سمیت سب کے خلاف جیت رہا ہے ، انہوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ریپبلکن ووٹروں کے حوصلے پست کرنے کیلئے جعلی سروے جاری کر رہی ہے ، حقیقی سروے ہمارے لئے انتہائی حوصلہ افزا ہیں اور ملک میں جوش و جذبہ پہلے سے کہیں زیادہ ہے ۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطٰی میں امریکی موجودگی کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے ،امریکا کے پاس ایران سے نمٹنے کیلئے بہت سے طریقے موجود ہیں، ایران سے نمٹنے کا سب سے مؤثر طریقہ اسے تیل اور گیس کی تجارت روکنے کی قیمت چکانے پر مجبور کرنا ہے ، ایران کے پاس بین الاقوامی تجارتی راستے مکمل طور پر بند کرنے کی صلاحیت نہیں ہے ،انہوں نے کہا امریکا آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل جاری رکھنے میں کامیاب ہو رہا ہے اور روزانہ 7 سے 15 ملین بیرل تیل آبنائے ہرمز سے منتقل کیا جا رہا ہے ۔دریں اثنا امریکا نے ایران کیخلاف معاشی یلغار شروع کردی، امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے پابندیوں کا دائرہ وسیع کرنیکا اعلان کرتے ہوئے تمام ممالک کو تہران کیساتھ کاروباری تعلقات ختم کرنے کی آخری وارننگ دیدی، ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کا مقصد ایران کو سہارا دینے والی ہر معاشی لائف لائن کو منقطع کرنا ہے۔
میڈیا بریفنگ میں سکاٹ بیسنٹ نے کہا ایران سے اقتصادی اشتراک کرنے والے ممالک اور اداروں کو محدود مہلت دی جائے گی، جس کے بعد ایران کے ساتھ تعاون کرنے والوں کو امریکی کارروائی اور پابندیوں کا سامنا کرنا ہوگا۔ ایران کے ساتھ اقتصادی روابط رکھنے والے ممالک کو اپنی سرزمین پر ایرانی بینکوں کی شاخیں بھی بند کرنا ہوں گی، انہوں نے واضح کیا کہ واشنگٹن ایران کی مالی اور تجارتی سرگرمیوں کو محدود کرنے کیلئے اپنے تمام دستیاب معاشی اختیارات استعمال کرے گا۔امریکی وزیر خزانہ نے نئی مہم کو ایران کیخلاف ایک بڑے معاشی دباؤ کا حصہ قرار دیا ہے ، امریکی حکام کے مطابق نئی پابندیوں میں ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے تیسرے ممالک اور مالیاتی اداروں پر بھی ثانوی پابندیوں کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا ہم سمجھتے ہیں کہ ممالک کے ساتھ رابطے کا بہترین طریقہ خاموش سفارتکاری ہے ، اور ہم ہر ملک کے ساتھ بات کرکے انہیں اپنی توقعات سے آگاہ کر رہے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ وہ کون ہیں، اور انہیں بھی معلوم ہے کہ وہ کون ہیں۔ایران سے تعلق رکھنے والے ممالک کو نشانہ بنانے والی پابندیوں کے نفاذ سے فی الحال گریز کرنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے بیسنٹ نے کہا آج کا اعلان ایک وارننگ شاٹ (انتباہی فائر)تھا۔ ان کے بقول امریکا ہر ایک کو اپنے غلط طرزِ عمل کی اصلاح کا موقع دے رہا ہے ۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ امریکا کی ایران کے خلاف جارحانہ کارروائیوں میں کسی بھی ملک کی معاونت کے نتائج ضرور ہوں گے ،متعلقہ ممالک کو اس حوالے سے ضروری انتباہات دیدئیے گئے ہیں۔
ایران نے امریکی اقدامات کو فوجی شکست کا اعتراف قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر واشنگٹن اپنے اہداف حاصل کرچکا ہے تو نئی معاشی جنگ کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ انہوں نے کہا امریکا کا اقتصادی دباؤ کسی صورت قبول نہیں کریں گے ، امریکا کی اقتصادی پابندیاں غیر قانونی ہیں۔ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے امریکی وزیر خزانہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ایران کی فوجی صلاحیت ختم کرنے کا آپ کا بیان اقتصادی پابندیوں سے میل نہیں کھاتا، تمام اقدامات کے باوجود امریکا کو ایران کیخلاف تاریخ کا سب سے بڑا مالی حملہ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ،آخر یہ فتح ہے یا امریکا کی ناکامی کا اعتراف؟،انہوں نے مزید کہا ہتھیاروں کی فراہمی سے برطانیہ اور فرانس بھی اسرائیل کے جرائم میں شریک ہو رہے ہیں،برطانیہ اور فرانس کو فلسطین کی صورتحال پر محض تشویش کا اظہار کرکے اپنی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے ۔ ایران کے قائم مقام وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل ابن الرضا نے کہا ہے کہ ایران آئندہ 50 برسوں کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کی تیاری کر رہا ہے ،انہوں نے کہا حالیہ جنگ سے حاصل ہونے والے تجربات کی بنیاد پر طویل المدتی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے ،وزارت دفاع کی حکمت عملی میں ملک کی قومی اور مقامی صلاحیتوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے پر توجہ دی جائے گی۔ ترجمان ایرانی وزارت دفاع جنرل رضا طلائی نے کہاکہ ایران کی دفاعی صنعت اس وقت ایک ہزار سے زیادہ جدید ہتھیاروں کے نظام اور فوجی سازوسامان تیار کر رہی ہے۔
1979ء سے پہلے ایران کی دفاعی پیداوار صرف 31 سادہ نوعیت کی اشیاء تک محدود تھی جن میں غیر ملکی جی تھری رائفلوں کی اسمبلنگ بھی شامل تھی، آج یہ صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے اور ایران جامع دفاعی صنعت رکھنے والا ملک بن گیا ہے ، بیلسٹک میزائل، ڈرونز، فضائی دفاعی نظام، ریڈار، فوجی الیکٹرانکس اور بھاری گولہ بارود بھی تیار کیا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا میزائل کے شعبے میں ایران اب دنیا کی 10 بڑی طاقتوں میں شامل ہے ۔ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے انفراسٹرکچر پر حملہ کیا گیا تو تہران امریکی توانائی کے اہم مراکز اور دیگر اہم مفادات کو نشانہ بنائے گا۔ ایران نے 45 ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے اپنے قواعد کی خلاف ورزی کرنے پر بلیک لسٹ کر دیا۔ ایران نے کہا ہے کہ ان جہازوں کے ساتھ مال کی منتقلی کرنے والے کسی بھی دوسرے بحری جہاز کیخلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ خلیج فارس سٹریٹ اتھارٹی کی جانب سے ایکس پر جاری کی گئی ایک پوسٹ کے مطابق جن بحری جہازوں کے نام دئیے گئے ہیں ان پر جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے ، انہیں حراست میں لیا جا سکتا ہے اور ان کا سامان ضبط کیا جا سکتا ہے ۔ پابندیوں کی فہرست میں بہت بڑے خام تیل بردار جہاز، مائع قدرتی گیس (ایل این جی ) اور مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی ) کے ٹینکرز، اور صاف شدہ پٹرولیم مصنوعات لے جانے والے جہاز اور دیگر بحری جہاز شامل ہیں۔فہرست میں شامل بعض جہاز متحدہ عرب امارات کی کمپنی اے ڈی این او سی لاجسٹکس اینڈ شپنگ ،اسکی ذیلی کمپنی اور سعودی عرب کی قومی شپنگ کمپنی کی ملکیت ہیں۔
ایرانی ایکس پوسٹ میں مزید کہا گیا کہ فہرست میں شامل جہازوں کے ساتھ سمندر میں ایک جہاز سے دوسرے جہاز میں مال منتقل کرنے کی کارروائی میں ملوث کوئی بھی بحری جہاز بلیک لسٹ میں شامل کیا جا سکتا ہے ۔ادھر چین کے 2 بحری جہاز آبنائے ہرمز کے ایرانی علاقے میں داخل ہو گئے ،ایک چینی جہاز متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ سے روانہ ہوکر آبنائے ہرمز کے ایرانی راستے سے گزرا جبکہ چینی پرچم بردار آئل ٹینکر کو بھی آبنائے ہرمز میں داخل ہوتے دیکھا گیا ہے ۔یمن کے حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی فورسز نے بحیرہ احمر میں سعودی عرب کے ایک آئل ٹینکر کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں جہاز میں آگ بھڑک اٹھی جبکہ ہدف کے قریب موجود دیگر کئی بحری جہاز علاقے سے فرار ہوگئے ۔برطانوی میری ٹائم ایجنسی یو کے ایم ٹی او کے مطابق بحیرہ احمر کے ساحل کے قریب ٹینکر سے نامعلوم پروجیکٹائل ٹکرانے اور آگ لگنے کا واقعہ سعودی شہر ینبع سے 63 ناٹیکل میل مغرب میں پیش آیا۔ایجنسی نے بتایا کہ تمام عملہ محفوظ ہے اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ دو ہفتوں تک مسلسل اضافے کے بعد پیر کو تیل کی قیمتوں میں کمی آئی، کیونکہ سرمایہ کاروں نے امریکا کی جانب سے معاشی پابندیوں سے متعلق متوقع اعلان سے پہلے اپنے منافع کو محفوظ کرنے کیلئے تیل فروخت کیا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت ایک فیصد سے زیادہ گر کر 93اعشاریہ 45 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت بھی ایک فیصد سے زیادہ کمی کے بعد 86اعشاریہ 14 ڈالر فی بیرل رہی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments