قومی اسمبلی ، سینیٹ ، پنجاب اسمبلی میں کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس ملتوی کرنا پڑ گئے
پی ٹی آئی کی مشعال یوسفزئی کی سینیٹ،اقبال آفریدی کی قومی اسمبلی میں کورم کی نشاندہی ، پیپلزپارٹی کورم پورا ہونے میں رکاوٹ، حکومت کی عدم دلچسپی ،اجلاس آج پھرہوگا اپوزیشن لیڈر کو بات کر نیکی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن کا سینیٹ میں احتجاج ،واک آؤٹ،پنجاب اسمبلی اجلاس میں بھی حکومت کوکورم پورا کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا،اجلاس ملتوی
اسلام آباد،لاہور(سٹاف رپورٹر،سیاسی نمائندہ، دنیا نیوز )وفاقی حکومت سینیٹ ،قومی اسمبلی اور صوبائی حکومت پنجاب اسمبلی میں کورم پورا کرنے میں ناکام ہوگئی ، اجلاس ملتوی کرنا پڑ گئے ، سینیٹ کا اجلاس ڈپٹی چیئرمین سیدال ناصر کی زیرصدارت ہوا، ایجنڈے پر کارروائی شروع ہوئی تو اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس نے بانی پی ٹی آئی کی صحت پر بات کرنا چاہی جبکہ تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر بیرسٹر علی ظفرتحریک پیش کرنا چا ہتے تھے ،قائد حزب اختلاف کو بات کرنے کی اجازت نہ دینے پر اپوزیشن اراکین اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور نعرے بازی کی، ڈپٹی چیئرمین نے کہا کہ جو معاملہ عدالت میں ہو اس پر ایوان میں بات نہیں کی جاسکتی،اس سے قبل سینیٹر علی ظفر نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج و معالجہ کے معاملے پر تحریک پیش کرنے کی اجازت دی جائے ، ڈپٹی چیئرمین نے قائد حزب اختلاف کو کہا کہ آپ کو ضرور وقت دوں گا، مہربانی کرکے ایوان کو چلنے دیں ، ایوان رولز کے مطابق چلے گا، آپ کی مرضی کے مطابق نہیں،اس دوران مشعال یوسفزئی نے سینیٹ میں کورم کی نشاندہی کردی۔ پی ٹی آئی کے ارکان احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے باہر چلے گئے جس کے بعد کورم پورا کرنے کے لیے گھنٹیاں بجائی گئیں تاہم کورم مکمل نہ ہوسکا اور اجلاس آج دن 11 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔قبل ازیں سینیٹ میں مختلف قوانین میں ترمیم کے 7 بلز بھی پیش کیے گئے جو متعلقہ کمیٹیوں کے سپرد کردیئے گئے۔
سینیٹر عبدالقادر نے فاطمہ انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ملتان کے قیام کا بل ،سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے مسلم عائلی قوانین میں ترمیم کا بل،سینیٹر کامران مرتضیٰ نے صنعتی تعلقات ترمیمی بل 2026 ،سینیٹر سرمد علی نے پاکستان پینل کوڈ میں ترمیم کا بل ،سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے عائلی عدالتیں ترمیمی بل 2026 ،فوجداری قوانین ترمیمی بل 2026 اورسینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے انسداد عصمت دری ترمیمی بل 2026 ایوان میں پیش کیے جنہیں متعلقہ کمیٹیوں کے سپرد کردیا گیا۔علاوہ ازیں قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر سردار ایازصادق کی صدارت میں ہوا۔ سپیکر کی ہدایت پر راولپنڈی کی حناجاوید مقتولہ کے لئے خاتون رکن سائرہ افضل تارڑ نے دعا کروائی ۔وفاقی وزیرقانون انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ پنجاب حکومت سے وزارت انسانی حقوق نے رپورٹ منگوائی ہے ،حنا جاوید کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائیگا،اس کیس کی مکمل پیروی کریں گے ۔اس دوران اقبال آفریدی نے متحدہ اپوزیشن سے مشاورت کے بغیر کورم کی نشاندہی کردی ،کورم پورا نہ ہونے پر کارروائی معطل ہوگئی ،دوبارہ اجلاس شروع ہوا تو پیپلزپارٹی کورم توڑتے دکھائی دی، ارکان لابی میں چلے گئے ،حیران کن طور پر حکومت کورم پورا کرنے کے لئے سرگرم نظر نہ آئی،کورم پورا نہ ہونے پر سپیکر نے اجلاس آج صبح گیارہ بجے تک ملتوی کردیا۔
دریں اثنا پنجاب اسمبلی کے 45ویں اجلاس کی دوسری نشست بھی حکومت کیلئے مشکلات کا شکار رہی اور حکومت مسلسل دوسری نشست میں ایوان کا کورم پورا کرنے میں ناکام ہوگئی، حکومتی بزنس شروع ہوتے ہی اپوزیشن رکن کرنل ریٹائرڈ شعیب امیر نے کورم کی نشاندہی کردی، جس کے بعد اجلاس پانچ منٹ کے لیے ملتوی کیا گیا تاہم مطلوبہ تعداد پوری نہ ہوسکی اور سپیکر ملک محمد احمد خان نے اجلاس آج دوپہر 2 بجے تک ملتوی کردیا۔ اجلاس میں پولیس کے ای چالان، سیلاب متاثرین، ستھرا پنجاب پروگرام اور دیگر معاملات پر حکومت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے کے خیر مقدم کی قرارداد بھی منظور کی گئی۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس 2 گھنٹے 7 منٹ کی تاخیر سے سپیکر ملک محمد احمد خان کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اجلاس میں اپوزیشن رکن رانا آفتاب احمد نے پولیس کو مبینہ ای چالانوں کی ریکوری کا اختیار دینے کی تجویز پر سخت اعتراض کیا۔ اس موقع پر سپیکر نے بھی معاملے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر ای چالان ڈیفالٹ ہونے کی صورت میں پاسپورٹ بننے سے روکنے کا اختیار دیا جاتا ہے تو یہ اختیار سے تجاوز ہوگا۔
پارلیمانی سیکرٹری خالد محمود رانجھا نے ایوان کو بتایا کہ اس معاملے پر لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ آچکا ہے ، اگر قانون سازی ہوتی ہے یا معاملہ کمیٹی میں آتا ہے تو پھر اسے دیکھا جائے گا۔ سپیکر نے پارلیمانی سیکرٹری کو معاملے کا جائزہ لینے کی ہدایت کی۔ اپوزیشن رکن سردار شہاب الدین نے کہا کہ میرے حلقے میں سیلاب متاثرین کو صرف ٹینٹ یا راشن فراہم کرنا کافی نہیں، انہیں مستقل طور پر آباد کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ سپیکر نے وزیر بلدیات ذیشان رفیق کو معاملہ سردار شہاب الدین کے ساتھ بیٹھ کر حل کرنے اور جھنگ، میانوالی، لیہ، جہلم سمیت دیگر متاثرہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز سے رابطہ کرکے ایوان کو صورتحال سے آگاہ کرنے کی ہدایت کردی۔دوسری جانب پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی شازیہ عابد نے مطالبہ کیا کہ ستھرا پنجاب پروگرام میں کرپشن کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ،اپوزیشن نے ایک بار پھر کورم کا معاملہ اٹھا دیا، یوں پنجاب اسمبلی کے 45ویں اجلاس کی مسلسل دوسری نشست میں بھی حکومت کورم پورا کرنے میں ناکام رہی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments