موڈیزنے پاکستان کی ریٹنگ بہتر کردی ، یہ معاشی صورتحال میں بہتری کا اعتراف : وزیراعظم

موڈیزنے پاکستان کی ریٹنگ بہتر کردی ، یہ معاشی صورتحال میں بہتری کا اعتراف : وزیراعظم

ریٹنگ بڑھا کر بی تھری کرنیکی وجہ گورننس میں بہتری، زرمبادلہ کے مضبوط ذخائر، موڈیز،قوم کو مبارکباد، ہماری منزل پاکستان کو مضبوط، خودکفیل،پائیدار معیشت بنانا ہے ،شہبازشریف خوردنی تیل کے درآمدی بل میں کمی ملک کی بڑی خدمت ہوگی،تقریب سے خطاب،زیتون کے شعبے میں مہارت کیلئے 100 زرعی گریجویٹس کو تربیت کے لیے اٹلی بھیجنے کا اعلان

اسلام آباد(خصوصی نیوز رپورٹر ،اے پی پی ) عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کردی،موڈیز کی جانب سے پاکستان کی ساورن ریٹنگ سی اے اے ون سے بڑھا کر بی تھری کردی گئی ہے ،موڈیز کے مطابق ریٹنگ میں بہتری کی وجوہات میں گورننس میں بہتری، زرمبادلہ کے ذخائر کا مضبوط ہونا اور مقامی قرض لینے کی لاگت میں کمی وجوہات میں شامل ہے ،موڈیز نے پاکستان میں مسلسل میکرواکنامک استحکام کو بھی ریٹنگ میں بہتری کی وجہ قرار دیا ہے ،موڈیز کے مطابق ان شعبوں میں بہتری سے پاکستان کی بیرونی پوزیشن مستحکم اور مالیاتی اشاریے بھی بہتر ہوں گے ، موڈیز کے مطابق آئی ایم ایف کے تعاون سے جاری اصلاحات کے پروگرام پر مسلسل عمل درآمد سے پالیسیوں کی ساکھ مضبوط ہوئی ہے ، معاشی استحکام برقرار رہا ہے اور سرکاری و بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے فنڈنگ کی راہ ہموار ہوئی ہے ۔ موڈیز کی جانب سے پیرکوجاری بیان کے مطابق پاکستان کی ریٹنگ کو بی تھری تک اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ اس توقع کی عکاسی کررہاہے کہ حکمرانی اور پالیسی سازی میں بہتری کے باعث حکومت ملک کے بیرونی شعبے میں حالیہ بہتری کو برقرار رکھنے اور مالیاتی اشاریوں کو مزید مستحکم بنانے میں کامیاب رہے گی۔ موڈیز کے مطابق اگست 2025 میں پاکستان کی ریٹنگ سی اے اے ون مقرر کیے جانے کے بعد سے ملک کو درپیش بیرونی کمزوریوں کے خطرات میں مزید کمی آئی ہے۔

زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جسے معاشی استحکام کے تسلسل سے تقویت ملی ہے ،دوسری جانب شرح سود میں کمی کے باعث ملکی سطح پر قرض لینے کی لاگت میں کمی اور مالیاتی صورتحال میں بہتری نے پاکستان کی قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے ، پاکستان کی کریڈٹ پروفائل میں بہتری اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ ملکی معیشت گزشتہ ادوار کے مقابلے میں بیرونی جھٹکوں جس میں جاری مشرق وسطی تنازع بھی شامل ہے کا مقابلہ کرنے کی زیادہ صلاحیت پیدا کر رہی ہے تاہم موڈیز نے خبردار کیا کہ اس مثبت پیش رفت کے باوجود پاکستان کی کریڈٹ پروفائل اب بھی بعض بنیادی کمزوریوں کا شکار ہے ، مستحکم آؤٹ لک ایک جانب پاکستان کے بنیادی کریڈٹ اشاریوں میں توقع سے زیادہ تیز بہتری کے امکانات اور دوسری جانب موجودہ خطرات کے درمیان توازن کی عکاسی کررہاہے ، اگر یہ خطرات شدت اختیار کرتے ہیں تو پاکستان کے لیے غیر ملکی کرنسی میں مالی وسائل تک رسائی متاثر ہو سکتی ہے اور حکومت کی مالیاتی گنجائش مزید محدود ہو سکتی ہے ، موڈیز کے مطابق سی اے اے ون سے بی تھری تک اپ گریڈ کا اطلاق پاکستان گلوبل سکوک پروگرام کمپنی لمیٹڈ کی حکومت کی ضمانت یافتہ غیر ملکی کرنسی میں ر غیر محفوظ ریٹنگ پر بھی ہوگا۔ اس پروگرام کے تحت ادائیگی کی ذمہ داریاں براہ راست حکومتِ پاکستان کی ذمہ داری ہیں جبکہ پاکستان گلوبل سکوک پروگرام کا آؤٹ لک بھی مستحکم برقرار رکھا گیا ہے ۔ اسی فیصلے کے ساتھ موڈیز نے پاکستان کی مقامی اور غیر ملکی کرنسی کی کنٹری سیلنگز بھی بالترتیب بی ٹواور سی اے اے ون سے بڑھا کر بی ون اوربی تھری کر دی ہیں ۔

موڈیز نے کہا کہ جولائی 2026 کے اختتام تک پاکستان کے سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریبا 17 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جو جولائی 2025 کے آخر میں 14 ارب ڈالر تھے ، یہ ذخائر تقریبا تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں، ریٹنگ ایجنسی نے توقع ظاہر کی ہے کہ اگر حکومت آئی ایم ایف پروگرام پر پیش رفت برقرار رکھتی ہے ، سرکاری و بین الاقوامی شراکت داروں سے بروقت رقوم ملتی رہتی ہیں اور عالمی مالیاتی منڈیوں تک پاکستان کی بتدریج رسائی جاری رہتی ہے تو مالی سال 2027 کے اختتام تک زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر تقریبا 19 سے 20 ارب ڈالر اور مالی سال 2028 میں 20 سے 21 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں، موڈیز نے کہا ہے کہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں متوقع اضافہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں ایک مضبوط حفاظتی بفر فراہم کرے گا جو عالمی منڈیوں یا اشیا کی قیمتوں میں منفی تبدیلیوں، خصوصا جاری مشرقِ وسطی تنازع کے باعث تیل کی بلند قیمتوں کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے ۔موڈیز نے مزید کہا ہے کہ پاکستان کی قرضوں کی ادائیگی کی استطاعت میں بھی انتہائی کمزور سطح سے نمایاں بہتری آئی ہے ،اگرچہ مہنگائی اب بھی شرح مبادلہ میں تبدیلیوں اور بیرونی جھٹکوں سے متاثر ہو سکتی ہے تاہم حکومتی عزم سے مہنگائی کے دباؤ کو محدود کرنے اور قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت میں ہونے والی بہتری کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی، خیال رہے کہ تقریباً 12 ماہ میں موڈیزنے پاکستان کی ریٹنگ دو درجے بہترکی ہے۔

اسلام آباد (نامہ نگار،اے پی پی، مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے موڈیز کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ سی اے اے ون سے بڑھا کر بی تھری کرنے پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے بہتری کا خیرمقدم اور حکومتی معاشی ٹیم کی کاوشوں کی پزیرائی کی ہے ، وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور تمام متعلقہ وزراء و حکام اس امر کیلئے لائق تحسین ہیں.پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری حکومت کی معاشی پالیسیوں اور اصلاحات پر عالمی اعتماد کا مظہر ہے ،بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کی معاشی صورتحال میں بہتری کا اعتراف خوش آئند ہے ،وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے ، بین الاقوامی اداروں کی جانب سے ریٹنگ میں بہتری اس کا واضح ثبوت ہے ، وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے حکومت اصلاحات کا عمل مزید تیز کرے گی،ہماری منزل پاکستان کو ایک مضبوط، خودکفیل اور پائیدار معیشت بنانا ہے ،دریں اثنا وزیر اعظم نے پاکستان نیشنل اولیو ویلیو چین پالیسی کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسانوں اور ماہرین کی شب و روز محنت کے نتیجے میں پاکستان نے زیتون کے شعبے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

ملک میں اس وقت 60 ہزار ایکڑ رقبے پر زیتون کی کاشت کی جارہی ہے ، انہوں نے زیتون کی پیداوار اور برآمدات میں اضافے کے لیے زیتون کے کسانوں، محققین اور برآمد کنندگان کو خراج تحسین پیش کیا،انہوں نے بلوچستان، خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ کی حکومتوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومتوں نے کسانوں کی بھرپور معاونت کی، یہ ایک اہم اقدام ہے اور کسانوں نے ثابت کردیا ہے کہ عزم، محنت اور جدید سوچ کے ذریعے بڑے نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں،وزیراعظم نے کہا کہ زرعی انقلاب کے لیے کسانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی، وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر کسانوں کو سہولتیں فراہم کریں گی، پاکستان ہر سال تقریباً 4 ارب ڈالر کا خوردنی تیل درآمد کرتا ہے ، اگر اس درآمدی بل میں سالانہ 40 کروڑ ڈالر کی کمی بھی لائی جائے تو یہ ملک کے لیے بڑی قومی خدمت ہوگی، خوردنی تیل کے درآمدی بل میں کمی کے لیے پام آئل اور سورج مکھی کی کاشت کو بھی فروغ دینا ہوگا،اس موقع پر وزیراعظم نے زیتون کے کاشتکاروں کو خراج تحسین پیش کیا اور کاشتکاروں، محققین اور زیتون کے شعبے سے وابستہ دیگر افراد میں شیلڈز تقسیم کیں،انہوں نے زیتون کے شعبے میں مہارت اور جدید زرعی طریقوں کے فروغ کے لیے 100 زرعی گریجوایٹس کو تربیت کے لیے اٹلی بھیجنے کا اعلان بھی کیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...