صنعتی واجبات کی وصولی کیلئے گھریلو کنکشن منقطح کرنا غیر قانو نی : لاہو ہائیکورٹ

 صنعتی واجبات کی وصولی کیلئے گھریلو کنکشن منقطح کرنا غیر قانو نی : لاہو ہائیکورٹ

ایک کنکشن کے واجبات کی وصولی کے لیے دوسرے الگ کنکشن کے خلاف کارروائی نہیں کی جا سکتی:جسٹس جواد حسن درخواست گزار کو مناسب سماعت کا موقع فراہم کرکے قانون کے مطابق وجوہات پر مبنی حکم جاری کرنے کی بھی ہدایت

لاہور (کورٹ رپورٹر) لاہور ہائیکورٹ نے صنعتی واجبات کی وصولی کے لیے الگ اور مکمل طور پر ادا شدہ گھریلو بجلی کنکشن منقطع کرنے کے خلاف اہم فیصلہ سنا دیا۔ جسٹس جواد حسن نے قرار دیا ہے کہ کسی دوسرے صنعتی کنکشن کے متنازعہ واجبات کی وصولی کے لیے شہری کا الگ، آزاد اور مکمل طور پر ادا شدہ رہائشی بجلی کنکشن منقطع نہیں کیا جا سکتا۔ دونوں کنکشنز ایک ہی شخص سے متعلق ہوں تب بھی ایک کنکشن کے واجبات کی وصولی کے لیے دوسرے الگ کنکشن کے خلاف کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ عدالت نے وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر خان کے بھائی غازی اختر خان کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔درخواست گزار کے وکیل نے مو قف اختیار کیا کہ ان کا رہائشی بجلی کنکشن الگ ہے ، جس کا اپنا میٹر، حوالہ نمبر، بلنگ ریکارڈ اور ادائیگی کا ریکارڈ موجود ہے ، جبکہ مبینہ واجبات ایم/ایس سپیریئر ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ کے الگ صنعتی کنکشن سے متعلق ہیں۔

درخواست گزار اپنے گھریلو کنکشن کے تمام بل باقاعدگی سے ادا کر رہا ہے ، اس لیے صنعتی کنکشن کے متنازعہ واجبات اس کے رہائشی کنکشن پر عائد نہیں کیے جا سکتے ۔وکیل کے مطابق بجلی منقطع کرنے سے قبل قانونی تقاضے پورے کرنا اور مقررہ نوٹس جاری کرنا بھی لازم ہے ، تاہم درخواست گزار کے رہائشی کنکشن کے حوالے سے نہ کوئی واجب الادا رقم ہے اور نہ ہی بجلی منقطع کرنے کا قانونی نوٹس جاری کیا گیا۔عدالت نے متعلقہ حکام کو درخواست گزار کے خلاف کسی بھی جبری اقدام سے روک دیا اور تمام متعلقہ فریقین، بالخصوص درخواست گزار کو مناسب سماعت کا موقع فراہم کرکے قانون کے مطابق وجوہات پر مبنی حکم جاری کرنے کی ہدایت کردی۔ لاہور ہائیکورٹ نے متعلقہ حکام کو معاملہ دو ہفتوں میں نمٹانے کا حکم دیتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...