اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد پارلیمنٹ تک محدود کیوں ؟
عملاً اب اپوزیشن لیڈر فضل الرحمن اور محمود خاں اچکزئی ہوں گے
(تجزیہ:سلمان غنی)
پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے درمیان پارلیمان کی سطح پر اتحاد اور مشترکہ کردار ادا کرنے پر اتفاق کے عمل کو سیاسی محاذ پر اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ پارلیمان سے باہریہ جماعتیں اپنی اپنی حکمت عملی اور موقف پر کاربند ہوں گی، حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی حکمت عملی کے تعین کیلئے کمیٹی بھی قائم کی جا رہی ہے لہٰذا مذکورہ اتحاد کے جائزہ کی ضرورت ہے کہ یہ کسی بنیاد پر قائم ہوا اور ان کا اصل ٹارگٹ کیا ہے اور یہ حکومت پر کس حد تک اثر انداز ہو پائے گا ، دلچسپ امر یہ ہے کہ حکومت مخالف اتحاد میں دو اہم رہنما خصوصاً مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی نے ماضی میں خود پی ٹی آئی حکومت کے خاتمہ میں بنیادی کردار ادا کیا تھا لیکن اب ملک میں پیدا شدہ نئی صورتحال یہاں آ پہنچی ہے کہ اپوزیشن کی بڑی جماعت اپوزیشن کی قیادت مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کو سونپنے پر مجبور ہو چکی ہے ، خود پی ٹی آئی کی جیل سے باہر لیڈر شپ خصوصاً بیرسٹر گوہرو دیگر کا سیاسی محاذ پر کوئی بڑا قد کاٹھ بنتا نظر نہیں آتا،لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ اس نئے اتحاد میں فیصلہ سازی میں بڑا کردار فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کے پاس ہوگا لیکن واقفان حال کہتے نظر آتے ہیں کہ یہ اتحاد حالات کی مجبوری کے باعث ممکن بنا ورنہ جے یو آئی اور پی ٹی آئی میں ابھی بھی شدید اختلافات اور تحفظات ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جے یو آئی اور پی ٹی آئی کے درمیان بھروسے کا بحران اور سٹرٹیجک فرق اتنا گہرا ہے جو مکمل اتحاد کی راہ میں اصل رکاوٹ ہے تاہم حکومت اس اتحاد سے زیادہ پریشان نظر نہیں آ رہی ، دوسری جانب سیاسی امور پر گہری نظر رکھنے والے یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ پہلے پارلیمان کی سطح پر اپنی جماعت کے اکلوتے ایم این اے محمود اچکزئی نے اپوزیشن لیڈر بن کر اپنی سیاسی قیمت وصول کی اور اب اپوزیشن کے مجوزہ اتحاد میں اپوزیشن کی اصل قیادت مولانا فضل الرحمن کے حصے میں آئے گی البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اب پارلیمان کی سطح پر اپوزیشن کا اتحاد پارلیمانی محاذ پر حکومت کے لئے چیلنج ہوگا اوراس نئی سیاسی پیش رفت کے بعد من مانی قانون سازی ممکن نہیں بن پائے گی جہاں تک اس نئے اتحاد کی جانب سے نئے صوبوں کی تجویز کی مخالفت کے اعلان کا تعلق ہے اور بقول مولانا فضل الرحمن کے کہ ایسے اقدامات سے سیاسی عدم اعتماد بڑھے گا، ظاہر کرتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کسی بڑے سیاسی کھیل کا حصہ ہیں اور وہ اپنے اس کھیل میں پی ٹی آئی کو ساتھ لیکر چلنا چاہتے ہیں ، لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ جے یو آئی اپوزیشن کو پارلیمانی طاقت تو دے گی لیکن ماضی کے اختلافات کے باعث ان کا کردار محدود اور غیر مستحکم ہوگا، ظاہر ہوتا ہے مولانا فضل الرحمن سے حکومت کو کوئی بڑا خطرہ نہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments