سانحہ پمز : سلگتے سوالات پر مکمل خاموشی : 14 نومولود بچوں کی اموات، آگ کیسے لگی؟ ذمہ دار کون؟ وزیر صحت مستعفی ہوجائیں: قائمہ کمیٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کا استعفے سے انکار
ایئر کنڈیشنر سے آگ لگنے کا بتایا مگر اے سی تو کام ہی نہیں کررہا تھا، نرسوں کو بٹھا کر ایک بیان یاد کرایا گیا:ڈاکٹر مہیش کمار،ہنگامی پلان ناپید،ایمرجنسی اخراج مستقل لاک،فائر سیفٹی کا این او سی نہ ہونیکا انکشاف وزیراعظم کی تحقیقاتی کمیٹی کی عملے سے پوچھ گچھ،سی سی ٹی وی ریکارڈ ضبط،سینیٹ کمیٹی کا اجلاس پمز میں بلانے کا فیصلہ، نرسری میں 15 بچے تھے ، ایک کو خالہ نے بچایا، 14سپرد خاک، 50،50لاکھ امداد کااعلان
اسلام آباد(نیوز رپورٹر، نامہ نگار، مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی دارالحکومت کے پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی سے جاں بحق ہونے والے 14 نومولودوں کو سپرد خاک کردیا گیا، سانحے سے متعلق سلگتے سوالات پر مکمل خاموشی، آگ کیسے لگی ؟واقعے کے وقت ڈیوٹی عملہ موجود تھا یا نہیں ؟ غفلت کس کی ؟ ذمہ دارکون ؟ تعین تاحال نہ ہوسکا،قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے ہسپتال کے عملے اور انتظامیہ کے جوابات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا، واقعے کے وقت ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز اور سٹاف کو معطل کرنے کا مطالبہ کردیا، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کو بھی اخلاقی طورپر مستعفی ہونے کا مشورہ دیدیا۔پمز ہسپتال کے دورے کے بعد چیئرمین قائمہ کمیٹی ڈاکٹر مہیش کمار نے کہا کل ایئر کنڈیشنر سے آگ لگنے کا بتایا، آج پتا چلا کہ اے سی تو کام ہی نہیں کررہا تھا، سی سی ٹی وی سے بھی نہ پتا چل سکا کہ آگ کیسے لگی، بظاہر لگ رہا ہے کہ نرسوں کو بٹھا کر ایک بیان یاد کرایا گیا۔مہیش کمار نے واقعے کی خود تحقیقات کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نرسری 1990کی بنی ہوئی ہے، چھوٹے بچوں کو نئے بلاک کی نرسری میں رکھنا چاہیے تھا۔ قائمہ کمیٹی نے پیر کو پمز ہسپتال میں ہی اجلاس بلانے کا فیصلہ کرلیا، پی ٹی آئی کے سینیٹرز کو بھی شرکت کی دعوت دے دی۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز نے اخلاقی بنیادوں پر استعفیٰ دینے سے انکار کردیا، ہسپتال انتظامیہ نے آگ لگنے کے واقعے کی تحقیقات کیلئے پروفیسرڈاکٹرعاطف انعام کی سربراہی میں 4 رکنی کمیٹی بنادی،کمیٹی کو 48 گھنٹوں کے اندر رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی گئی۔نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی آگ لگنے کی اصل وجہ اور فائر سیفٹی اقدامات کا جائزہ لے گی، ریسکیو آپریشن کی افادیت اور رسپانس ٹائم کی بھی جانچ کی جائے گی، واقعے کے ذمہ داران کا تعین کرکے سخت کارروائی کی سفارش کی جائے گی۔پمز انتظامیہ کی ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عنیزہ جلیل بھی کمیٹی کی ممبر ہیں، ڈاکٹرعنیزہ جلیل نے گزشتہ روز وزیراعظم کی بنائی کمیٹی کو اپنا بیان قلمبند کروایا تھا، ڈاکٹر عنیزہ نے خود ہی پمز کی تحقیقاتی کمیٹی کے نوٹیفکیشن پر دستخط کیے ۔ قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کرنے کا حکم دیا اور وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے اور معطل کرنے کی ہدایت جاری کی۔وزیراعظم کی ہدایت پر وفاقی سیکرٹری شاہد خان کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی گئی، جس میں میجر جنرل (ر)ڈاکٹر خورشید ، ڈاکٹر بیرسٹر نبیل احمد اعوان اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو بطور رکن شامل کیا گیا ، سربراہ کمیٹی شاہد خا ن نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے ہمراہ ہسپتال پہنچ کر جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔وزیراعظم کی تحقیقاتی کمیٹی نے ہسپتال کی نرسری کے عملے سے تحریری بیانات طلب کرلیے۔
ذرائع کے مطابق نرسری کی سی سی ٹی وی کا ریکارڈ قبضہ میں لے لیا گیا، نرسری سٹاف سے سوالات کیے گئے ، کمیٹی نے سی سی ٹی وی کا جائزہ لیا، آگ کی وجوہات سے متعلق انتظامیہ کے بیان اور سی سی ٹی وی ویڈیو کا موازنہ کیا۔پمز ہیلتھ مینجمنٹ کے عملے سے پوچھ گچھ کی، کمیٹی پمز انتظامیہ نے 26 اگست کو ڈیوٹی پر موجود عملے کا روسٹر جمع کرا یا جبکہ فائربریگیڈ اور ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ نے اپنی رپورٹ پیش کی، کمیٹی کو جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرپمز سمیت 4افسروں نے تحریری بیانات جمع کرائے ،کمیٹی 48گھنٹوں میں عبوری تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی۔شہبازشریف نے کہا اندوہناک واقعے پر دل رنجیدہ ہے ،ذمہ داروں کیخلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ۔چیف کمشنر اسلام آباد کے احکامات پر بھی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی جس کی سربراہی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) اسلام آباد کر رہے ہیں جبکہ اراکین میں ڈائریکٹر جنرل کیپیٹل ایمرجنسی سروسز، ایس پی سٹی، اسسٹنٹ کمشنر انڈسٹریل ایریا، سی ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل الیکٹریکل اینڈ مکینیکل کے علاوہ آئیسکو اور پمز کے نمائندے شامل ہیں ۔
ذرائع کے مطابق پمز ہسپتال کے پاس فائر سیفٹی کا این او سی موجود نہیں ہے جبکہ اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے اپنے دفتر میں فائر سیفٹی کے ناقص انتظامات ہیں،اتھارٹی آئی ایچ آر اے اور فائر ڈیپارٹمنٹ کے این او سی کے بغیر ہی لائسنس کی تجدید کر دیتی ہے ۔ قانون کے مطابق پمز ہسپتال میں فائر فائٹنگ ، سیفٹی و اخراج پلان نہ بنانے کا بھی انکشاف ہوا ہے ، آگ لگنے اور ہنگامی صورتحال میں ملازمین و مریضوں کے انخلا کا کوئی پلان تیار نہیں کیا گیا۔سی ڈی اے ڈائریکٹوریٹ آف ایمرجنسی اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی فائر انسیڈنٹ رپورٹ میں ہسپتال کے فائر سیفٹی انتظامات پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ آتشزدگی کی ممکنہ وجہ بجلی شارٹ سرکٹ یا پلگ کا اوور لوڈ قرار دی گئی ہے ۔ رپورٹ کے مشاہدات میں انکشاف کیا گیا کہ ہسپتال میں فائر اور لائف سیفٹی انتظامات ناکافی تھے ، بعض حفاظتی اقدامات مقررہ معیارات کے مطابق نہیں تھے ، ہنگامی اخراج کے راستے مستقل طور پر باہر سے لاک یا رکاوٹوں کا شکار پائے گئے ، ہسپتال کے سکیورٹی عملے کی جانب سے فائر کریو کی ابتدائی کارروائی میں بھی رکاوٹ پیدا ہوئی، جائے وقوعہ پر ہجوم کو مناسب انداز میں کنٹرول کرنے کا انتظام بھی ناکافی تھا، واقعے کے دوران مریض بچوں، خواتین اور مردوں سمیت متعدد افراد کو نکال کر منتقل کیا گیا۔
نرسری میں 15 بچے تھے ، ایک کو خالہ نے بچایا، جاں بحق ہونے والے 14 بچوں کو سپرد خاک کر دیا گیا،حکومت نے لواحقین کیلئے فی کس 50لاکھ روپے مالی امداد کا اعلان کردیا۔خیال رہے ایک روز قبل صبح تقریباً 6 بج کر 38 منٹ پر پمز کے زچہ و بچہ مرکز (ایم سی ایچ سنٹر) کی نرسری میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا، ابتدائی رپورٹ کے مطابق آتشزدگی کا آغاز نرسری کے اندر ایک چنگاری سے ہوا، جو سیکنڈوں میں ہر انکیوبیٹر کے ساتھ نصب آکسیجن پوائنٹس کی وجہ سے شدید آگ میں تبدیل ہو گئی۔ہسپتال کے ترجمان کے مطابق اس وقت نرسری میں موجود دو ڈاکٹروں اور دو نرسوں نے فوری طور پر ردعمل دیتے ہوئے سکیورٹی عملے کو بھی طلب کر لیا، جس کے بعد عملہ دو مرتبہ نوزائیدہ بچوں کو باہر نکالنے کے لیے اندر داخل ہوا۔ تاہم 6 بج کر 39 منٹ پر ایک شدید دھماکا ہوا جس سے چھت گر گئی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments