پنجاب میں گرین پراپرٹی سرٹیفیکٹ 6 ماہ کیلئے معطل : منظوری اسمبلی سے تو معطلی بھی یہاں سے ہونی چاہیے : سپیکر
پنجاب اسمبلی اجلاس میں دی یونیورسٹی آف لاہور ترمیمی بل منظور ، انسداد دہشتگردی ایکٹ 2026 کا ترمیمی بل مؤخر کر دیا گیا آڈٹ رپورٹس کی تاخیر دور کرنے کیلئے اگلے ہفتے خصوصی اجلاس بلانے کی ہدایت، کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس ملتوی
لاہور (سیاسی نمائندہ،دنیا نیوز)پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں زمینوں کی خرید و فروخت میں مسائل کا معاملہ زیر بحث آیا، پنجاب حکومت نے گرین سرٹیفکیٹ کو 6 ماہ کیلئے معطل کردیا۔مجتبیٰ شجاع الرحمن نے ایوان میں اعلان کیا کہ گرین سرٹیفکیٹ میں مسائل سامنے آنے پر اسے چھ ماہ کیلئے معطل کردیا ہے۔ سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ گرین سرٹیفکیٹ اسمبلی سے پاس ہوا تو اسے معطل کرنے کا اختیار بھی اسمبلی کے پاس ہونا چاہیے ، اگر گرین سرٹیفکیٹ چھ ماہ کیلئے معطل ہوا تو پھر کس قانون کے تحت ہوا ،یہ ہی تو جاننا ہے ۔راجہ شوکت بھٹی نے کہا کہ ابھی تک 2020 سے 2026 تک کا لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہی نہیں ہے ۔ حکومت پنجاب کو 45 ویں اجلاس کی چوتھی نشست میں بھی مسلسل سبکی کا سامنا رہا، اپوزیشن کی جانب سے 2 مرتبہ کورم کی نشاندہی کی گئی اور چوتھی نشست میں بھی حکومت کورم پورا کرنے میں ناکام رہی۔
پنجاب اسمبلی کے پینتالیسویں اجلاس کی چوتھی نشست دو گھنٹے 31 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوئی۔ پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر علی امتیاز وڑائچ نے پولیس گردی کے معاملے پر ایوان میں احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ چوبرجی میں بارہ ربیع الاول کے موقع پر زبیر خان نیازی کی والدہ کو پولیس نے ہراساں کیا اور پانچ گھنٹے کے لیے جیل میں بند رکھا۔ ایوان میں تحریک استحقاق کمیٹی کی کارروائی کے حوالے سے سپیکر ملک محمد احمد خان نے کہا کہ استحقاق کمیٹی کی پروسیڈنگ لائیو نشر ہو رہی ہوتی ہے ، اگر استحقاق کمیٹی میں بات آئین کے پیرائے میں کی جائے تو استحقاق مجروح نہیں ہوگا۔ لیو انکیشمنٹ کے سوال پر مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ سوال کا جواب آچکا ہے لیکن وہ اس سے مطمئن نہیں، وہ اس کا تفصیلی جواب لے کر کل ایوان میں دیں گے ۔ انسداد دہشت گردی ترمیمی بل پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان میں گفتگو ہوئی۔ رانا آفتاب احمد خان نے کہا کہ اینٹی ٹیرارزم بل آئین کی خلاف ورزی ہے۔
مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ دی اینٹی ٹیرارزم ترمیمی بل 2026ء ایک طریقہ کار کے تحت ایوان میں لایا گیا ہے۔ وزیر قانون پنجاب رانا محمد اقبال نے کہا کہ بل سٹینڈنگ کمیٹی سے ہوکر ایوان میں آیا ہے ، اس لیے رانا آفتاب احمد کو یہ بات نہیں کرنی چاہیے ۔ سمیع اللہ خان نے کہا کہ اپوزیشن اینٹی ٹیرارزم بل کی ترمیم پر بات کرسکتی ہے ۔ مجتبیٰ شجاع نے کہا کہ ان کے خیال میں بل منظوری کے لیے آئے تو اس پر بات ہونی چاہیے ، معزز رکن کے کہنے پر انسداد دہشت گردی ایکٹ ترمیمی بل دوبارہ دیکھنے پر اتفاق ہوا۔ مجتبیٰ شجاع نے کہا کہ بل دوبارہ دیکھ لیتے ہیں، جس پر سپیکر ملک محمد احمد خان نے پنجاب حکومت کا انسداد دہشت گردی ایکٹ 2026ء کا ترمیمی بل مؤخر کردیا۔ پنجاب حکومت نے زمینوں کی خرید و فروخت میں مسائل کے باعث گرین سرٹیفکیٹ چھ ماہ کے لیے معطل کرنے کا اعلان کیا۔ شیخ امتیاز کی جانب سے گفتگو کی اجازت نہ دینے پر کورم کی نشاندہی کی گئی، جس پر پینل آف چیئرپرسن سمیع اللہ خان نے پانچ منٹ تک گھنٹیاں بجانے کا اعلان کیا۔
حکومت کورم پورا کرنے میں کامیاب ہوگئی اور اجلاس جاری رہا۔ بعد ازاں پنجاب اسمبلی میں دی یونیورسٹی آف حکماء لاہور بل 2026ء پیش کیا گیا، جسے سپیکر نے دو ماہ کے لیے متعلقہ کمیٹیوں کے حوالے کردیا۔ دی ریولیشن یونیورسٹی فیصل آباد بل 2026ء اور غنی یونیورسٹی شیخوپورہ بل 2026ء بھی ایوان میں پیش کیے گئے ، دونوں بل چیف وہپ رانا محمد ارشد نے پیش کیے اور سپیکر نے انہیں دو ماہ کے لیے سٹینڈنگ کمیٹی کے حوالے کردیا۔ دی پنجاب گورنمنٹ سرونٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن ترمیمی بل 2026ء اور دی یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور ترمیمی بل 2026ء بھی ایوان میں پیش کیے گئے ۔ دی یونیورسٹی آف لاہور ترمیمی بل 2026ء پنجاب اسمبلی سے منظور کرلیا گیا، بل حکومتی رکن غزالی سلیم بٹ نے پیش کیا۔ دی اختر سعید یونیورسٹی بل 2026ء بھی منظور کرلیا گیا، بل حکومتی رکن سمیع اللہ خان نے پیش کیا۔سرکاری کارروائی کے دوران دی پراونشل موٹر وہیکل تیسری ترمیم آرڈیننس 2026ء اور دی اثاثہ مینجمنٹ اتھارٹی آف پنجاب آرڈیننس 2026ء ایوان میں پیش کیے گئے۔
جبکہ دی پنجاب کرمنل پراسکیوشن سروس انسپکوریٹ ترمیمی بل 2026ء اور دی پنجاب سکلز ڈویلپمنٹ اینڈ انٹرپینورشپ اتھارٹی بل 2026ء بھی متعارف کرائے گئے ۔سپیکر نے کہا کہ اس جیسے انسداد دہشت گردی ایکٹ پہلے بھی پاس ہوچکے ہیں، لیکن اچھی بات ہے دوبارہ معائنہ کرلینا چاہیے ۔پی اے سی تھری کے چیئرمین نے پنجاب حکومت کے محکموں کی آڈٹ میں تاخیر پر نقطہ اعتراض اٹھایا۔ سپیکر نے آڈٹ رپورٹس کی تاخیر دور کرنے کے لیے اگلے ہفتے خصوصی اجلاس طلب کرنے کی ہدایت کی ۔ پنجاب اسمبلی میں دی پنجاب سنٹر آف ایکسیلنس آن کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریم ازم ترمیمی بل 2026ء، دی پنجاب کنسولیڈیشن آف ہولڈنگ ریپیل بل 2026ء اور دی پنجاب فوڈ سیفٹی لاز ترمیمی بل 2026ء منظور کرلیے گئے ، جبکہ دی پنجاب آٹزم سکول اینڈ ریسورس سنٹر ترمیمی بل 2026ء بھی پنجاب اسمبلی سے منظور ہوگیا۔ مجتبیٰ شجاع الرحمن اور حافظ فرحت عباس کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ حافظ فرحت نے کورم کی نشاندہی کی اور حکومت کورم پورا کرنے میں ناکام رہی اور پینل آف چیئرپرسن سمیع اللہ خان نے کورم پورا نہ ہونے پر پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج دوپہر دو بجے تک ملتوی کردیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments