14 بچے جان سے گئے، حکومت ذمہ دار : اسلام آباد ہائیکورٹ ، سرشرم سے جھک گیا : ایڈووکیٹ جنرل

14 بچے جان سے گئے، حکومت ذمہ دار : اسلام آباد ہائیکورٹ ، سرشرم سے جھک گیا : ایڈووکیٹ جنرل

افسوس اوردکھ کی بات،اتنے بڑے ہسپتال میں سہولت نہ ہو تو لوگ کیا کرینگے ؟کیسے علاج کیلئے جائیں گے ؟جسٹس آصف قیدی کی بیماری سے نہیں کھیل سکتے :ریمارکس،اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں کی نجی ہسپتال سے علاج کی درخواست پرفیصلہ محفوظ

اسلام آباد(اپنے نامہ نگار سے )اسلام آباد ہائیکورٹ نے اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں کی جانب سے نجی ہسپتال سے علاج معالجہ اور لواحقین سے واٹس ایپ کال پربات کرانے سے متعلق کیس میں فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا، جسٹس محمد آصف نے ریمارکس دیئے کہ ہمارے حالات یہ ہیں کہ 14 بچے کل جان سے گئے ہیں،اتنے بڑے ہسپتال میں آپ کے پاس اس قسم کی سہولت نہ ہو تو لوگ کیا کریں گے ؟ ،ایڈووکیٹ جنرل اسلام آبادصاحب!ایسے واقعات کی روک تھام آپ اور حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے، بہت افسوس اور دکھ کی بات ہے کہتے ہیں اسلام آباد وفاقی دارالحکومت ہے اور یہاں ہسپتال میں یہ ہو رہا ہے ،اس صورت میں لوگ کیسے علاج کے لئے جائیں گے ؟ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفر اللہ نے کہا کل کے واقعے کی کوئی وضاحت نہیں میرا سر شرم سے جھک گیاہے۔

گزشتہ روز قیدیوں اویس الطاف، الیاس خان اور اسماعیل کی درخواستوں پر سماعت کے دوران جیل حکام کی رپورٹس پیش کی گئیں، جسٹس محمد آصف نے کہا اگر کسی قیدی کو بیماری لاحق ہو جائے تو کیا کریں گے ،قیدی کی بیماری سے آپ نہیں کھیل سکتے ۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے تین قیدیوں کو پرائیویٹ ہسپتال میں علاج کی درخواستوں کی مخالفت کر دی،ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا جیل رولز میں پورا سسٹم دیا گیاہے اگر کوئی قیدی بیمار ہو گا اس کا مکمل علاج ہو گا ،بہترین میڈیکل آفیسر پمز کے ہیں یہ ملک کا اعلٰی ہسپتال ہے ، جسٹس محمد آصف نے کہا پمز ہسپتال کی حالت آپ دیکھ لیں اس کی کیا حالت ہو چکی ہے ،فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...