خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 15 دہشتگرد ہلاک
خضدار میں 4، بنوں 2 ،جنوبی وزیرستان 5خوارج ، پشاور میں بھی 4دہشتگرد مارے گئے ،اسلحہ و گولہ بارود برآمد خاران میں فورسز سے شرپسندوں کی جھڑپیں، چاغی میں گاڑیوں کو نقصان ، سیف سٹی پروجیکٹ فعال کرنے کا فیصلہ
کوئٹہ، پشاور (دنیا نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک) سکیورٹی فورسز کی بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف تازہ کارروائیوں میں 11 دہشت گرد ہلاک ہو گئے جبکہ پشاور میں سی ٹی ڈی پختونخوا کی کارروائی میں 4دہشتگرد مارے گئے۔ دوسری طرف بلوچستان کے مختلف اضلاع میں شدت پسندوں کی کارروائیاں، سکیورٹی فورسز سے جھڑپیں ہوئی ہیں جبکہ کوئٹہ میں بلوچستان کی صورتحال بارے دفاعی جائزہ اجلاس کے دوران سیف سٹی پروجیکٹ فعال کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے ضلع خضدار ساسول میں فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائی میں 4 دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں، دہشت گردوں کو کواڈ کاپٹر کی مدد سے مو ثرانداز میں نشانہ بنایا گیا۔ دریں اثنا سکیورٹی فورسز نے پختونخوا کے ضلع بنوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے 2 دہشت گرد ہلاک ،ٹھکانے تباہ کر دیئے جبکہ اسلحہ وگولہ بارود برآمد کر لیا ۔ اسی طرح جنوبی وزیرستان کے علاقے لدھا میں بھی خفیہ اطلاع پرآپریشن میں 5خوارج ہلاک کر دیئے۔
مزید برآں وزیراعظم شہباز شریف نے آپریشن میں 11 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے ۔دریں اثناء سی ٹی ڈی پشاور ریجن نے قبرستان مہر گل کلے ، میراکچوڑی میں انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی کرتے ہوئے 4 مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک کردیا، ایک ہلاک دہشت گرد کی شناخت سید ولی سکنہ ننگرہار افغانستان کے نام سے ہوئی ۔حکام کے مطابق سید ولی ممکنہ طور پر ان 3 خودکش حملہ آوروں میں شامل تھا جو اس سے قبل افغانستان سے پاکستان دہشت گردی کی غرض سے داخل ہوئے تھے ۔ دوسری طرف بلوچستان کے ضلع خاران میں نامعلوم مسلح افراد اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے بتایا کہ گزشتہ شب کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں نے خاران شہر میں ناکہ بندی کی کوشش کی اور پولیس کی ایک گاڑی کو نذر آتش کیا،سکیورٹی فورسز اور پولیس کی فوری جوابی کارروائی کے نتیجہ میں حملہ آور فرار ہوگئے ، حملہ آوروں کو نقصان بھی پہنچا ہے۔
مسلح افراد نے بیسیمہ پولیس چوکی کو دھماکا خیز مواد سے اڑا دیا جبکہ 4 پولیس اہلکاروں کو اغوا کیا تاہم بعد ازں انہیں چھوڑ دیا ۔ادھر خاران سے متصل ضلع چاغی میں نامعلوم مسلح افراد نے گزشتہ روز فائرنگ کرکے 4 مال بردار گاڑیوں،ضلع قلات میں دو مال بردار گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی پرحملہ آور پہاڑوں کی جانب فرار ہوگئے ۔ ضلع کوئٹہ سے متصل ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک پل کو دھماکا خیز مواد سے نقصان پہنچایا۔ دریں اثنا پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاورکے علاقہ چمکنی میں ترناب فارم پولیس چوکی کے قریب نا معلوم افراد کی جانب سے بارودی مواد پھینکے جانے کے نتیجے میں دھماکا ہوا، جس کے باعث ڈیوٹی پر موجود 2 پولیس اہلکاروں سمیت 7 افراد زخمی ہو گئے ۔زخمیوں کو موقع پر ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ہسپتال منتقل کر دیا گیا ۔دوسری طرف بلوچستان کی مجموعی صورتحال سے متعلق کوئٹہ میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور کور کمانڈر کوئٹہ کی زیر صدارت 2 روزہ 28 واں دفاعی جائزہ اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں کوئٹہ سمیت اہم علاقوں میں مرحلہ وار سیف سٹی پروجیکٹ فعال کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments