سندھ کی کسی بھی شکل میں تقسیم قبول نہیں، اسمبلی میں دوسرے روز بھی بحث

سندھ کی کسی بھی شکل میں تقسیم قبول نہیں، اسمبلی میں دوسرے روز بھی بحث

سندھو دیش کی بات کرنیوالوں کیخلاف بھی ایوان متحد ہو ،ناصر شاہ،آرٹیکل 140 اے پر مکمل عمل کیا جائے ،ندا کھوڑو سندھ کی تقسیم کے حق میں نہیں ، اختیارات کی نچلی سطح پر تقسیم ناگزیر،ناانصافی کا سلسلہ بند ہونا چاہیے ،اپوزیشن ارکان انتظامی یونٹس کو سیاسی تناظر میں نہ دیکھا جائے ،رکن ایم کیو ایم ،ایوان میں مرسوں مرسوں تعلیم ،صحت نہ ڈیسوں کا نعرہ

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی نے منگل کو دوسرے روز بھی پیپلز پارٹی کے رکن نثار احمد کھوڑو کی سندھ کی تقسیم کے خلاف اور نئے صوبوں کی تشکیل سے متعلق تحریک التوا ئپر بحث جاری رکھی جس میں حکومت اور اپوزیشن کے متعدد ارکان نے حصہ لیا۔حکومتی ارکان نے اپنے اس دوٹوک موقف کا اظہار کیا کہ انہیں اور صوبے کے عوام کو سندھ کی کسی بھی شکل میں تقسیم قبول نہیں،پیپلز پارٹی کے رکن نے کہا کہ سندھ بمبئی بیکری کا کیک نہیں کہ اس کے ٹکڑے کردیئے جائیں۔ اپوزیشن ارکان نے کہا کہ وہ بھی سندھ کی تقسیم کے حق میں نہیں مگر سندھ میں بیڈ گورننس اور ناانصافی کا سلسلہ بند ہونا چاہیے ، اختیارات کی نچلی سطح پر تقسیم اوربلدیاتی اداروں کو مضبوط بنانا ضروری ہے ۔اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سید اویس قادر شاہ کی زیر صدارت شروع ہوا۔وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ نثار کھوڑو نے آئینی طریقہ کار کے مطابق راستہ اپنا یا،آئیں ہم اتحاد کے ساتھ پیغام دیں کہ سندھ تقسیم نہیں ہوگا ۔ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سندھو دیش کی بات کرنے والوں کے خلاف بھی ایوان متحد ہو کر پیغام دے ۔پنجاب والے اگر چاہتے ہیں کہ صوبہ بنے تو وہ خود بنالیں ۔انہوں نے کہا کہ جب پنجاب کے نئے صوبوں میں دودھ کی نہریں بہیں تو ہمیں کہنا کہ دیکھو نیا صوبہ کیسا ہے ۔ناصر شاہ نے کہا کہ مصطفی کمال بھی سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے ۔

صوبائی وزیر نے ایوان میں مصطفی کمال کا ایک آڈیو کلپ بھی سنایا ۔ انہوں نے تمام ارکان سے کہا کہ آئیں ہم اس قراداد کو مل کر پاس کریں سندھ ایک تھا اور ایک رہے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم پر تنقید کریں، ہم خندہ پیشانی سے قبول کریں گے ، ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ہم سے بھی کوتاہیاں ہوتی ہیں تاہم اپنی طرف سے بہتر کارکردگی دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن خامیاں ہوسکتی ہیں۔ وزیر آبپاشی جام خان شورو نے کہا کہ سندھ کی وحدانیت پر کبھی کوئی سوال نہیں ہوگا، پہلے ملتان تک سندھ کی حکومت تھی۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ اگرآج کوئی سندھ کی سرحد تبدیل کرے گا تو سندھ کے لوگ حکمرانوں کو نہیں چھوڑیں گے ۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ تقسیم کی بات کرتے ہیں وہ پاکستان کے خیر خواہ نہیں ہیں۔ وزیر ثقافت ذوالفقار علی شاہ نے کہا کہ ماضی میں نفرتوں سے بہت نقصان ہوا ۔ایک وفاقی وزیر 14 بچوں کی موت پر توجہ دے ،وزیر موصوف نفرتوں کی بات نہ کریں۔پیپلز پارٹی کی خاتون رکن سمیعتا افضال نے کہا کہ سندھ ہماری ریڈ لائن ہے ۔

ایم کیو ایم کے رکن افتخار عالم نے کہا کہ انتظامی یونٹس کو سیاسی تناظر میں نہ دیکھا جائے ، پاکستان کی آبادی گئی گنا بڑھ چکی ہے ۔ہم سندھ توڑنے کی بات نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت کسی قومیت کے خلاف نہیں مگر ناانصافی کا ازالہ ہونا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ ہر سال اربوں اور کھربوں روپے کا بجٹ پیش ہوتا ہے ، مگر عام آدمی کی حالت نہیں بدل رہی۔انتظامی یونٹس کی بحث کو صرف سیاسی نعرے کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ نتظامی اصلاحات کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں اور عوام کو بہتر خدمات فراہم کی جائیں وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے انتظامی اصلاحات ضروری ہیں۔پیپلز پارٹی کے حسن علی شاہ نے کہا کہ صوبہ بنانے کیلئے اسمبلی میں دو تہائی اکثریت چاہئے ،ہمیں سندھ تقسیم کبھی بھی منظور نہیں۔ ایم کیو ایم کے اعجاز الحق نے کہا کہ سندھی ہمارے بھائی اور محسن ہیں،سندھیوں نے ہجرت کے بعد انصار کا کردار ادا کیا،ان سے ہمیں لڑانے کی کوشش نہ کی جائے ۔

ہم سندھیوں کے مخالف نہیں ہیں۔ ہمیں مسئلہ اشرافیہ سے ہے ، سیاست دانوں سے ہے ۔ہم سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے ۔ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد رکن اویس احمد نے کہا کہ نثار احمد کھوڑو نے تحریک التوا کیوں پیش کی ؟ وہ کیا سندھ کو بلوچستان بنانا چاہتے ہیں، کیا سندھ میں مہاجر سندھی پشتون فسادات کرانے کی کوشش ہورہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سندھ کے عوام کا فیصلہ قبول کیا جائے ۔پاکستان عوام کسی آئینی ترمیم کو نہیں مانتے ۔پیپلز پارٹی کے رکن فاروق اعوان نے کہا کہ صوبوں کے مسئلے پر انارکی پیدا ہوگی ۔سندھ کی تقسیم مسائل کا حل نہیں ہے ۔میں پنجابی بولنے والا سندھی ہوں مگر سندھ کی تقسیم کے خلاف ہوں۔ایم کیو ایم کے رکن دانیال احمد نے کہا کہ ہم سندھ کی جغرافیائی حدود میں کوئی تبدیلی نہیں چاہتے ،ہم میں کسی نے بھی سندھ کی تقسیم کی بات نہیں کی ،تقسیم کی کوئی بات نہیں ہو رہی ہے بات صرف انتظامی یونٹس کی ہورہی ہے ۔انہوں نے اپنی تقریر میں طنزیہ انداز میں مرسوں مرسوں تعلیم نہ ڈیسوں اورمرسوں مرسوں صحت نہ ڈیسوں کا نعرہ بھی لگایا۔

پی ٹی آئی کے سجاد علی سومرو نے کہا کہ ایسی کیا ضرورت پڑی کہ صوبوں پر بحث کر رہے ہیں صوبے بنانے کا مسئلہ بہت حساس ہے ۔موجودہ حکومت کو کوئی حق نہیں کہ وہ نئے صوبے بنائے ۔ پیپلز پارٹی کی خاتون رکن ندا کھوڑو نے کہا کہ نیا صوبہ صرف ایک نیا سیکریٹریٹ قائم کرنے کا نام نہیں بلکہ وہ ایک آئینی ادارہ، قانون ساز اسمبلی، انتظامی بیوروکریسی اور مالی ڈھانچے پر مشتمل ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ نئے صوبے کے قیام سے سیاسی نمائندگی، اثاثوں، واجبات اور وسائل سے متعلق نئے سوالات پیدا ہوں گے ۔ موجودہ حکومت کو نئے صوبوں کے بجائے موجودہ بلدیاتی نظام کو موثر بنانے پر توجہ دینی چاہیے ۔اگر مقصد اختیارات عوام تک پہنچانا ہے تو آرٹیکل 140 اے پر مکمل عملدرآمد کیا جائے ۔پیپلز پارٹی کے رکن جمیل احمد سومرو نے کہا کہ سندھ کے عوام نے تاریخی طور پر ہمیشہ سندھ کی تقسیم اور کراچی کے وفاقی کنٹرول کی مخالفت کی ہے مگرکچھ قوتیں ایسی ہیں جنہوں نے پاکستانی قوم کو قوم نہیں بننے دیا۔ ون یونٹ لگا کر قوم کو تقسیم کیا گیا۔ جی ایم سید بڑے مدبر تھے ، انہوں نے پاکستان کی قراداد پیش کی تھی، مگر بعد میں سندھ اسمبلی کی قراداد کو مسترد کردیا گیا۔

ایم کیو ایم کے رکن معاذ محبوب نے کہا کہ سندھ ایک ہے تو پھر یہاں دو نظام کیوں ہیں ،ای چالان صرف کراچی اور حیدر آباد میں کیوں ہے ۔ پیپلز پارٹی سندھ سے کوٹہ سسٹم کو کیوں ختم نہیں کرتی؟انہوں نے کہا کہ ہم سندھ کی تقسیم کی نہیں بلکہ صوبے کو مضبوط کرنے کی بات کررہے ہیں،انتظامی یونٹس سے سندھ مضبوط ہوگا۔ ایم کیو ایم کے باسط علی نے کہا کہ سندھ کی تقسیم کوئی نہیں چاہتا مگر جواب ہم بیڈ گورننس پر سوال اٹھاتے ہیں توسندھ کی تقسیم کے نام پر دبایا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ نہ تھر پارکر کو صوبہ ہونا چاہئے نہ کراچی کو صوبہ ہونا چاہئے سندھ توڑنے والی بات ختم ہوگئی ۔اگر انتظامی یونٹس سے سندھ کی حالت بہتر ہوتی تو اس پر بات کی جائے ۔پی ٹی آئی رکن واجد خان نے کہا کہ وفاقی حکومت سندھ کو کچھ نہیں دیتی ۔پی ٹی آئی جعلی قانون سازی کو تسلیم نہیں کرے گی۔ ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی طحہ احمد نے کہا کہ اس ایوان میں سندھ کی وحدت پر کوئی بات نہیں ہو رہی بلکہ کرپشن پر بات ہورہی ہے جس پر ہمیں کہاجاتا کہ ہم سندھ کی تقسیم چاہتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے اعجاز سواتی نے کہا کہ آئین میں صوبوں کے قیام کا طریقہ کار موجود ہے ، ہم سندھ کی وحدت پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے ۔ پیپلز پارٹی کے رکن امتیاز احمد شیخ نے کہا کہ مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ اپوزیشن کی اکثریت نے سندھ کی تقسیم کی بات نہیں کی۔ ایم کیو ایم کی ڈاکٹر فوزیہ حمید نے کہا کہ ہمیں نئے انتظامی یونٹس پر بات کرنے سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے ،نئے انتظامی یونٹس پر سنجیدگی سے بات کی جائے ۔ پیپلز پارٹی کے جام شبیر علی نے اپوزیشن سے کہا کہ وہ سندھ کی تقسیم کے خلاف ہمارا سا تھ دے ۔ایم کیو ایم کے فہیم احمدنے کہا کہ انتظامی یونٹس سے سندھ ترقی کرے گا۔ ایم کیو ایم کے انجینئر عثمان نے کہا کہ انتظامی یونٹس بنیں گے تو غریب لوگ بھی وزیراعلیٰ بن جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ہم سندھ کی تقدیر بدلنے کی بات کر رہے ہیں۔بعدازاں سندھ اسمبلی کا اجلاس بدھ کی دوپہر ایک بجے تک ملتوی کردیاگیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...