پٹرولیم لیوی کا خاتمہ، جماعت اسلامی کا احتجاج نتیجہ خیز ہوگا؟
لیوی واپس لینے کا امکان کم، جزوی ریلیف مل سکتا،لانگ مارچ کا اعلان چیلنج ہوگا
(تجزیہ: سلمان غنی)
پٹرولیم لیوی،آئی پی پیز کے خاتمے اور مہنگائی کے سد باب کیلئے جماعت اسلامی کا احتجاجی پروگرام چاروں صوبوں کے اہم شہروں اور قصبوں میں آگے بڑھ رہا ہے ، اگرچہ حکومت پر دباؤ کے حوالے سے یہ احتجاج فی الحالنتیجہ خیز بنتا نظر نہیں آ رہا تاہم یہ سلسلہ اس طرح جاری رہتا ہے تو اس کے اثرات حکومت کے لئے پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں،وجہ یہ ہے کہ اب حکومت پر اپوزیشن کے علاوہ بھی کئی طبقات کی جانب سے دباؤ آ رہا ہے ،خدشہ ہے کہ احتجاج کا یہ پرامن عمل کہیں پرتشدد واقعات میں تبدیل نہ ہو جائے ۔جہاں تک پٹرولیم لیوی کا سوال ہے تو یہ اتنا سادہ عمل نہیں کہ حکومت دباؤ میں آ کر اس میں کمی کر دے ، یہ محض پٹرولیم کی قیمت کا معاملہ نہیں رہا بلکہ یہ بجٹ آئی ایم ایف پروگرام اور حکومتی آمدن کا اہم ستون بن چکی ہے ، حکومت اس کے ذریعے خطیر رقم حاصل کرتی ہے اور اس میں کمی کا مطلب اپنے ریونیو میں کمی ہے ،ایسا ہوا تو حکومت کو کسی اور شعبے میں ٹیکس بڑھانا پڑ سکتے ہیں جبکہ اس وقت کاروبار ی صنعت اور عام شہری پہلے ہی ٹیکسوں کے دباؤ میں ہیں۔
حکومت یہ بھی سمجھتی ہے کہ عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا رحجان پریشان کن ہے اس لئے لیوی میں کمی کرنے کے بجائے اسے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے مطابق ایڈجسٹ کیا جاتا ہے ۔ حکومت کے لئے دو دھاری تلوار لٹک رہی ہے تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ اگر عوام کو نہ ملے تو حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھتا ہے اور اگر حکومت لیوی کم کرتی ہے تو اس سے قومی خزانہ کو اربوں روپے کا نقصان پہنچتا ہے لہٰذا حکومت اس دباؤ سے نکل نہیں پاتی۔جماعت اسلامی نے لیوی کو ایشو بنا کر حکومت کو دفاعی محاذ پر بھی لاکھڑا کیا ہے ،حکومت جماعت اسلامی سے پس پردہ رابطہ تو کر رہی ہے لیکن حکومت کی جانب سے کوئی واضح یقین دہانی نہ آنے سے جماعت اسلامی اپنے احتجاج میں لچک پیدا کرنے کو تیار نہیں،جماعت اسلامی کا احتجاج حکومت پر سیاسی دباؤ تو بڑھا رہا ہے مگر نتیجہ خیز نہیں بن رہا۔ عملاً دیکھا جائے تو مکمل طور پر لیوی واپس لینے کا امکان تو کم ہے لیکن حکومت سے جزوی ریلیف یا مذاکراتی پیش رفت کا امکان موجود ہے ۔دھرنے کی نتیجہ خیزی تب ہوگی جب جماعت اسلامی اسے عوامی معاشی احتجاج میں تبدیل کر پائے گی۔جماعت اسلامی کے احتجاجی دھرنے کو لے کر ایک خاص بیانیہ بھی تشکیل دیا جا رہا ہے کہ کسی اورجماعت کو احتجاج کی اجازت نہیں جبکہ جماعت اسلامی کو احتجاج کے لئے مخصوص جگہوں کی فراہمی ہو رہی ہے ۔
اس کی ایک بڑی وجہ تو جماعت اسلامی کی جانب سے پرامن احتجاج کی یقین دہانی ہے دوسرا دنیا کو یہ تاثر دینا بھی مقصود ہے کہ یہاں ڈیڈ لاک والی صورتحال نہیں، سیاسی جماعتوں کو قانون کے دائرے میں احتجاج کی اجازت ہے ۔ویسے بھی جماعت اسلامی اپنے احتجاج کو ایک خاص سطح اور درجہ حرارت سے آگے نہیں لے جا رہی کیونکہ احتجاج توڑ پھوڑ یا تصادم کی شکل میں پرتشدد بن جائے تو اصل مطالبہ پس منظر میں چلا جاتا ہے ۔امیر جماعت اسلامی کا بیانیہ اور ویژن عوامی اور سیاسی طاقت کے حصول کے لئے سلگتے ایشوز کو بنیاد بنا کر باہر نکلنے کا ہے ، اور وہ کراچی کے سیاسی محاذ پر اسی بنا پر کامیاب رہے اور بلدیاتی انتخابات میں انہوں نے بڑی کامیابی سمیٹی اب وہ یہی تجربہ پنجاب اور ملک بھر میں کرتے نظر آ رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پٹرولیم لیوی مہنگائی بجلی جیسے مسائل براہ راست عوام سے متعلق ہیں اور اس بنا پر احتجاج میں اپنے خاندان عزیز و اقارب تاجر طلبا اور خصوصاً متوسط طبقہ کو اس کا حصہ بنایا جائے ۔جہاں تک جماعت اسلامی کی جانب سے آج کی ہڑتال کی اپیل کا تعلق ہے تو یہ ہڑتال جزوی ہو سکتی ہے البتہ جماعت اسلامی اس عمل کا سیاسی فائدہ سمیٹتے ہوئے اسے بھی حکومت پر دباؤ کے لئے بروئے کار لا رہی ہے لیکن ایک خدشہ یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جماعت اسلامی بھی ستمبر کے آخری ہفتے میں اسلام آباد کے لئے لانگ مارچ کا اعلان نہ کر دے جبکہ پی ٹی آئی نے بھی 27ستمبر کے لئے اعلان کر رکھا ہے تو تب یہ احتجاج حکومت کے لئے چیلنج بن جائے گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments