ہائیکورٹ:عمارتوں کافائرسیفٹی آڈٹ،وفاق سے جواب طلب

ہائیکورٹ:عمارتوں کافائرسیفٹی  آڈٹ،وفاق سے جواب طلب

اسلام آباد(رضوان قاضی)اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت کی تمام عمارتوں کے فائر سیفٹی آڈٹ اور این او سی کے بغیر عمارتیں سیل کرنے کی درخواست پر وفاق اور دیگر فریقین سے 2 ہفتوں میں رپورٹ اور شق وار جواب طلب کرلیا۔

چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا۔ حکمنامہ کے مطابق درخواست گزار نے کہا کہ پمز آتشزدگی کے واقعے میں متعدد نومولود بچے جان کی بازی ہار گئے تھے ، درخواست گزار کے مطابق پمز واقعے نے وفاقی دارالحکومت میں فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد کی سنگین خامیاں ظاہر کر دیں، درخواست گزار کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں بڑی تعداد میں عمارتیں فائر سیفٹی کے این او سی کے بغیر فعال ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے ، درخواست گزار کے مطابق اسلام آباد فائر پریوینشن اینڈ لائف سیفٹی ریگولیشنز 2010 کے تحت سیفٹی این او سی کا حصول لازمی ہے ، وکیل کے مطابق تجارتی، رہائشی، تعلیمی اور طبی عمارتیں ضروری آلات اور ہنگامی راستوں کے بغیر استعمال کی جا رہی ہیں، وکیل کے مطابق حکام اسلام آباد کی عمارتوں کا مکمل فائر سیفٹی آڈٹ کروانے میں ناکام رہے ہیں، وکیل کے مطابق این او سی کے بغیر چلنے والی عمارتوں کی نشاندہی نہ ہونا متعلقہ حکام کی غفلت کو ظاہر کرتا ہے ، وکیل درخواست گزار کے مطابق فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد نہ ہونا آئین کے آرٹیکل 9، 14 اور 25 کی خلاف ورزی ہے ، حکم نامہ کے مطابق درخواست میں اسلام آباد کی تمام عمارتوں کا جامع فائر سیفٹی آڈٹ کرنے کی استدعا کی گئی ہے ، درخواست گزار نے بغیر این او سی چلنے والی عمارتوں کی فہرست عام کرنے کی استدعا کی ہے ۔ وکیل درخواست گزار کی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی عمارتوں کو مکمل عملدرآمد تک سیل کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...