حکومت،جماعت اسلامی مذاکرات، سیاسی محاذ پر اہم پیش رفت

حکومت،جماعت اسلامی مذاکرات، سیاسی محاذ پر اہم پیش رفت

مذاکرات کیساتھ دھرنا جاری رکھ کر جماعت اسلامی حکومت پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتی

(تجزیہ:سلمان غنی)

پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کے احتجاجی عمل پر حکومت نے جماعت اسلامی سے رابطہ کر کے مذاکراتی عمل کے ذریعہ آگے بڑھنے اور مسئلہ کا کوئی ممکنہ حل نکالنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے دوطرفہ کمیٹیاں قائم ہو گئی ہیں جو 7ستمبر پیر کے روز اسلام آباد میں ملیں گی اور طے پایا ہے کہ لیوی کے خاتمہ یا کمی کے حوالہ سے جماعت اسلامی اپنی تجاویز حکومت کے سامنے اٹھائے گی اور حکومت اور متعلقہ ذمہ داران ان پر ہمدردانہ غور کے نتیجہ میں اس پر پیش رفت کریں گے لہٰذا دیکھنا یہ ہوگا کہ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذکورہ مشاورتی عمل نتیجہ خیز ہو پائے گا ،وفاقی وزیر احسن اقبال اور وزیراعظم  کے مشیر رانا ثنا اﷲخان نے گزشتہ روز جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ میں جا کر جماعت اسلامی کی لیڈر شپ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن، لیاقت بلوچ، نذیر احمد جنجوعہ، ضیاء الدین انصاری و دیگر سے ملاقات کی۔

حافظ نعیم الرحمن نے واضح کہا کہ حکومت نے ہمیں دھرنا مؤخر کرنے کو کہا ہے لیکن مذاکرات بھی چلیں گے اور دھرنا عمل بھی جاری رہے گا یعنی جماعت اسلامی اپنے مطالبات کے حوالہ سے حکومت پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتی ہے لیکن مذکورہ مذاکراتی عمل کے حوالہ سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ سیاسی محاذ پر ایک اہم پیش رفت ہے اور حکومت ڈائیلاگ کے عمل کو آگے بڑھا کر مسائل کاحل چاہتی ہے جس کا اظہار انہوں نے منصورہ جاکر دیا ہے ، ویسے بھی جماعت اسلامی کے دھرنا احتجاج کو انتہائی پرامن اور منظم قرار دیا جا سکتا،گزشتہ روز ہڑتال کے موقع پر کچھ کارکنوں کی گرفتاریوں پر ان کی رہائی کے احکامات دئیے گئے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت جماعت اسلامی کو اپنی مخالف صف میں کھڑا ہوتا نہیں دیکھنا چاہتی،جہاں تک اس امر کا سوال ہے کہ اگر آئی ایم ایف سے معاہدہ ہے تو حکومت لیوی پر قدغن لگا پائے گی تو بظاہر یہ حکومت کیلئے بڑا مشکل کام ہے اور یہ حکومتی ریونیو کا ایک بڑا ذریعہ ہے ، حکومت لیوی کو یکسر تو ختم نہیں کرے گی لیکن کسی حد تک وہ اس میں کمی ضرور کر سکتی ہے ۔

مذکورہ مذاکراتی عمل کے بعد اب دیکھنا یہ ہوگا کہ سیاسی راستہ نکلنے کے امکان کے بعد کیا جماعت اسلامی کے دھرنوں میں وہی جذبہ اور ولولہ نظر آتا ہے جو مذاکراتی عمل سے پہلے موجود تھا اس حوالے سے یہی کہا جا سکتا ہے کہ جماعت اسلامی مذاکراتی عمل کی نتیجہ خیزی تک دھرنوں کا سلسلہ برقرار رکھے گی۔ بعض ایسے معاملات ہیں جن پر حکومت اور حکمران جماعت خود تو کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں لیکن ان ایشوز پر کسی اور جماعت کی جانب سے اختیار کئے جانے والے احتجاجی عمل پر کچھ کرنے کی پوزیشن میں آ جاتی ہے اور پھر اس سیاسی دباؤ کو قیمتوں میں کمی کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے اور عالمی اداروں کو بھی عوامی اور سیاسی دباؤ دکھا کر مطمئن کیا جا سکتا ہے ۔ البتہ جماعت اسلامی سے مذاکراتی عمل پر بعض ماہرین یہ سوال اٹھاتے نظر آتے ہیں کہ حکومت ڈائیلاگ اور بات چیت کا سلسلہ دیگر اپوزیشن جماعتوں تک کیونکر وسیع کر پاتی اگر اس طرزعمل کا مظاہرہ اپوزیشن سے ہو تو ملک میں سیاسی استحکام آ سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...