15 صوبے بنانے کا حکومتی طریقہ کار غلط : فضل الرحمن
پی پی ، پی ٹی آئی سے بات چیت کررہے ، مشترکہ لائحہ عمل بنائیں گے :گفتگو
خانیوال،لاہور(آئی این پی،مانیٹرنگ ڈیسک ) جے یو آئی (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ پاکستان کے آئین کا مذاق بنایا جا رہا ہے ، 15صوبے بنانے کا حکومتی طریقہ کار غلط ہے ،پہلے فاٹا انضمام کا فیصلہ بھی بدترین ثابت ہو چکا ۔خانیوال میں جے یو آئی(ف )کے رہنما علامہ اکرام القادری کی عیادت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے مزید کہا کہ 2 صوبے جل رہے ہیں، حکومت نئے صوبوں کی بات کر رہی ہے جبکہ حکومت عوامی اعتماد مکمل طور پر کھو چکی ،پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سے بات چیت کررہے ہیں، اسمبلی میں مشترکہ لائحہ عمل بنائیں گے۔
علاوہ ازیں جے یو آئی ف کے جنرل کونسل اجلاس اور ورکر زکنونشن سے خطاب میں مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ نوکریاں رشوت لے کر دے رہے ہیں پھر کہتے ہیں ہم نے روزگار دیا ،یہ کیسی حکومت ہے ، ہم سیاسی و معاشی طور پر عالمی دنیا کے غلام ہیں ، کبھی آئی ایف ، کبھی ورلڈ بینک کے تو کبھی کسی کے ،ہم اپنے وسائل تیل، معدنیات، تانبے وغیرہ کے ذخائر کے مالک نہیں ہیں ۔مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے ہم نے 80 سال ایک نظام میں گزار دئیے ،کیسے صوبے بنائیں گے ،صوبے بنانے کی بات پر میں آپ لوگوں کو اندر تک جانتا ہوں،۔
جب پہلے یہ بات ہوتی تھی تو تب آپ لوگ ہی تو مخالف تھے اب کونسی وحی آگئی،ہر طرف اگ لگی ہوئی ہے اور آپ لوگ کہہ رہے ہیں آؤ گھر کی تقسیم کرلیں ، کچھ عقل کرو پہلے ملک کو ٹھیک کرو ، معدنی وسائل صوبوں کی ملکیت ہیں، اٹھارہویں ترمیم کے بعد لیکن یہ ان سے برداشت نہیں ہورہا ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کا فیصلہ ان کی پارٹی اور عوام نے کرنا ہے ہم کسی کی سیاسی مخالفت نہیں کرتے ،افواج پاکستان کو میں اپنا سپاہی کہتا ہوں ، ہمارا کسی پارٹی کے ساتھ اتحاد نہیں ہم صرف عوام کا مفاد اور ملک کی معیشت ، صوبوں کے معاملہ ، کشمیر کی صورتحال، قیدیوں کی رہائی کے حامی ہیں ،ان معاملات پر ہم جو بھی کریں وہ مشترکہ حکمت عملی کے ساتھ کریں گے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments