گیس سیس کے استعمال کا دائرہ وسیع کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد (ایس ایم زمان) وفاقی حکومت نے گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (جی آئی ڈی سی) کے استعمال کا دائرہ کار وسیع اور تبدیل کرنے کے لیے قومی اسمبلی میں ترمیمی بل پیش کر دیا۔
ترمیمی بل کے مطابق وفاقی حکومت جی آئی ڈی سی کی رقم پاکستان، ایران گیس پائپ لائن منصوبے اور ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، انڈیا (تاپی)گیس پائپ لائن منصوبوں کے علاوہ دیگر گیس انفراسٹرکچر کے ترقیاتی منصوبوں پر بھی خرچ کر سکے گی۔وفاقی حکومت کے پیش کردہ ترمیمی بل کے تحت حکومت کو گیس انفراسٹرکچر کی ترقی کے ساتھ ساتھ دیگر سٹریٹجک گیس انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے بھی جی آئی ڈی سی کی رقم استعمال کرنے کا اختیار حاصل ہو جائے گا۔قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس ایکٹ 2015 میں ترمیم کے بل کے مطابق موجودہ قانون میں جی آئی ڈی سی کی رقم کے استعمال کو مخصوص گیس انفراسٹرکچر منصوبوں تک محدود کیا گیا ہے تاہم مجوزہ ترمیم کے ذریعے اس دائرہ کار کو وسیع کیا جا رہا ہے ۔بل میں گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس ایکٹ 2015 کے سیکشن 4 کی ذیلی شق ایک میں ترمیم کی تجویز دی گئی ہے ۔ مجوزہ نئی شق کے تحت کسی بھی دوسرے نافذ العمل قانون میں موجود کسی بھی بات کے باوجود جی آئی ڈی سی کو وفاقی حکومت گیس انفراسٹرکچر کی ترقی یا کسی دوسرے سٹریٹجک گیس انفراسٹرکچر منصوبے کے لیے استعمال کر سکے گی۔ مجوزہ قانون کا نام گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (ترمیمی) ایکٹ 2026 رکھا گیا ہے اور بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ منظوری کے بعد یہ قانون فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments