ہمیں ووٹ مت دیں لیکن حقوق کیلئے متحدہو جائیں،خالد مقبول
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) متحدہ قومی موو منٹ پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ہمیں ووٹ مت دیں لیکن اپنے حقوق کے لیے متحد ہوجائیں۔
حیدرآباد میں یوم دفاع کی تقریب سے خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ کسی کی اتنی اوقات نہیں کہ ہم سے حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ کا تقاضا کرے ۔انہوں نے کہا ہمیں ووٹ مت دیں لیکن اپنے حقوق کے لیے متحد ہوجائیں، یہ وقت گزر گیا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔چیئرمین ایم کیو ایم نے کہا پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے ، عوام کے سامنے فیصلہ ہوجائے کہ دھرتی ماں پاکستان ہے ، جو ناقابل تقسیم ہے ، باقی سب ایڈمنسٹریٹو یونٹ ہیں۔خالد مقبول نے یہ بھی کہا کہ 18ویں ترمیم میں ہم اس لیے شریک ہوئے کہ نہ بھی ہوتے تو پیپلز پارٹی اور ن لیگ کر لیتے ، اقتدار ایک جاگیردار سے نکل کر دوسرے جاگیردار کے پاس آکر پھنس گیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا جب فیصلے نہ آ رہے ہوں تو سڑکوں پر فیصلے ہوتے ہیں اور ایم کیو ایم نے سڑکیں دیکھی ہوئی ہیں۔ وفاقی وزیر صحت اور ایم کیو ایم کے مرکزی رہنما مصطفیٰ کمال نے خطاب میں کہا کہ بیرونی محاذ پر پاکستانی کامیابیوں سے ہم زمین سے آسمان پر پہنچ گئے ہیں، پاکستان نے تیسری عالمی جنگ رکوائی ہے۔
آج ہم سپر پاور کے ساتھ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر عزت سے بات کرتے ہیں، آج سے ایک سال قبل پاکستانیوں کی کوئی قدر نہیں تھی، آج سب قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، سپر پاورز اپنے مسائل حل کرنے کے لیے پاکستانی فیلڈ مارشل، وزیراعظم کی طرف دیکھ رہی ہیں، دنیا جان چکی ہے کہ اس ریجن میں کوئی قوم اور فوج ہے توپاکستانی فوج اور قوم ہے ۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اپنے شہدا اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ہر پاکستانی یہ دن منارہا ہے ، ایم کیو ایم شہدا اور غازیوں کو سلام پیش کرنے کے لیے یہاں جمع ہے ۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ اب ہم معرکہ حق سے معرکہ معیشت کی جانب جارہے ہیں، آج ہم 61واں یوم دفاع منا رہے ہیں، 6 ستمبر کو پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بنی، 14 اگست کی طرح اس دن کی بھی اہمیت ہے ، تمام شہدا کو زبردست خراج تحسین و عقیدت پیش کرتے ہیں۔ فاروق ستار نے مزید کہا کہ پاکستان کی اصلاحات کے ایجنڈے کو قائم کیا جائے تاکہ حکومت اور عوام کے درمیان فاصلہ ختم ہو۔انہوں نے کہا کہ اب ہم معرکہ حق سے معرکہ معیشت کی جانب جارہے ہیں، 62ویں یوم دفاع کا انتظار کریں اور دیکھیں حیدرآباد اور کراچی کس طرح قائدانہ کردار ادا کرتے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments