حوثیوں کے 4 سعودی شہریوں پر حملے: 73 افرادزخمی ، آئل تنصیبات میں آگ لگ گئی تیل کی قیمتیں 100 ڈالر بیرل، ایران کا آبنائے ہرمز سے امریکی ڈرون آبدوزقبضے میں لینے کا دعویٰ
جازان، خمیس مشیط، ابہا، نجران پرڈرونز،میزائل داغے گئے ،سعودی جنگی طیاروں کے یمنی دارالحکومت صنعا کے مشرق میں الجوبہ اور جنوب مغربی صوبے تعز پر حملے ،جواب دینگے :حوثی ترجمان امریکا کا خارگ کے قریب ایرانی ٹینکر پر حملہ،نئی پابندیاں، فتح کے بعد تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آئیں گی:ٹرمپ، ایران کا بحری اخراجی زون کے قیام سے آبنائے ہرمز کو مزید محدود کرنے کا اعلان
ریاض /قاہرہ(رائٹرز)ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں نے منگل کے روز سعودی عرب کے جنوبی حصے میں 4 شہروں کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 73 افراد زخمی ہوگئے جبکہ تیل کی تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی۔ یہ حملے مشرقِ وسطٰی میں جاری چھ ماہ پرانی جنگ کے دائرہ کار میں ایک بڑی توسیع قرار دئیے جا رہے ہیں۔ حوثیوں نے جو یمن کے زیادہ تر آبادی والے علاقوں اور دارالحکومت صنعا پر قابض ہیں، دعویٰ کیا کہ انہوں نے سعودی سرزمین کے اندر تک ایک وسیع فوجی کارروائی کی ہے ۔حوثیوں کے مطابق خمیس مشیط میں سعودی فضائی اڈے ، قریبی شہر ابہا میں سعودی سرکاری تیل کمپنی کی تنصیبات، یمنی سرحد کے قریب نجران اور بحیرۂ احمر کی اہم بندرگاہ جازان کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔ جازان میں ایک بڑی آئل ریفائنری اور پاور پلانٹ بھی موجود ہے ۔ ناسا کی سیٹلائٹ تصاویر میں جازان کی ریفائنری کے اوپر سیاہ دھوئیں کا ایک بڑا بادل دکھائی دیا، جبکہ ابہا میں تیل کی تقسیم کے ایک مرکز سے سفید دھوئیں کا ستون بلند ہوتا نظر آیا۔سعودی حکام نے تنصیبات میں آگ لگنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کی اتنی بڑی تعداد کے باعث یہ حملے سعودی عرب کے خلاف حالیہ عرصے کی بڑی کارروائیوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔
حوثیوں کے زیر انتظام میڈیا نے بعد میں رپورٹ کیا کہ سعودی جنگی طیاروں نے دارالحکومت صنعا کے مشرق میں الجوبہ کے علاقے اور جنوب مغربی صوبے تعز میں فضائی حملے کیے ۔حوثی ترجمان یحیی سریع نے ریاض پر جنگ میں شدت پیدا کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حوثی سعودی حملوں کا جواب دیں گے ۔اگست میں ایک ماہ کی نسبتاً پرسکون صورتحال کے بعد خلیج میں دوبارہ لڑائی شروع ہونے سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تقریباً 100 ڈالر فی بیرل کی سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں۔منگل کو برینٹ خام تیل کی قیمت 99.46 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو 24 جولائی کے بعد بلند ترین سطح ہے ، جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل بھی 8 جون کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے جنوب مغربی علاقوں میں حملوں سے عالمی معیشت پر جنگ کے اثرات مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے ، کیونکہ اس سے آبنائے ہرمز کے علاوہ مشرقِ وسطٰی کی دیگر توانائی سپلائی بھی متاثر ہوسکتی ہے ۔سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے کہا کہ اتحاد حوثیوں کو روکنے اور ان کے دہشت گردانہ اقدامات کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام ضروری فوجی اقدامات کرے گا۔دوسری جانب خلیج کی وسیع تر جنگ اب امریکا اور ایران کے درمیان طاقت آزمائی میں تبدیل ہوچکی ہے ۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہے ہیں۔امریکی محکمہ خزانہ نے منگل کو ایران کی ایئرلائنز کو نشانہ بنانے کے لیے نئی پابندیوں کا اعلان کیا۔
ایران نے آبنائے ہرمز کو مزید محدود کرنے کے لیے نئی کارروائیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جلد ایک ’’بحری اخراجی زون‘‘کے قیام کی تفصیلات سامنے لائے گا۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز کے دہانے پر ایک امریکی بغیر پائلٹ آبدوز کو قبضے میں لے لیا ہے ، تاہم واشنگٹن کی جانب سے فوری طور پر اس دعوے کی تصدیق نہیں کی گئی۔ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے جزیرہ خارگ کے قریب ایک چھوٹے ایرانی آئل ٹینکر کو میزائل سے نشانہ بنایا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔امریکی حملوں سے ایران کی روایتی فوجی صلاحیتوں کو نقصان پہنچنے اور اس کی معیشت پر دباؤ بڑھنے کے باوجود ایران کے میزائل اور ڈرون اب بھی خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔جنگ کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل اور ریفائن شدہ پٹرولیم مصنوعات کی قلت پیدا ہوگئی ہے ۔ امریکا میں ڈیزل کی اوسط خوردہ قیمت پہلی بار 5.90 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کرگئی ہے ، جس سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن جماعت کے سیاسی امکانات بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے ۔صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف جنگ میں فتح کے بعد تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آئیں گی اور امریکا میں پٹرول کی قیمت 3 ڈالر فی گیلن، اور بالآخر 2 ڈالر سے بھی کم ہوجائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ تیزی سے ہوگا اور ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔
اسلام آباد (نامہ نگار ،مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ایسے حملے نہ صرف بے گناہ انسانی جانوں بلکہ علاقائی امن کیلئے بھی خطرہ ہیں، ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کیلئے اپنی مضبوط حمایت کا اعادہ کرتا ہے ۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے نے کہا حوثیوں کا سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر حملہ ہے ۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق سعودی عرب کے حقِ دفاع کی مکمل حمایت کرتا ہے ۔ سعودی عرب کو اپنی سرزمین کے دفاع، اپنے شہریوں اور مقیم افراد کے تحفظ سمیت قومی اثاثوں کو ہر قسم کے خطرات سے محفوظ رکھنے کیلئے تمام ضروری اقدامات کرنے کا جائز حق حاصل ہے ۔دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان خطے میں دیرپا امن اور استحکام کیلئے اپنی تمام کوششیں جاری رکھے گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments