تحریک انصاف کا 27 ستمبر کو احتجاج ’آئینی بحران‘ : چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ ، لارجربینچ بنانے کا فیصلہ
درخواست گزار کیسے متاثرہ فریق ہیں؟:چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کااستفسار،چیف سیکرٹریز، آئی جیز،چیف کمشنر ، ڈی سی ، آئی جی اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو نوٹس ،مزیدسماعت کل جی ایچ کیو کے بعد اب اڈیالہ جیل پر حملے کا منصوبہ ہے تو ملک کیسے چلے گا؟ ، حکومت کو احتجاج پر پابندی کا اختیار :وکیل،وزیراعلیٰ پختونخوا کے احتجاج سے متعلق مختلف بیانات اور اخباری تراشے پیش
اسلام آباد (رضوان قاضی) اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف دائر درخواست پر معاملے کو آئینی بحران سے تشبیہ دی ہے اور لارجر بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے فریقین کو جواب کیلئے نوٹس جاری کرد ئیے ۔ عدالت نے چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز، آئی جیز، چیف کمشنر اسلام آباد، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور آئی جی اسلام آباد کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا، جبکہ چاروں صوبوں اور اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرلز کو بھی طلب کیا گیا ہے ۔ شہری وقاص احمد کی درخواست پر سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اسلام آباد میں کاروبار کرنے والے تاجر ہیں اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے احتجاج کے اعلان کے باعث وہ اور دیگر شہری متاثر ہوسکتے ہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ درخواست گزار متاثرہ فریق کیسے ہیں؟ ۔وکیل نے جواب دیا کہ احتجاج اسلام آباد لانے کا منصوبہ ہے ، جس سے شہریوں اور کاروباری سرگرمیوں کو مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے ۔ وکیل نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے بیانات پر مشتمل مختلف اخباری تراشے عدالت کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ افراد کے تمام معاملات پہلے ہی عدالتوں میں زیر التوا ہیں اور عدالتوں نے ان مقدمات کو قانون کے مطابق دیکھنا ہے۔
اگر زیر التوا مقدمات کی بنیاد پر سڑکوں پر احتجاج کو جواز بنایا جائے تو پورے پاکستان کے دیگر مقدمات کے فریقین بھی سڑکوں پر آسکتے ہیں۔ وکیل نے سوال اٹھایا کہ اگر جی ایچ کیو پر حملے کے بعد اب اڈیالہ جیل پر حملے کا منصوبہ ہے تو ملک کا نظام کیسے چلے گا؟، ان کا کہنا تھا کہ یہ احتجاج غیر قانونی ہے ۔وکیل نے 2024 کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس دوران اسلام آباد میں داخل ہونے کی کوشش کی گئی اور احتجاج کے نتیجے میں 3 رینجرز اہلکار جاں بحق ہوئے ، جبکہ اخباری رپورٹ کے مطابق گزشتہ احتجاج سے 24 کروڑ روپے کا مالی نقصان ہوا۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ احتجاج کا مقصد دباؤ ڈال کر ریلیف حاصل کرنا ہے ۔ آئین کے تحت حکومت کو احتجاج کے دوران قانون کے مطابق بعض پابندیاں عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے ۔ وکیل نے اسلام آباد میں احتجاج سے متعلق قانونی شقیں بھی عدالت کے سامنے پڑھ کر سنائیں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا یہ لوگ وزیراعلیٰ کے ساتھ سرکاری مشینری کے ہمراہ آرہے ہیں؟۔ وکیل نے جواب دیا کہ وہ سرکاری مشینری کے ہمراہ آرہے ہیں۔ انہوں نے وزارت داخلہ کا 21 نومبر 2024 کا خط بھی عدالت میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزارت داخلہ کے خط کے باوجود 2024 میں سرکاری مشینری استعمال کی گئی تھی۔ آج تک اسلام آباد کے ضلعی مجسٹریٹ کے پاس احتجاج کے حوالے سے کوئی درخواست نہیں آئی۔
وکیل نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کے عدالتی احکامات پیش کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے متعلقہ فریق کو اپیل پر دلائل دینے کیلے متعدد مواقع دئیے تاہم وہ اپیل پر دلائل نہیں دے رہے ۔ آئین میں عدلیہ کی آزادی کا واضح تصور موجود ہے ۔ سندھ میں مارچ جاری ہے اور وہاں یہ کہا جارہا ہے کہ سہولت فراہم کی جائے گی۔ وکیل نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے حلف کا متن بھی عدالت کے سامنے پڑھا اور مؤقف اختیار کیا کہ کیا یہ عدالتوں کو خوفزدہ کرنے کے مترادف نہیں؟۔دلائل سننے کے بعد چیف جسٹس نے معاملے کو آئینی بحران سے تشبیہ دیتے ہوئے لارجر بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔ عدالت نے معاملے کی حساسیت کے پیش نظر اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیا، جبکہ چاروں صوبوں اور اسلام آباد کے آئی جیز اور ایڈووکیٹ جنرلز کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔ کیس کی مزید سماعت کل 10 ستمبر تک ملتوی کردی گئی۔بعدازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کی سماعت کیلئے 3 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیدیا۔ چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل لارجر بینچ کل شہری کی درخواست پر سماعت کرے گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments