وفاقی حکومت ڈسکوز کی نجکاری نہیں کرسکتی صوبوں کے حوالے کریں : سینیٹ کمیٹی ، مشترکہ مفادات کونسل سے دوبارہ فیصلہ لینے کی ہدایت

 وفاقی حکومت ڈسکوز کی نجکاری نہیں کرسکتی صوبوں کے حوالے کریں : سینیٹ کمیٹی ، مشترکہ مفادات کونسل سے دوبارہ فیصلہ لینے کی ہدایت

نجکاری ہوکر رہے گی، وزیراعظم کی ہدایت ہے جو غلطیاں کے الیکٹرک کی نجکاری میں ہوئیں دہرائی نہ جائیں:اعلیٰ حکام اسلام آباد، فیصل آباد ، لاہور میں بجلی بلوں کی وصولی 98سے 100فیصد ، نجکاری کا جواز نہیں، صوبائی خودمختاری یقینی بنائی جائے آئین کے تحت بجلی فراہمی ریاست کا کام ، پرائیویٹ کمپنی یہ کیسے کر سکتی ؟صوبائی حکومتیں ڈسکوزکی ملکیت چاہتیں،سندھ کو خط لکھا:کمیٹی

اسلام آباد (سید قیصر شاہ، ذیشان یوسفزئی) پاکستان میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا معاملہ حتمی مرحلے میں داخل ہو رہا ہے وہیں پارلیمان کی جانب سے اس پر قانونی اور آئینی اعتراضات اٹھا د ئیے گئے ہیں۔ سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن کی ذیلی کمیٹی نے ڈسکوز کی مجوزہ نجکاری کا معاملہ دوبارہ مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) میں پیش کرکے آئینی تقاضوں کے مطابق فیصلہ کرنے کی سفارش کردی ۔ کمیٹی کااجلاس کنوینر ضمیر حسین گھمرو کی زیرصدارت ہوا۔ کمیٹی کاکہنا تھااسلام آباد، فیصل آباد اور لاہور میں بجلی بلوں کی وصولی بالترتیب 100، 98 اور 99 فیصد ہے ، اس لئے نجکاری کا جواز واضح نہیں، آرٹیکل 157 کے تحت صوبائی اختیارات اور خودمختاری یقینی بنائی جائے ۔ ذیلی کمیٹی نے اعتراض عائد کیا ہے کہ پہلے یہ تقسیم کار کمپنیاں واپڈا کے پاس تھیں جو کہ وفاقی حکومت کے انڈر تھی، جب سے واپڈا ختم ہوا ، انہیں صوبوں کے پاس جانا چا ہئے ۔ وفاقی حکومت اس کو پرائیویٹائز نہیں کر سکتی۔ دوسرا اعتراض یہ عائد کیا گیا کہ آئین پاکستان کے تحت بجلی فراہم کرنا ریاست کا کام ہے ، لہٰذا وہ ایک پرائیویٹ کمپنی کیسے فراہم کر سکتی ہے۔

کمیٹی نے پرائیویٹائزیشن کمیشن کے حکام کو یہ بھی بتایا ہے کہ صوبائی حکومتیں اس حوالے سے دلچسپی ظاہر کر رہی ہیں کہ وہ ان کمپنیوں کو اپنی ملکیت میں لیں ،کنوینر کمیٹی ضمیر گھمرو نے کہا کہ حکومت سندھ نے ہمیں اس بارے بذریعہ خط آگاہ کیا ہے ۔ پرائیویٹائزیشن حکام نے بتایا کہ اس حوالے سے کونسل آف کامن انٹرسٹ کا 2011 کا فیصلہ موجود ہے ، جو جینکوز کی پرائیویٹائزیشن سے متعلق تھا، لہٰذا یہ کوئی غیر قانونی کام نہیں ہے ۔ کنوینر کمیٹی نے کہا 2011 کے فیصلے کے بعد اتنا وقت گزر گیا ہے ، کونسل کی کمپوزیشن کئی مرتبہ تبدیل ہو چکی ہے ، لہٰذا کونسل آف کامن انٹرسٹ سے نیا فیصلہ لیا جائے ۔ سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا 2011 کا سی سی آئی فیصلہ موجودہ صورتحال میں متعلقہ نہیں ، کمیٹی نے 24 ایسی وفاقی وزارتوں و اداروں کو برقرار رکھنے کا مؤقف مسترد کردیا جو اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کو منتقل شعبوں سے متعلق ہیں کمیٹی نے اس حوالے سے دو ہفتوں میں عملدرآمد رپورٹ طلب کرلی ۔ اس بابت روزنامہ دنیا نے اعلیٰ حکومتی حکام سے استفسار کیا تو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر حکومتی عہدیدار نے بتایا ڈسکوز کی نجکاری کے لئے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔

اگر کونسل آف کامن انٹرسٹ جانا ہوا تو جائیں گے ، لیکن نجکاری کا عمل ہو کر رہے گا۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ پرائیویٹائزیشن کمیشن اب ڈسکوز کی پوسٹ پرائیویٹائزیشن ٹاسک پر کام کر رہا ہے ۔ وزیراعظم نے ہدایات دی ہیں کہ نجکاری کے بعد والے معاملات کلیئر کیے جائیں تاکہ بعد میں مسائل نہ ہوں۔ جو تھوڑی بہت غلطیاں کے الیکٹرک کی نجکاری میں ہوئی ہیں، وہ دوبارہ نہ دہرائی جائیں۔ کمیٹی نے پولیس کے سروس معاملات صوبوں کو منتقل کرنے آرٹیکل 159 کے تحت براڈکاسٹنگ و ٹیلی کاسٹنگ اور پرنٹ میڈیا کے امور صوبوں کے حوالے کرنے کی ہدایت کی ، سی اے اے ڈی کی اسلام آباد میں بحالی پر غور کی سفارش بھی کی گئی ،آرٹیکل 172(3) کے تحت تیل و گیس میں وفاق اور صوبوں کی مشترکہ ملکیت، بورڈز میں صوبائی نمائندگی اور حصص یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔ پی پی ایل بورڈ میں صوبائی نامزدگیاں نہ طلب کرنے کو آئینی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے متعلقہ افسران کے خلاف تحریک استحقاق لانے پر غور کیا گیا۔اجلاس میں تھر کول کے چھ پاور پلانٹس فعال ہونے سے بھی آگاہ کیا گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...