امریکا،ایران تصادم:بحری جہازوں پر سب سے بڑے حملے
تہران کا 2امریکی بحری جہازوں،8ٹینکروں،اردن میں فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ،آبنائے ہرمز کا ممنوعہ علاقہ خلیج عمان اور بحیر عرب تک وسیع کرنیکا اعلان،5ایرانی آئل ٹینکر ڈبو دئیے :امریکا،تیل مزید مہنگا دبئی کے قریب ٹینکر پر سوار 1 بحری کارکن ہلاک، دوسرا لاپتا،عراقی بندرگاہ کے قریب ٹینکرمیں آگ لگی، کویتی و بحرینی بندرگاہوں پر آئل ٹینکرز کو بھی دھمکی،سعودی عرب کے یمن میں جوابی حملے ،درجنوں ہلاکتیں
تہران،واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)ایران امریکا جنگ شروع ہونے کے بعد بحری جہازوں پر حملوں کی سب سے بڑی لہر، متحارب فریقوں نے ایک دوسرے کے ٹینکروں کو نشانہ بنا لیا۔ایران نے کہا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کے قریب 10 بحری جہازوں کو نشانہ بنایاجبکہ امریکا نے ایران کے پانچ آئل ٹینکرز کو ڈبو دیا۔رات گئے ایران کے جنوبی حصے میں آبنائے ہرمز کے قریب دھماکے کی آواز سنی گئی۔ان حملوں کے بعد تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئیں اور عالمی معیار کا برینٹ خام تیل پہلی بار جولائی کے بعد 101 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا جبکہ ایک ٹینکر پر سوار بحری کارکن کے ہلاک ہونے اور ایک دوسرے کے لاپتا ہونے کی اطلاع ہے ۔ ایران نے یہ بھی کہا کہ اس نے اردن میں امریکی افواج کے زیر استعمال اڈے پر بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ مزید حملوں پراسکا ردِعمل بڑے پیمانے پر مزید سخت ہوگا، دشمن نے ایران کے دو یا تین اہداف کو نشانہ بنایا تو ایران 20 اہداف پر حملہ کرکے جواب دے گا۔ ایران جلد سمندر میں نئے اور کہیں بڑے ممنوعہ علاقے کے نقشے جاری کرے گا، جو ایرانی ساحل کے انتہائی مشرقی حصے میں پاکستان کے قریب چابہار کے سامنے بحیرہ عرب تک پھیلا ہوگا اس میں خلیج عمان کے حصے بھی شامل ہونگے ۔
امریکی حکام نے کہا ہے کہ انہوں نے رات گئے ایران کے 5آئل ٹینکرز تباہ کر دئیے ۔ امریکا نے ایسے بحری جہازوں کی ویڈیو بھی جاری کی جنہیں ڈوبنے سے پہلے آگ کے شعلوں میں گھرا ہوا دیکھا جا سکتا تھا۔امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے کہا یہ حملے ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے گزشتہ دو روز کے دوران امریکی بحری جنگی جہاز کو دو مرتبہ بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کے جواب میں کیے گئے ۔ کسی امریکی شہری کو نقصان نہیں پہنچا۔واشنگٹن نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایرانی ٹینکرز کو نشانہ بنانے کی نئی پالیسی اختیار کی ہے ، جسے وہ اپنے جنگی جہازوں کو لاحق خطرے کے جواب میں کارروائی قرار دیتا ہے ۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کولمبیا کے دورے پرصحافیوں سے گفتگو کرتے کہاایران مسلسل امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے ، جب بھی وہ ایسا کرینگے یا ایسا کرنے کی کوشش کرینگے ، انہیں ٹینکرز سے محروم ہونا پڑے گا۔ایران کا کہنا ہے کہ وہ امریکی بحری جہازوں پر حملوں کیلئے زیادہ جدید اور طاقتور میزائل استعمال کر رہا ہے ۔ایران کے جوابی حملوں میں دو امریکی بحری جہازوں اور آٹھ ٹینکرز کو نشانہ بنانے کے اعلان کے بعداطلاعات آئیں کہ آبنائے ہرمز کے آس پاس کئی ہمسایہ ممالک کے قریب سمندری پانیوں میں بحری جہازوں کو نقصان پہنچا ہے ۔دبئی کے قریب لنگر انداز آئل پروڈکٹس ٹینکر ‘‘ہرکیولیز سٹار’’ پر سوار بحری کارکن ہلاک جبکہ عملے کا ایک اور رکن لاپتا ہوگیا۔
سمندری سلامتی ذرائع کے مطابق ممکن ہے کہ جہاز کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا ہو۔برطانوی بحری سلامتی کے ادارے یو کے ایم ٹی او نے بتایا علاقے میں موجود بحری جہاز ایک جانب جھکا ہوا تھا اور ممکنہ طور پر کسی پروجیکٹائل کی زد میں آنے پراس میں پانی داخل ہو رہا تھا۔ رائٹرز فوری تصدیق نہ کرسکا کہ یہ وہی جہاز تھا۔عراق کے بندرگاہی حکام کے دو ذرائع نے بتایا کہ نیو اینڈروس نامی ٹینکر جو 20 لاکھ بیرل فیول آئل لے کر جا رہا تھا، عراقی سمندری حدود میں ڈرون کی زد میں آنے پر آگ کی لپیٹ میں آگیا۔ جہاز کے 22 رکنی عملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔یوکے ایم ٹی او نے کہا اسے شمالی خلیج اور خلیجِ عمان میں، یعنی آبنائے ہرمز کے دونوں جانب، کئی تجارتی بحری جہازوں کو ناکارہ بنانیوالی فائرنگ کا نشانہ بنانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں تاہم فوری جانی نقصان یا ماحولیاتی اثرات کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ایران نے کویتی اور بحرینی بندرگاہوں پر موجود آئل ٹینکرز کو بھی دھمکی دی ہے ۔ بحری سلامتی کے ذریعے کے مطابق عرب امارات کی خور فکان بندرگاہ میں مائع قدرتی گیس کو نقصان پہنچا ہے ۔پاسدارانِ انقلاب نے بدھ کو یہ بھی کہا کہ اس نے مشرقی اردن میں الازرق کے قریب امریکی افواج کے زیرِ استعمال اڈے پر بیلسٹک میزائل داغتے ہوئے امریکی ایف 35 اور ایف 15 طیاروں کے ہینگرز کو نشانہ بنایا ہے تاہم اردن نے کہا کہ اسکے فضائی دفاعی نظام نے ایران سے داغے گئے 20 میں سے 18 میزائلوں کو روک لیا، دو میزائل غیر آباد علاقوں میں گرے اور کوئی نقصان نہیں ہوا۔ ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ اردن میں ایرانی حملے غیر مؤثر رہے اور تمام امریکی فوجی محفوظ ہیں۔
شمالی اردن کے علاقے الشجرہ میں بنائی گئی اور رائٹرز سے تصدیق شدہ ویڈیو میں رات کو آسمان روشن کرتے چمک دکھائی دی۔پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے کہا جنگ کے خاتمے کیلئے امریکا کو تہران کے جوہری اور میزائل پروگراموں میں مداخلت بند کرنا ہوں گی، اسرائیل کا لبنان سے انخلا اور یمن کی ناکہ بندی کا خاتمہ بھی ایران کی شرائط میں شامل ہیں۔ انہوں نے منجمد ایرانی اثاثوں میں سے 24 ارب ڈالر کی رقم جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اورممنوعہ سمندری علاقے میں توسیع بارے کہا جو بھی بحری جہاز اس حدود میں داخل ہونگے انہیں بعد ازاں آبنائے ہرمز استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہو گی، قانونی اور انشورنس خدمات بھی فراہم نہیں کی جائینگی۔ادھر آبنائے ہرمز تقریباً بند ہے ،اگرچہ امریکا کا دعویٰ ہے کہ وہ متعدد ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزارنے میں کامیاب رہاتاہم آزادانہ طور پر نگرانی کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ اس راستے سے کتنی مقدار میں تیل باہر نکل رہا ہے ، اسکا اندازہ لگانا مسلسل مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔ابتدائی اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران صرف 6بحری جہاز اپنے ٹرانسپونڈر آن کرکے آبنائے ہرمز سے گزرسکے ہیں جبکہ گزشتہ 10 دن کی اوسط تقریباً 12 جہاز روزانہ تھی۔سعودی عرب اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کے درمیان بڑھتی ہوئی لڑائی نے بھی توانائی کی عالمی منڈیوں کیلئے غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کر دیا ہے ۔ حوثی یمن کے زیادہ تر گنجان آباد علاقوں پر قابض ہیںجبکہ سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو ملک کے جنوبی حصے میں قائم ہے ، نے حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کیخلاف کئی سمتوں سے حملہ شروع کر رکھا ہے ۔ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں سعودی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دی ہے ۔منگل کو سعودی شہروں پر حوثیوں کے حملے کے جواب میں سعودی عرب نے یمن میں حملے کیے ،حوثیوں کا کہنا ہے کہ سعودی فضائی حملوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تاہم سعودی عرب نے ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments