سستے گھروں کی فراہمی ہماری ترجیح،بینک کسانوں ،ایس ایم ایز،ہاؤسنگ سیکٹر کو قرض دیں :وزیر اعظم
زرعی شعبہ معیشت میں ریڑھ کی ہڈی ، ترقی کیلئے اقدامات قومی ذمہ داری ،قرض فراہمی میں موثرکردار ادا کرنیوالے بینکوں کی حوصلہ افزائی کرینگے، شہبازشریف ،اجلاس سے خطاب اپنا گھر پروگرام کے تحت ایک لاکھ 47 ہزار 504 درخواستیں موصول، 53 ہزار 127 منظور، وزیراعظم کو بریفنگ، نئی آٹو پالیسی 2026 منظور، کابینہ اورپارلیمنٹ میں پیش کی جائیگی
اسلام آباد(نامہ نگار،مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم محمد شہبا زشریف نے کہاہے کہ کم آمدن اور متوسط طبقات کے لئے سستے گھروں کی فراہمی ہماری ترجیح ہے ،بینک اور مالیاتی ادارے کسانوں، ایس ایم ایز اور ہاؤسنگ سیکٹر کو قرضوں کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کریں۔جو بینک قرضوں کی فراہمی میں بھرپور کردار ادا کریں گے ، حکومت ان کی حوصلہ افزائی کرے گی۔ وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق ان خیالات کااظہارمالیات تک رسائی منصوبہ 2026-28کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔وزیراعظم اپنا گھر سکیم، زراعت اور ایس ایم ایز کے شعبوں کی ترقی کیلئے فنانسنگ پر پیشرفت کے حوالے سے جاری اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے کہاکہ زرعی شعبہ ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے جس کے فروغ کیلئے کام کرنا قومی ذمہ داری ہے ۔
وزیراعظم نے کسانوں کو بلا رکاوٹ اور آسان شرائط پر مالی وسائل تک رسائی یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ کم آمدن اور متوسط طبقات کے لئے سستے گھروں کی فراہمی ہماری ترجیح ہے ۔ صوبائی چیف سیکرٹریز ایسے املاک کا جامع سروے کرائیں جس کیلئے بینک اپنے گھر کے خواہشمند افراد کو "وزیراعظم اپنا گھر سکیم" کے تحت قرضہ مہیا کر سکیں۔ اجلاس کو ہاؤسنگ ، زراعت اور ایس ایم ایز کے شعبوں کی فنانسنگ کے حوالے سے اقدامات پر بریفنگ دی گئی ۔ بریفنگ میں بتایاگیاکہ وزیراعظم اپنا گھر سکیم کے حوالے سے اب تک 147,504 درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سے 53,127 درخواستیں منظور ہو چکی ہیں۔وزیراعظم اپنا گھر سکیم کے تحت منظور شدہ درخواستوں کی کل مالیت 313.42 بلین روپے ہے ، جبکہ 8,739 درخواست گزاروں کو 45.43 بلین قرضے فراہم کئے جا چکے ہیں۔ ملک بھر میں مورگیج کی شرائط پوری کرنے والے پلاٹس کی نشاندہی کے لئے نظام تیار کیا جا رہا ہے جس کا پائلٹ اسلام آباد سے ہو گا۔
اپنا گھر سکیم کو مزید مربوط بنانے کے لیے معروف ہاؤس ڈویلپرز کو اس عمل میں شامل کرنے کے لیے ایک مؤثر طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔ زرعی شعبے کے لئے بینکوں کی جانب سے قرضے کا حجم اگست 2026 میں 1.268 ٹریلین روپے رہا جبکہ ایکسیس ٹو فنانس پلان 2026-2028 کے تحت جون 2028 تک 2 ٹریلین روپے کا حدف مقرر کیاگیا ہے ۔ زرخیزی ایپ کے ذریعے آسان قرضے کے لئے 35,838 درخواستیں موصول ہوئیں ، جس کے لئے 7.35 بلین روپے منظور ہوئے جس میں سے 1.96 بلین روپے کے قرضے جاری کئے جا چکے ہیں ۔ اگست 2026 تک بینکوں کی جانب سے ایس ایم ای کے شعبے کو قرضوں کا حجم 1.067 ٹریلین روپے رہا، جبکہ ایکسیس ٹو فنانس پلان 2026-2028 کے تحت جون 2028 تک ان قرضوں کا ہدف 2 ٹریلین روپے رکھا گیا ہے ۔سمیڈا نے گزشتہ تین ماہ میں 1096 ایس ایم ایز کوفنانشل لیٹریسی کی تربیت دی۔دریں اثنانئی آٹو پالیسی 2026-31 کے مسودے پر وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس ہوا اورشہباز شریف نے اسکی اصولی منظوری دیدی، ذرائع نے کہا کہ نئی آٹو پالیسی اب آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کی جائے گی، آئی ایم ایف کی منظوری کے بعد آٹو پالیسی ای سی سی میں پیش کی جائے گی۔ کابینہ کی منظوری کے بعد نئی آٹو پالیسی پارلیمنٹ میں پیش کی جائے گی۔ نئی آٹو پالیسی کا مقصد مقامی آٹو انڈسٹری میں سرمایہ کاری، گاڑیوں کی برآمدات، مقامی پیداوار اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments