پٹرول مسلسل مہنگا، عوام کو ریلیف دینا حکومت کیلئے بڑا امتحان
پٹرولیم لیوی میں کمی، ٹرانسپورٹ و کم آمدنی والوں کیلئے ہدفی ریلیف کی ضرورت
(تجزیہ:سلمان غنی)
خلیج میں بڑھتے ہوئے بحران کے باعث عالمی منڈی میں پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے نے پاکستان کیلئے نیا معاشی چیلنج پیدا کردیا ہے ۔ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنے کے بعد خدشہ ہے کہ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کے ساتھ اشیائے ضروریہ، خصوصاً خوراک کی قیمتیں بھی مزید بڑھ سکتی ہیں۔ حکومت کیلئے اصل امتحان یہ ہے کہ عالمی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ مکمل طور پر عوام پر منتقل کیے بغیر مہنگائی کو کیسے قابو میں رکھا جائے ۔پٹرولیم کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے اثرات پہلے ہی سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ رواں ماہ کے پہلے عشرے میں پٹرول کی قیمت میں 28 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 22 روپے فی لٹر تک اضافہ ہوا ہے۔
پٹرولیم ڈویژن کے مطابق گزشتہ تین روز میں پٹرول 21 روپے 88 پیسے اور ڈیزل 14 روپے 62 پیسے فی لٹر مہنگا ہوا۔ 7 ستمبر کو پٹرول 345 روپے 87 پیسے فی لٹر تھا جو بڑھ کر 367 روپے 75 پیسے ہوگیا، جبکہ ڈیزل کی قیمت 378 روپے 5 پیسے سے بڑھ کر 392 روپے 67 پیسے فی لٹر ہوگئی۔ پٹرول کی اصل قیمت تقریباً 133 روپے فی لٹر جبکہ ڈیزل کی اصل قیمت 122 روپے فی لٹر کے قریب ہے ۔ ایک لٹر پٹرول پر تقریباً 131 روپے 60 پیسے مختلف لیوی، ٹیکس اور مارجنز کی مد میں وصول کیے جارہے ہیں، جبکہ ڈیزل پر یہ رقم 122 روپے 55 پیسے بنتی ہے ۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اثر صرف سفری اخراجات اور کرایوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ اشیائے خورونوش، صنعتی پیداوار، زراعت اور روزگار سمیت معیشت کے مختلف شعبوں پر پڑتا ہے۔
پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے سے مال بردار گاڑیوں کے اخراجات بڑھتے ہیں، جس کے نتیجے میں اشیا کی ترسیل مہنگی اور بالآخر صارفین کیلئے قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔آٹے اور روٹی کی قیمتوں میں اضافے نے بھی عوام کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ پٹرولیم لیوی بھی حکومت اور عوام کے درمیان اہم مسئلہ بن چکی ہے ۔ جماعت اسلامی پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے خلاف احتجاج اور دھرنا دے رہی ہے اور اسے عوام پر اضافی بوجھ قرار دے رہی ہے ۔ حالیہ قیمتوں میں اضافے کے بعد حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات میں لیوی کی شرح میں کمی یا کسی دوسرے ریلیف کے امکانات بھی اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق پٹرولیم کا موجودہ بحران صرف عالمی منڈی میں تیل کی قیمت بڑھنے کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کی توانائی معیشت اور ٹیکس نظام کیلئے بھی بڑا امتحان ہے ۔ اگر عالمی تیل کا بحران طویل ہوتا ہے تو حکومت کا اصل امتحان یہی ہوگا کہ وہ عوام کو ریلیف دینے اور مالیاتی اہداف برقرار رکھنے کے درمیان کس طرح توازن قائم کرتی ہے ۔ پٹرولیم قیمتوں میں مسلسل اضافے کے ساتھ خوراک اور بجلی بھی مہنگی ہوئی تو عوامی بے چینی بڑھ سکتی ہے ، جس سے حکومت پر سیاسی دباؤ میں بھی اضافہ ہوگا۔ حکومت کیلئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ عوام کو یہ احساس نہ ہونے دیا جائے کہ مہنگائی کے بڑھتے بوجھ کے مقابلے میں انہیں تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments