2025:بچوں سے زیادتی کے 17 ہزار واقعات، پنجاب سرفہرست
پنجاب 12,800، سندھ 3,187، پختونخوا 855، اسلام آباد میں 431 مقدمات متاثرین میں 65فیصد لڑکیاں، 35فیصد لڑکے ، 2,378مقدمات میں کم عمر بچے
اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی) پاکستان میں بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے ۔ نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ (این سی آر سی) کے مطابق یکم جنوری سے 31 دسمبر 2025 تک ملک بھر میں بچوں سے زیادتی اور جنسی جرائم کے 17,348 مقدمات درج ہوئے ۔ پنجاب میں سب سے زیادہ 12,800 مقدمات درج ہوئے جو مجموعی تعداد کا 74 فیصد ہیں۔ سندھ میں 3,187 (18 فیصد)، خیبرپختونخوا میں 855 (5 فیصد)، اسلام آباد میں 431 (2.5 فیصد) جبکہ بلوچستان میں 75 (0.4 فیصد) مقدمات درج ہوئے ۔این سی آر سی کے مطابق متاثرین میں 65 فیصد لڑکیاں اور 35 فیصد لڑکے شامل ہیں۔ 11 سے 17 سال کے بچوں کے مقدمات کل تعداد کا 86 فیصد ہیں، جبکہ 2,378 مقدمات میں 10 سال یا اس سے کم عمر بچے متاثر ہوئے ، جو 13 فیصد بنتے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق جبری شادی یا جنسی استحصال کیلئے اغوا اور زبردستی لے جانے کے 8,205 مقدمات سب سے بڑی کیٹیگری ہیں۔
کم عمر افراد سے ریپ اور جنسی زیادتی کے 5,024، نان پینیٹریشنل سیکس کے 3,163 اور بہلا پھسلا کر جنسی زیادتی کے 2,847 مقدمات درج ہوئے ۔ 281 مقدمات میں بچوں کو نشہ آور چیز دینے کے واقعات شامل تھے ۔ماہرین کے مطابق پاکستان میں ڈارک ویب کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے ، جہاں بچوں سے زیادتی کی ویڈیوز بنائی اور شیئر کی جاتی ہیں۔ این سی آر سی نے واقعات کی روک تھام کیلئے ہر ضلع میں مکمل عملے کے ساتھ ڈسٹرکٹ چائلڈ پروٹیکشن یونٹس قائم کرنے ، تربیت یافتہ کیس منیجرز تعینات کرنے اور ہسپتالوں میں چائلڈ پروٹیکشن کمیٹیاں بنانے کی سفارش کی ہے ، جہاں طبی، فرانزک، قانونی اور نفسیاتی سہولیات ایک جگہ دستیاب ہوں۔کمیشن نے صوبائی سطح پر سروائیور سپورٹ فنڈ کے قیام، ٹرائل کے بعد کم از کم 12 ماہ تک بحالی و فالو اپ، تحقیقات اور میڈیا کوریج کے دوران بچوں کی شناخت و ڈیجیٹل ڈیٹا کی رازداری یقینی بنانے اور بچوں سے جنسی زیادتی کیخلاف قومی ایکشن پلان بنانے کی بھی سفارش کی ہے ۔ اینٹی ریپ ایکٹ 2021 پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments