سول سروس اصلاحات پیکیج تیار، ترقی کارکردگی سے مشروط

سول سروس اصلاحات پیکیج  تیار، ترقی کارکردگی سے مشروط

اسلام آباد (مدثر علی رانا) وفاقی سول سروس میں اصلاحات کیلئے سمارٹ اصلاحات پیکیج تیار کر لیا گیا۔

 دستاویز کے مطابق سول سرونٹس ایکٹ 1973ء میں 12 اور رولز آف بزنس 1973ء میں 10 ترامیم تجویز کی گئی ہیں جبکہ اصلاحات کیلئے 3 نئے قوانین بنانے کی سفارش کی گئی ہے ، آئین میں ترمیم کی ضرورت نہیں ہوگی۔اصلاحاتی کمیٹیوں نے بھارت سمیت 25 ممالک کے سول سروس نظام کا جائزہ لیا۔ بھرتی، تربیت، کارکردگی جانچنے ، تنخواہوں اور ترقی کے طریقہ کار میں تبدیلی کی سفارش کی گئی ہے ۔ ترقی، تعیناتی اور مراعات سنیارٹی کے بجائے کارکردگی اور قابلیت سے مشروط کرنے کی تجویز ہے جبکہ افسران کی کارکردگی پالیسی اور عوام کو فراہم کئے جانے والے نتائج کی بنیاد پر جانچی جائے گی۔احسن اقبال کی سربراہی میں وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی نے حتمی سفارشات تیار کی ہیں، جن کی منظوری وزیراعظم سے لی جائے گی۔ عملدرآمد کیلئے کمیٹی قائم کرکے وزیراعظم کو ماہانہ رپورٹ پیش کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے ۔دستاویز کے مطابق سی ایس ایس امتحان برقرار رہے گا، امیدوار کیلئے 5 پرچوں اور اردو و انگریزی کی عملی مہارت کی شرط بھی برقرار رہے گی۔ ابتدائی ٹیسٹ میں کامیابی کی حد 33 سے بڑھا کر 40 فیصد کرنے ، منفی مارکنگ ختم کرنے اور تجزیاتی صلاحیت جانچنے کا حصہ شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔

بھرتی کا عمل 6 ماہ یا اس سے کم مدت میں مکمل کرنے کی تجویز ہے ۔نیشنل، سینئر اور مڈ کیریئر مینجمنٹ کورسز میں داخلہ مسابقتی امتحان کے ذریعے دینے ، نیشنل یونیورسٹی آف پبلک ایڈمنسٹریشن قائم کرنے اور مختلف خصوصی تربیتی ادارے ضم کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔ ہر وزارت اور وزیراعظم کے درمیان سالانہ کارکردگی معاہدہ جبکہ سال میں 2 بار کارکردگی کا جائزہ لینے کی تجویز ہے ۔گریڈ 20 اور اس سے اوپر کیلئے نیشنل ایگزیکٹو سروس قائم کرنے ، 11 نئے پیشہ ورانہ گروپس بنانے اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ہیومن ریسورس آرگنائزیشن ڈیویلپمنٹ ڈویژن میں تبدیل کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔ افسران کی تعیناتی کی مدت مقرر ہوگی اور قبل از وقت تبادلے کیلئے وجوہات ریکارڈ پر لانا ہوں گی۔ملازمین کے اخراجات کا 5 فیصد کارکردگی کی بنیاد پر اعزازی رقوم کیلئے مختص کرنے ، 3 سطحی کارکردگی درجہ بندی نظام متعارف کرانے اور قومی سطح پر نگرانی کیلئے سول سروس پرفارمنس ریویو بورڈ قائم کرنے کی سفارش ہے ۔ گریڈ 21 سے اوپر وفاقی و صوبائی سروسز کے درمیان افسران کی منتقلی کی اجازت دینے کی تجویز بھی شامل ہے ۔سفارشات میں ریٹائرمنٹ پر ملازمین کو 50 لاکھ روپے یکمشت پیکیج دینے ، سالانہ مہنگائی کے حساب سے تنخواہوں میں اضافہ، حکومت کی ضمانت پر گاڑیوں کے قرضے اور وفاقی سیکرٹریٹ میں کارکردگی سے منسلک تنخواہوں کا پائلٹ پروگرام شامل ہے ۔کمیٹی نے پاک فوج کی ہیومن ریسورس پالیسی سے اہم اصول اپنانے ، بھرتی کے وقت سائیکومیٹرک اور ایموشنل انٹیلی جنس ٹیسٹ، سپیشلائزیشن کی بنیاد پر پوسٹنگ اور افسران کی ترقی سے قبل کارکردگی کے جائزے کی سفارش بھی کی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...